Articles by "Islamic Stories"
Showing posts with label Islamic Stories. Show all posts

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد، حضرت سارہؑ سے ہوئی، لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ایک دن حضرت سارہؑ نے اُن سے فرمایا’’ آپؑ، ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ تعالیٰ اُن کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘ دراصل، یہ سب کچھ مِن جانب اللہ ہی تھا۔ چناں چہ، آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ 86سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور’’ اسماعیل‘‘ نام رکھنے کو کہا۔ حضرت اسماعیلؑ اٹھارہ سو قبلِ مسیح میں پیدا ہوئے۔

ایک نئی آزمائش

حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ اُنھیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ بہ حکمِ الہٰی نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دُور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا، نہ چرند پرند۔اور آدم تھا، نہ آدم زاد۔

بے آب و گیاہ ویرانے میں

وادیٔ فاران کے سنگلاخ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا کے ایک بوڑھے درخت کے نیچے، اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ چند روز سے قیام پزیر ہیں۔ جو زادِ راہ ساتھ تھا، ختم ہو چُکا۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں کو اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری اَمر ہے، لیکن اس لق و دق صحرا میں پانی کہاں…؟جوں جوں لختِ جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں قریب واقع پہاڑی،’’صفا‘‘پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔ تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی’’مروہ‘‘پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔

آبِ زَم زَم کا جاری ہونا

ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت جبرائیل امینؑ کے ذریعے شیر خوار اسماعیلؑ کے قدموں تلے دنیا کے سب سے متبرّک اور پاکیزہ پانی کا چشمہ جاری کر کے رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام دے دیا کہ اللہ پر توکّل کرنے والے صابر و شاکر بندوں کو ایسے ہی بیش قیمت انعامات سے نوازا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ’’ اللہ پاک، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی والدہ پر رحمت فرمائے، اگر وہ پانی سے چُلّو نہ بھرتیں اور اُسے رُکنے کا نہ کہتیں، تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔‘‘ آبِ زَم زَم غذا بھی ہے اور شفا بھی۔ دوا ہے اور دُعا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ماں، بیٹے کے لیے بہترین غذا کا بندوبست کیا، بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے فیض یاب ہونے کا وسیلہ بنا دیا۔

مقدّس ترین شہر

حضرت ہاجرہؑ اپنے صاحب زادے کے ساتھ وہیں رہ رہی تھیں کہ ایک روز عرب کے قبیلے، بنو جرہم کے کچھ لوگ پانی کی تلاش میں وہاں پہنچے اور حضرت ہاجرہؑ کی اجازت سے وہاں رہائش اختیار کر لی۔ پھر دوسرے قبائل بھی وہاں آ آ کر آباد ہوئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ سُنسان صحرا دنیا کے سب سے مقدّس و متبرّک اور عظیم شہر، مکّہ مکرّمہ میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ہاجرہؑ نے بیٹے کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر خصوصی توجّہ دی۔

سِکھائے کس نے آدابِ فرزندی

تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پَلک جھپکتے گزر گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام مکّے کی مقدّس فضائوں میں آبِ زَم زَم پی کر اور صبر و شُکر کی پیکر، عظیم ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے مالک، خُوب صورت نوجوان کا رُوپ دھار چُکے تھے کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السّلام تشریف لائے اور فرمایا’’اے بیٹا!مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمھیں ذبح کر رہا ہوں، تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟(فرماں بردار بیٹے نے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہوئے فرمایا)،ابّا جان! آپؑ کو جو حکم ہوا ہے، وہی کیجیے۔اللہ نے چاہا، تو آپؑ مجھے صابرین میں پائیں گے۔‘‘(سورۃ الصٰفٰت102:37) حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا؎ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔

