حضرت لقمان ایک روز مجلس میں لوگوں کو حکمت ودانائی کی باتیں سنا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا :
" تم وہی ہو جو میرے ساتھ فلاں جنگل میں بکریاں چرایا کرتے تھے ...؟ 
آپ نے فرمایا :
" جی ہاں! میں وہی ہوں ... "
اس نے کہا کہ :
" پھر تم کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا کہ مخلوق تمہاری تعظیم کرتی ہیں اور تمہارے کلمات حکمت سننے کے لئے  دور دور سے جمع ہوتے  ہیں ... ؟ "
آپ نے فرمایا :
" اس کی وجہ میرے دو کام ہے ...
■ ہمیشہ سچ بولنا ،
■ فضول باتوں سے اجتناب کرنا . "
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :
" چند کام ایسے ہیں جنہوں نے مجھے اس مقام پر پہنچایا ہے اگر وہ کام تم بھی کرلو تمہیں بھی یہی درجہ و مقام حاصل ہو جائیں گا وہ کام یہ ہیں :
■ اپنی نگاہ کو پست رکھنا ،
■ زبان کو روکے رکھنا ،
■ رزق حلال کھانا ،
■ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا ،
■ سچی بات کرنا ،
■ عہد کو پوری کرنا ،
■ مہمان کا اکرام کرنا ،
■ پڑوسی کی حفاظت کرنا ،
■ فضول باتوں اور فضول کاموں کو چھوڑ دینا .
(تفسیر القران العظیم للامام ابن کثیر ، ج ۳/ ۴۴۳)
Share To:

Post A Comment: