حضرت مولانا رومی رح کی سب سے بڑی فکر وہ تھی جس کا ان کو خود تجربہ تھا یعنی خشک علم جس کے ساتھ محبت کا کرنٹ نہ ہو وہ علم کی اصل دولت سے محروم کردیتا ہے ۔یہی بات خود ان کے ساتھ پیش آئی تھی ۔اسی کی اصلاح کے لئے حضرت شمس تبریز رح نے ان کو جبکہ وہ صرف قال آشنا تھے ان کو حال آشنا کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے مولانا رومی رح کے دل کی آواز مثنوی کے اس شعر میں سمٹ آئی ۔
قال را بگزار مرد حال شو
پیش مردے کاملے پامال شو
اس کا مفہوم یہ ہے کہ صرف خشک علم کو کچھ دیر کے لئے معطل کردے اور اس کی روح یعنی حال سے اپنے آپ کو آشنا کر دے ۔اس کے لئے تجھے کسی مرد کامل کے پاس جانا ہو گا۔ کیونکہ 'علم' علم کے ماخذوں سے حاصل ہو سکتا ہے اور 'حال' اہل حال سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ علم اگر صرف الفاظ ہوں تو کتاب سے بھی مل سکتا ہے لیکن حال کتاب سے نہیں حاصل ہوسکتا کیونکہ وہ حال کا حامل ہو ہی نہیں سکتا۔ حضرت مولانا رومی ؒ کی دوسری فکر یہ تھی کہ جب تک حب الٰہی حاصل نہ کیا جائے اس وقت تک شریعت کی سمجھ ہی نہیں آ سکتی ۔شیطان جانتا تھا کہ خدا اس کو حکم دے رہا ہے کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو لیکن اس کو خدا کا علم تو تھا لیکن خدا کے ساتھ محبت نہیں تھی لہٰذا اپنے نفس کے تقاضے سے مجبور ہو کر اس نے وہ کچھ کر دیا جس نے اس کا ناس کر دیا۔ حضرت مولانا رومی اسی لئے عشق کو آفرین کہہ رہے ہیں اور اس کے حصول کو تمام مسائل کا حل گردانتے وہ یوں رقمطراز ہیں ۔
شہر کر ا جامے ذ عشقے چاک شد
او ز حرص و عیب کلی پاک شد
شاد باش اے عشق خوش سودائے ما
وے طبیب جملہ علت ہائے ما
جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے کپڑے عشق کی وجہ سے چاک ہوئے وہ حرص سے اور ہر عیب سے پاک ہو گیا۔ اے عشق کہ تو ہماری تمام بیماریوں کا طبیب ہے ہمیشہ قائم رہ ۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ دنیا کی محبت از روئے حدیث تمام روحانی بیماریوں کی جڑ ہے اور جب تک کسی کو عشق حقیقی کا چسکا حاصل نہیں ہوتا وہ دنیا کی محبت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرسکتا ۔پس عشق الٰہی ہی تمام روحانی بیماریوں کا علاج ہے ۔
Home
Unlabelled
مولانا رومی اور تصوف
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Post A Comment:
0 comments so far,add yours