مِنیٰ کی جانب سفر اور شیطان کی چالیں

حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کا جواب سُنا، تو اُنہیں سینے سے لگایا اور حضرت ہاجرہؑ کے پاس لے آئے۔ فرمایا’’ اے ہاجرہؑ!آج ہمارے نورِ نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجیے۔‘‘ممتا کے مقدّس، شیریں اور اَن مول جذبوں میں ڈوبی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک پہنائی۔ آنکھوں میں سُرمہ، سَر میں تیل لگایا اور خُوش بُو میں رچا بسا کر باپ کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار کر دیا۔اسی اثنا میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی ایک تیز دھار چُھری کا بندوبست کر چُکے تھے۔ پھر بیٹے کو ساتھ لے کر مکّے سے باہر مِنیٰ کی جانب چل دیئے۔شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی۔ جب اُس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہو گیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ چناں چہ’’ جمرہ عقبیٰ‘‘ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ’’ جمرہ وسطیٰ‘‘ کے مقام پر پھر وَرغلانے کے لیے آ موجود ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے دوبارہ کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ’’ جمرہ اولیٰ‘‘ کے مقام پر پھر موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو ابراہیم خلیل اللہؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔“
ﺁﺝ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﭩﮭﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﻼ ﯾﮧ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺧﻄﺎ ﮐﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ۔
ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﻭ ﯾﻮﻡ ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﻃﻠﺐ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﺩﮮ ﺩﯼ۔ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮦ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺟﺘﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﻼ ﻭﮦ ﮐﺴﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺎﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻭﺍﺩﯾﺘﺎ۔ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮑﺘﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ، ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻧﮑﺘﮯ ﮐﻮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﺎ ﻻﺋﺤﮧ ﻋﻤﻞ ﻃﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺩﻭ ﺩﻥ ﺟﮭﭧ ﭘﭧ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﭘﺎﻧﭻ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺏ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﺭﺳﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯾﺪﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﯿﮏ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺧﺮ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻮﺗﻮﺍﻝ ﻧﮯ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﮯ، ﺍﻥ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻢ ﻏﻔﯿﺮ ﺍﻣﮉ ﺁﯾﺎ۔ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺸﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﺷﺎﮨﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﺠﻮﻡ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﺮﺍﺟﻤﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻋﺎﻟﻢ ﭘﻨﺎﮦ، ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺷﯿﺎﺀﻣﯿﮟ ﻣﻼﻭﭦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻟﺤﻈﮧ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺖ ﻧﺌﮯ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﺍ ﮨﮯ، ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﮌﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﻮﭦ ﺩﯾﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻧﻮﭦ ﮨﯽ ﻧﻮﭦ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﺳﮯ ﻣﻼﻭﭦ ﻭﺍﻻ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻋﺎﻟﻢ ﭘﻨﺎﮦ، ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻏﯿﺒﺖ، ﭼﻐﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﺮﯼ ﮨﮯ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ، ﺗﺮﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺯﺑﺎﻥ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﭘﮭﯿﻼﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺳﺮﺥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺟﺎﺅ ﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﻭ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮏ ﺑﮏ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻞ ﺳﮑﮯ۔ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ، ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ، ﯾﮧ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺭﺍﺷﯽ ﮨﮯ، ﺣﺎﻻﮞ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﮭﻠﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪﮮ ﺳﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﭩﻮﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﭘﺎﺭﮦ ﭼﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﻭﯾﮧ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻧﻮﭦ ﮔﻨﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﻮﭦ ﮔﻨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺿﺮﺏ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﮭﮑﺎﺩﻭ ﮐﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺟﺎﺋﺰ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﭘﯿﺴﮧ ﻧﮧ ﭘﮑﮍﺳﮑﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺍﺏ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﮔﺌﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﯾﮧ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﮯ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺑﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﮭﯿﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﺨﺖ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ۔ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺳﮯ ﺟﯿﻞ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ، ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﻏﻢ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔
ﭘﺎﻧﭽﻮﺍﮞﮕﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﯽ ﺟﺎﮦ ﻭ ﺟﻼﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻋﺰﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﺠﺮﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮒ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ، ﯾﮧ ﭘﺎﻧﭽﻮﺍﮞ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ ﮨﮯ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﻮﺩ ﺻﺎﻑ ﺳﺘﮭﺮﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ، ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺮﻋﻮﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺣﻀﻮﺭ ! ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﻗﺎﺋﮯ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺠﺮﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻗﻮﻡ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ، ﺟﻮﺍ، ﺷﺮﺍﺏ، ﭼﻮﺭﯼ، ﺑﺪﻣﻌﺎﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﻋﺘﻨﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺗﺒﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻗﻮﻝ ﻭ ﻓﻌﻞ ﮐﮯ ﺗﻀﺎﺩ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﻗﮩﺮ ﺁﻟﻮﺩ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺳﮑﯿﮟ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﭘﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﭘﺮ ﺳﮑﺘﮧ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻭ ﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺯﺭﺩ ﭘﮍﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ ﺭﺣﻢ، ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺳﺰﺍ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻧﮧ ﻻﮔﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﭨﺲ ﺳﮯ ﻣﺲ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺟﺎﮦ ﻭ ﺟﻼﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ، ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻗﺎﺿﯽ ﺑﻮﻝ ﭘﮍﺍ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺻﺎﺩﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮐﻮ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺑﮯ ﻋﻤﻠﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ﺧﻄﺎﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺳﺰﺍ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺛﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﻥ ﺗﮭﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﻭ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺳﮑﮯ۔
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﻧﮩﯿﮟ ﻃﺮﺯ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻓﮑﺮ ﮐﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺁﻗﺎﺋﮯ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯﮎ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﺣﮑﯿﻢ ﮨﮯ۔ 

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﺎﺭﻭﻥؑ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖؑ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻧﻮ ﺳﻮ ﻗﺒﻞِ ﻣﺴﯿﺢ ﺍُﺭﺩﻥ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ’’ ﺟِﻠﻌﺎﺩ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻨﺪ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺫﮐﺮِ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﻭ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﺍٓﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺍﺳﻢِ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺻﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ، ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﺧﺘﺼﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻭ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺍﻭﺭ ﻭﻋﻆ ﻭ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ۔ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺻﺎﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﺍٓﯾﺖ 123 ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ‘‘ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻟﯿﺎﺱ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﯾﻮﺣﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ’’ ﺍﯾﻠﯿﺎ ﻧﺒﯽ ‘‘ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﻧﺴﺐ ﻧﺎﻣﮧ ﯾﻮﮞ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ’’ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﻦ ﯾﺎﺳﯿﻦ ﺑﻦ ﻓﺨﺎﺹ ﺑﻦ ﯾﻌﺰﺍﺯ ﺑﻦ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﯾﺎ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺯ ﺑﻦ ﺍﻟﯿﻌﺰﺍﺯ ﺑﻦ ﮨﺎﺭﻭﻥ ۔ؑ ‘‘

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﯽ ﺑﻌﺜﺖ

ﻗﺮﺍٓﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﺐ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﮨﻮﺋﮯ؟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻣﺘﻔّﻖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍٓﭖؑ، ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺰﻗﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺴﻊ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺩﻭ ﺣﺼّﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭧ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺣﺼّﮧ ﯾﮩﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﯾﮩﻮﺩﯾﮧ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ، ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪِﺱ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺣﺼّﮧ، ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﭘﺎﯾﮧٔ ﺗﺨﺖ ﺳﺎﻣﺮﮦ ‏( ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻧﺎﺑﻠﺲ ‏) ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﮑﻢ ﺭﺍﮞ ﺗﮭﺎ، ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﻣﯿﮟ ’’ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﺗﻮﺍﺭﯾﺦ ﻭ ﺗﻔﺎﺳﯿﺮ ﻣﯿﮟ ’’ ﺍﺟﺐ ﯾﺎ ﺍﺧﺐ ‘‘ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ، ﺍﯾﺰﺑﻞ، ’’ ﺑﻌﻞ ‘‘ ﻧﺎﻣﯽ ﺑُﺖ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺎﺭ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮔﺎﮦ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺧﻄّﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﯿﮟ۔ ‏( ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦِ ﺟﺮﯾﺮ، ﺝ 23 ، ﺹ 53 ‏) ﻣﻮٔﺭﺧﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮّﯾﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺘﻔّﻖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﻣُﻠﮏِ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻔﺮ ﻭ ﺷﺮﮎ ﺍﻭﺭ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺭﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺍٓﺋﯿﮟ۔
ﻗﻮﻡِ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺩﯾﻮﺗﺎ

ﺑﻌﻞ ﺑُﺖ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑُﺖ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﺪ 20 ﮔﺰ ﺗﮭﺎ، ﭼﺎﺭ ﻣﻨﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺗﮭﮯ۔ ‏( ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻤﻌﺎﻓﯽ ﺟﻠﺪ 23 ، ﺹ 627 ‏) ﯾﻤﻦ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﯾﮩﯽ ﺗﮭﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﯿﮑﮍﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ،ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺷﻊ ؑ ﺑﻦ ﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺩَﻭﺭﺍﻥ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻣﯿﻠﮯ ﻟﮕﺘﮯ، ﻣﻨّﺘﯿﮟ ﻣﺎﻧﯽ ﺟﺎﺗﯿﮟ، ﺳﻮﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻧﺬﺭﺍﻧﮯ ﭼﮍﮬﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ، ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﺑُﻮﺋﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻧﯽ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﺧﺎﺹ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﻨﭧ ﺑﮭﯽ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻋﺒﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺍٓﻗﺎ، ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ، ﻣﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﻌﻞ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﻣﻮٔﺭﺧﯿﻦ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺠﺎﺯ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺑُﺖ، ﮨﺒﻞ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﻞ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﮑﻞ ﺗﮭﺎ۔ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩِ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ’’ ﺗﻢ ﮈﺭﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺑﻌﻞ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ‏( ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﭘﻮﺟﺘﮯ ﮨﻮ ‏) ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﮔﻠﮯ ﺑﺎﭖ، ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮨﮯ ‘‘ ، ﺗﻮ ﺍُﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ ﺩﯾﺎ۔ ﺳﻮ، ﻭﮦ ﺩﻭﺯﺥ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﮨﺎﮞ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺧﺎﺹ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﺒﺘﻼﺋﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ‏( ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ‏) ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮐﮭﺎ۔ ﺍِﻝ ﯾﺎﺳﯿﻦ ‏( ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ‏) ﭘﺮ ﺳﻼﻡ ﮨﻮ۔ ﺑﻼﺷﺒﮧ ﮨﻢ ﻧﯿﮑﻮ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﻟﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭﮦٔ ﺻﺎﻓﺎﺕ 132 ۔ 123 ‏)

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﻣُﻠﮏِ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﮩﺮ ’’ ﺑﻌﻠﺒﮏ ‘‘ ‏( Baalbek ‏) ﮐﻮ ﺭُﺷﺪ ﻭ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﻌﻞ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﮐﺎ ﺑُﺖ ﺍﺳﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ، ﺳﺘﺎﺭﮦ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻔﺮ ﻭ ﺷﺮﮎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﯾﻢ ﻣﺮﮐﺰ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﻌﻠﺒﮏ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺑُﺖ، ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﺗﮭﺎ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻔﺮﺳﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﻭﻋﻆ ﻭ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺎ ﺍٓﻏﺎﺯ ﮐﯿﺎ۔ﺍٓﺝ ﺑﻌﻠﺒﮏ ﻟﺒﻨﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﺪﯾﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﮩﺮ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮭﻨﮉﺭﺍﺕ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻮﮐﺖ ﮐﮯ ﻣﻈﮩﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻄﺢِ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ 1150 ﻣﯿﭩﺮ ﺑﻠﻨﺪ ﯾﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﻠﮑﮧٔ ﺑﻠﻘﯿﺲ ﮐﻮ ﺑﮧ ﻃﻮﺭ ﺣﻖ ﻣَﮩﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻗﺼﺮِ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﻮﻧﺎﻧﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ’’ ﺷﮩﺮِ ﺍٓﻓﺘﺎﺏ ‘‘ ﯾﺎ ’’ ﻣﺪﯾﻨۃ ﺍﻟﺸﻤﺲ ‘‘ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ۔ﻧﯿﺰ، ﺭﻭﻣﯽ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻣﯽ ﺣﮑﻢ ﺭﺍﮞ، ﺍٓﮔﺴﭩﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻮﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ 1154 ﻋﯿﺴﻮﯼ ‏( 549 ﮨﺠﺮﯼ ‏) ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺭ ﺍﻟﺪّﯾﻦ ﺯﻧﮕﯽؒ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ۔ 1170 ﻋﯿﺴﻮﯼ ‏( 565 ﮨﺠﺮﯼ ‏) ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺯﻟﺰﻟﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺷﮩﺮ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﻧﺌﮯ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮨﻮﺍ۔ ﯾﮩﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﺎ ﻣﺰﺍﺭ ﮨﮯ۔
ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺭﻭﯾّﮧ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﮐﺶ ﻣﮑﺶ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ’’ ﺗﻔﺴﯿﺮِ ﻣﻈﮩﺮﯼ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺑﻐﻮﯼؒ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺗﻔﺎﺳﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻭﮨﺐ ﺑﻦ ﻣﻨﺒﮧؒ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﻌﺐ ﺍﻻﺣﺒﺎﺭؒ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﺎﺧﻮﺫ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺧﻼﺻﮯ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻗﺪﺭِ ﻣﺸﺘﺮﮎ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ، ﺍُﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻔﺘﯽ ﻣﺤﻤّﺪ ﺷﻔﯿﻊ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ’’ ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ’’ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﻮ ﺑﻌﻞ ﻧﺎﻣﯽ ﺑُﺖ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ، ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ، ﺍﯾﺰﺑﻞ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩُﻭﺭ ﺍﻓﺘﺎﺩﮦ ﻏﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺻﮧٔ ﺩﺭﺍﺯ ﺗﮏ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﺭﮨﮯ۔ ﺑﻌﺪﺍﺯﺍﮞ، ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺩُﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻗﺤﻂ ﮐﻮ ﺩُﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍٓﭖؑ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﺩِﮐﮭﺎﺋﯿﮟ، ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺍٓﺋﯿﮟ۔ ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﻗﺤﻂ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ’’ ﯾﮧ ﻋﺬﺍﺏ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺯ ﺍٓ ﺟﺎﺋﻮ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﻋﺬﺍﺏ ﺩُﻭﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﭽّﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﮯ۔ ﺗﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﻌﺒﻮﺩ، ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﻧﺒﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍُﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ ﻭﮦ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻣَﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍٓﺳﻤﺎﻧﯽ ﺍٓﮒ ﺍٓ ﮐﺮ ﺑﮭﺴﻢ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺩﯾﻦ ﺳﭽّﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ‘‘ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺎ۔ ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﮐﻮﮦِ ﮐﺮﻣﻞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﺗﮏ ﺑﻌﻞ ﺳﮯ ﺍﻟﺘﺠﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺍٓﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺍٓﮒ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺟﻼ ﮐﺮ ﺑﮭﺴﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﺌﮯ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺣﻖ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻧﺒﯽ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ، ﺍﯾﺰﺑﻞ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ، ﺍﻟﭩﯽ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺰﺍﺋﻢ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ، ﺗﻮ ﺍٓﭖؑ ﺭﻭﭘﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣُﻠﮏ، ﯾﮩﻮﺩﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﺑﻌﻞ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﮐﯽ ﻭﺑﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﯿﻞ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﺳُﻨﯽ ،ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﺒﺎﮦ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍٓﭖؑ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺭﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪﺍﻋﻤﺎﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺭﮨﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ۔ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍﻥ، ﺟﻠﺪ 7 ، ﺹ 470 ‏)
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮐﯽ ﺭُﻭﭘﻮﺷﯽ
ﺣﻀﺮﺕ ﮐﻌﺐ ﺍﺣﺒﺎﺭؒ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻇﻠﻢ ﻭﺳﺘﻢ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺍٓﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻏﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻋﺮﺻﮧ ﺭُﻭﭘﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﺨﺖ ﻧﺸﯿﻦ ﮨﻮﺍ، ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺩﻋﻮﺕِ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺩﯼ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﻖِ ﻋﻈﯿﻢ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺍٓﺋﯽ، ﺻﺮﻑ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺟﻨﮭﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ‏( ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ‏)
ﮐﯿﺎ ’’ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ‘‘ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲؑ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ؟
ﻣﻔﺴﺮّﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﻟﯿﺎﺱ ‘‘ ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻀﺮؑ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ‏( ﺩﺭ ﻣﻨﺸﻮﺭ، ﺝ 5 ، ﺹ 285 ‏) ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﻘﻘّﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﯽ ﺗﺮﺩﯾﺪ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ؑﮐﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﺪﺍ ﺟﺪﺍ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ، ﺍﻟﮓ ﻧﺒﯽ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ، ﺝ 1 ، ﺹ 339 ‏) ۔ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ، ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺒﻮّﺕ ﭘﺮ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﮨﻮﺋﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﮨﻮﺋﮯ، ﯾﻮﮞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮍﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮨﮯ۔ ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﻃﺒﺮﯼؒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺴﻊ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺑﻌﺜﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺰﻗﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﯿﺮﯼ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍُﻥ ﺍﻧﺒﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡؑ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﮦ ﻭ ﺣﺸﻤﺖ، ﺩﻭﻟﺖ ﺛﺮﻭﺕ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺴﺮ ﮐﯽ۔ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺭﮨﯽ۔ ﻣﻼ ﺗﻮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺎ، ﻧﮧ ﻣﻼ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﯽ ﭘﺮ ﮔﺰﺍﺭﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺩﺭﺱ ﻭ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺐ ﯾﺎﺩِ ﺍﻟﮩٰﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ۔ ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺘﺎﺗﯽ، ﺗﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮕﮧ ﻣﯿّﺴﺮ ﺍٓ ﺟﺎﺗﯽ، ﺳﻮ ﺭﮨﺘﮯ۔ ﺳﻔﺮﻧﺎﻣﮧ ﺍﺭﺽِ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﺩﯼٔ ﺳﯿﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ، ﺟﺒﻞِ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ’’ ﻣﻘﺎﻡِ ﺍﻟﯿﺎﺱ ‘‘ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﮨﮯ، ﺟﮩﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺳﺎﻣﺮﮦ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺭﻭﭘﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﭼُﮑﮯ؟
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﭼُﮑﮯ؟ ﻣﻮٔﺭﺧﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮّﯾﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺮِ ﺑﺤﺚ ﺍٓﯾﺎ۔ ﺗﻔﺴﯿﺮِ ﻣﻈﮩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺑﻐﻮﯼؒ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻃﻮﯾﻞ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍٓﺗﺸﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﺗﻔﺴﯿﺮِ ﻣﻈﮩﺮﯼ، ﺝ 8 ، ﺹ 141 ‏) ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺳﯿﻮﻃﯽؒ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﻦِ ﻋﺴﺎﮐﺮؒ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﮐﻢؒ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ، ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﻌﺐ ﺍﻻﺣﺒﺎﺭؒ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻀﺮؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲؑ۔ ‏( ﺩﺭ ﻣﻨﺸﻮﺭ، ﺝ 5 ، ﺹ 285 ‏) ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻀﺮؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪِﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻗﺮﻃﺒﯽ، ﺝ 15 ، ﺹ 116 ‏) ﻟﯿﮑﻦ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺤﻘّﻖ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺍِﻥ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻗﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺍِﻥ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ’’ ﯾﮧ ﺍُﻥ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻦ ﮐﯽ ﻧﮧ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﮑﺬﯾﺐ، ﺑﻠﮑﮧ ﻇﺎﮨﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺑﻌﯿﺪ ﮨﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ، ﺝ 1 ﺹ 338 ‏) ﺑﺎﺋﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍٓﮔﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺍﯾﮏ ﺍٓﺗﺸﯽ ﺭﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺗﺸﯽ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺪﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻠﯿﺎﮦ ﺑﮕﻮﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ‘‘ ‏( 2 ۔ ﺳﻼﻃﯿﻦ 11:2 ‏) ۔ﻗﺮﺍٓﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﯾﺎ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮ۔ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﺴﺘﺪﺭﮎ ﺣﺎﮐﻢؒ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﺒﻮﮎ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕﷺ ﮐﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﺪّﺛﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺣﺪﯾﺚ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﮑﻮﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕﷺ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ’’ ﻧﮧ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﻭ، ﻧﮧ ﺗﮑﺬﯾﺐ۔ ‘‘ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ، ﺝ 7 ، ﺹ 472 ‏

حضرت شعیب علیہ السّلام کی بعثت’’ مدین‘‘ میں ہوئی۔ مدین ایک قبیلے کا نام ہے اور اُسی قبیلے کے سبب بستی کا یہ نام مشہور ہوگیا۔ دراصل، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ایک بیٹے کا نام مدین تھا اور اُن کی نسل کو’’ اہلِ مدین‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی تیسری بیوی، قطورا کے بطن سے تھے اور اسی لیے یہ خاندان ’’بنی قطورا‘‘ کہلاتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے، مدین اپنے اہل وعیّال کے ساتھ اپنے سوتیلے بھائی، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے قریب ہی حجاز میں آباد ہوگئے تھے۔ یہ جگہ بحیرۂ قلزم کے مشرقی کنارے اور عرب کے شمال مغرب میں شام سے متصل حجاز کے آخری حصّے میں واقع تھی۔ حجاز سے شام، فلسطین اور مِصر کے سفر کے دَوران قبیلہ مدین کی اِس بستی کے کھنڈرات دِکھائی دیتے ہیں، جب کہ مدین نام کا ایک شہر آج بھی شرقی اُردن کی بندرگاہ، معان کے قریب موجود ہے۔
قرآنِ کریم میں تذکرہ
قرآنِ کریم میں حضرت شعیبؑ اور اُن کی قوم کا تذکرہ گیارہ مقامات پر آیا ہے۔ سورۃ الاعراف، سورۂ ھود، سورۃ الحجر، سورۂ الشعراء اور سورۂ عنکبوت میں آپؑ کا ذکر موجود ہے۔ حضرت شعیبؑ جس قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے، قرآنِ کریم میں اُسے’’ اہلِ مدین‘‘،’’ اصحابِ مدین‘‘ اور ’’اصحابِ ایکہ‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔اصحابِ مدین اور اصحابِ ایکہ ایک ہی قبیلے کے دو نام ہیں یا یہ دونوں الگ الگ قبائل ہیں؟ اس بارے میں مفسرّین کی مختلف آرا ہیں۔ کچھ کی رائے ہے کہ یہ دونوں علیٰحدہ علیٰحدہ قومیں تھیں، ایک قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت شعیبؑ دوسری قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔ بعض نے لکھا کہ مدین اور اصحابِ ایکہ( جُھنڈوالے) ایک ہی قبیلے کے دو نام ہیں، ان دونوں کی رہائش مختلف جگہوں پر تھی۔ اصحابِ مدین تہذیب وتمدّن سے آشنا شہری قبیلہ تھا، یہ لوگ جس بڑی شاہ راہ پر رہتے تھے، وہ شام سے فلسطین، یمن اور مِصر سے ہوتی ہوئی بحرقلزم کے مشرقی کنارے سے گزرتی ہے اور حجاز کے تجارتی قافلے اسی راستے سے سفر کیا کرتے تھے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں’’اور یہ دونوں بستیاں (حضرت لوطؑ کی قوم اور مدین) بڑی شاہ راہ پر آباد تھیں۔‘‘ ( سورۃ الحجر 79)اصحابِ ایکہ ایک بدوی قبیلہ تھا۔ عربی میں’’ ایکہ‘‘ اُن سرسبز وشاداب جھاڑیوں کو کہتے ہیں، جو ہرے بھرے درختوں پر مشتمل گھنے جنگلوں میں جُھنڈ کی شکل میں بہ کثرت ہوتی ہیں۔ علّامہ ابنِ کثیرؒ کے مطابق’’ ایکہ‘‘ ایک درخت کا نام تھا،جس کی قبیلے کے لوگ پوجا کرتے تھے، چناں چہ اس نسبت سے اہلِ مدین ہی کو اصحابِ ایکہ کہا گیا۔بہرحال، اکثریت کی رائے یہی ہے کہ یہ دونوں قومیں ایک ہی قبیلے اور نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور قومِ شعیبؑ کہلاتی تھیں۔ بڑی شاہ راہ پر آباد قبیلے کے لوگوں کو والد کی نسبت سے مدین کہا جانے لگا، جب کہ سر سبز علاقے میں رہنے والے ’’ اصحابِ ایکہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔
قومِ شعیبؑ کے عیوب
دنیا میں جتنے بھی انبیائے کرامؑ مبعوث فرمائے گئے، اُن کی دعوت کا مشترکہ مقصد حقوق کی بہ احسن طریقے سے ادائی کی تعلیم عام کرنا تھا۔ حقوق دو قسم کے ہیں، ایک حقوق اللہ یعنی اللہ کی عبادت اور اُس کی ہدایات پر عمل اور دوسرا حقوق العباد، جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ دنیا میں قومِ لوطؑ کے بعد قومِ شعیبؑ وہ قوم تھی، جو دونوں حقوق پامال کررہی تھی۔ ایک طرف وہ اللہ اور اُس کے رسولؑ پر ایمان نہ لاکر حقوق اللہ کی خلاف ورزی کر رہی تھی، تو دوسری طرف، ناپ تول میں کمی،لُوٹ مار، رہزنی، ڈرانا دھمکانا، زمین پر فساد جیسے گھناؤنے جرائم کی مرتکب ہوکر حقوق العباد کی دھجیاں بکھیر رہی تھی۔قرآنِ کریم میں قومِ شعیبؑ کے تین طرح کے عیوب کا تذکرہ ملتا ہے۔
1۔ وہ لوگ کفروشرک میں مبتلا تھے اور درختوں کی پوجا کرتے تھے۔
2۔ بیوپار میں بے ایمانی اور ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔
3۔راستوں میں بیٹھ کر لُوٹ مار کرتے، لوگوں کے اموال چھینتے اور غنڈا ٹیکس وصول کرتے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں غنڈا ٹیکس کی بنیاد قومِ شعیبؑ ہی نے رکھی، تو بے جا نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی اصلاح اور توحید کی دعوت کے لیے اُن ہی کی قوم کے ایک نیک اور سچّے انسان، حضرت شعیب علیہ السّلام کو مبعوث فرمایا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اور ہم نے مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب ؑکوبھیجا۔‘‘(سورۃ الاعراف85)
توحید کی دعوت
پچھلی قوموں کی طرح قومِ شعیبؑ میں بھی مشرکانہ رسم وعقائد کا دَور دورہ تھا۔حضرت شعیبؑ نے پہلے اُنہیں توحید کی دعوت دی، پھر اُن کی حرکتوں پر اُنہیں متنبّہ کیا ’’ اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سِوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچُکی ہے، تو تم ناپ تول پوری طرح کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحبِ ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو، جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے، اُسے تم ڈراتے اور راہِ حق سے روکتے ہو اور اس میں کبھی ( عیب) ڈھونڈتے ہو ۔ اور یاد کرو! جب کہ تم بہت تھوڑے تھے، پھر اللہ نے تم کو کثیر کردیا اور دیکھو! کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا۔‘‘ (سورۃ الاعراف 86,85)
متکبّر سرداروں کی دھمکی
حضرت شعیبؑ کی توحید کی دعوت سُن کر قوم کے متکبّر سردار چراغ پا ہوگئے اور اُنہوں نے حضرت شعیبؑ کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اُن کی قوم کے متکبّر سرداروں نے کہا’’ اے شعیبؑ! ہم تم کو اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے باہر نکال دیں گے، ورنہ تم سب کو ہمارے مذہب پر واپس آنا پڑے گا۔‘‘ (سورۃ الاعراف88) اس کے ساتھ ہی اُن کی قوم کے وہ سردار، جو کافر تھے (وہ قوم کے لوگوں سے) کہنے لگے،’’ اگر تم شعیبؑ کے پیچھے چلے، تو یاد رکھو! اس صُورت میں تمہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘‘ (سورۃ الاعراف90)
قوم کے سرداروں سے مکالمہ
حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم کے سرداروں سے فرمایا ’’تمہارے باطل مذہب سے اللہ تعالیٰ نے نجات دے دی ہے، اس کے بعد اگر ہم تمہارے مذہب میں واپس آجائیں، تو یہ ہماری طرف سے اللہ تعالیٰ پر سخت بہتان ہوگا اور ہمیں شایان نہیں کہ اس میں لَوٹ جائیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف89) حضرت شعیبؑ اپنی قوم کی بداعمالیوں پر سخت رنجیدہ رہتے اور اُنہیں بار بار وعظ ونصیحت کرتے۔ اُنہوں نے قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے متنبّہ فرمایا’’ اے قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سِوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کرو، مَیں تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لائو گے) تو مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے، جو تم کو گھیر رہے گا۔‘‘ (سورۂ ھود 84)اُنہوں نے کہا’’ شعیبؑ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سِکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں، ہم اُن کو تَرک کردیں یا اپنے مال میں تصرّف کرنا چاہیں تو نہ کریں؟ تم تو بڑے نرم دِل اور راست باز ہو۔‘‘(سورۂ ھود 87) حضرت شعیبؑ نے جواب دیا’’ اے قوم! دیکھو تو اگر مَیں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور مَیں نہیں چاہتا کہ جس اَمر سے مَیں تمہیں منع کروں، خود اُس کو کرنے لگوں۔ مَیں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے(تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں۔ اور مجھے توفیق ملنا اللہ ہی (کے فضل سے)ہے، مَیں اُس پر بھروسا رکھتا ہوں اور اُسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کروادے کہ جیسی مصیبت نوحؑ کی قوم یا ھودؑ کی قوم یا صالح ؑ کی قوم پر واقع ہوئی تھی، ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو اور لوطؑ کی قوم کا (زمانہ تو) تم سے کچھ دُور نہیں، اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اُس کے آگے توبہ کرو۔ بے شک میرا پروردگار رحم والا اور محبّت کرنے والا ہے۔‘‘ (سورۂ ھود 90-88)روایت میں آتا ہے کہ حضرت شعیبؑ نابینا تھے یا اُن کی بصارت بہت کم تھی، چناں چہ حضرت شعیبؑ کے وعظ و نصیحت کے جواب میں یہ سردارطعنہ زنی کرتے ہوئے اُنہیں سنگسار کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’اُنہوں نے کہا’’ شعیبؑ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کم زور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے، تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی ) غالب نہیں ہو۔‘‘(سورۂ ھود91)اس پر حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم سے فرمایا’’ اے قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دبائو تم پر اللہ سے زیادہ ہے؟ اور اُس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے؟ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے اور بردارانِ ملّت! تم اپنی جگہ کام کیے جائو، مَیں (اپنی جگہ) کام کیے جاتا ہوں۔ تم کو عَن قریب معلوم ہوجائے گا کہ رُسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے؟ اور تم بھی انتظار کرو، مَیں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘(سورۂ ھود 92-93)
حضرت شعیبؑ کی دُعا
قوم کے متکبّر سرداروں کی جارحانہ گفتگو کے بعد حضرت شعیبؑ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے دِلوں پر مُہر لگ چُکی ہے اور اُن پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا، لہٰذا اُنہوں نے اپنے ربّ سے دُعا کی’’ اے پروردگار! ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف89) درحقیقت ان الفاظ کے ساتھ حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم میں سے جو کفّار تھے، اُن کی ہلاکت کی دُعا کی تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا۔
عذابِ الٰہی کا نزول
قوم شعیبؑ تین طرح کےعیوب میں مبتلا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُسے تین طرح کے عذاب سے نیست و نابود کیا۔ قرآنِ کریم میں تین طرح کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو قومِ شعیبؑ پر آیا۔(1) زمینی بھونچال یا زلزلہ( 2) چنگھاڑ( 3) آگ کے بادل۔ سورۂ الاعراف میں ہے کہ’’ اُن کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ اُنہوں نے ان (شعیبؑ) کو جھوٹا سمجھا، سو اُن کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ سورۂ ھود میں چنگھاڑ کے ذریعے عذاب کا ذکر آیا، کیوں کہ یہ لوگ اپنے نبی کا مذاق اور تمسخر اڑایا کرتے، پھبتیاں کستے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کے ذریعے اس قوم پر ایک چیخ لگوائی، جس سے اُن کے کلیجے پھٹ گئے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ اور جو ظالم تھے، اُن کو چنگھاڑ نے آ دبوچا، تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (سورۂ ھود 94)سورۂ الشعراء میں بادل کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو اُن کی اپنی خواہش کا نتیجہ تھا۔اُنہوں نےکہا تھا کہ’’ تم اُن میں سے ہو، جن پر جادو کردیا جاتا ہے اور تم تو صرف ہماری طرح کے آدمی ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اگر تم سچّے ہو، تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گرائو۔‘‘(سورۃ الشعراء 187-185) چوں کہ’’ اُنہوں نے جھٹلایا تھا، تو اُنہیں بادل والے دن کےعذاب نے پکڑ لیا۔ وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔‘‘ ( سورۃ الشعراء 189)علّامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر پہلے تو سخت گرمی مسلّط فرمائی اور سات دن مسلسل اُن پر ہَوا بند رکھی، جس کی وجہ سے پانی اور سایہ بھی اُن کی گرمی نہ کم کر سکا اور نہ ہی درختوں کے جُھنڈ کام آئے، چناں چہ اس مصیبت سے گھبرا کر بستی سے جنگل کی طرف بھاگے، وہاں اُن پر بادلوں نے سایہ کرلیا۔ سب گرمی اور دھوپ کی شدّت سے بچنے کے لیے اُس سائے تلے جمع ہوگئے اور سُکون کا سانس لیا۔ لیکن پھر چند لمحوں بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرزنے لگی اور پھر آسمان سے ایک سخت چنگھاڑ آئی، تو اُس نے اُن کی روحوں کو نکال دیا (کلیجے پھٹ گئے) اور جسموں کو تباہ و برباد کردیا اور سب اوندھے گرے پڑے رہ گئے۔‘‘
حضرت شعیبؑ کی مکّہ مکرّمہ ہجرت
قوم پر عذاب آتا دیکھ کر حضرت شعیب علیہ السّلام اور اُن کے ساتھی یہاں سے چل دیئے۔ جمہور مفسرّین نے فرمایا ہے کہ آپؑ مکّہ معظّمہ آگئے اور آخر تک یہیں قیام رہا۔ قوم کی انتہائی سرکشی اور نافرمانی سے مایوس ہو کر حضرت شعیب علیہ السّلام نے بددُعا تو کردی، مگر جب قوم پر عذاب آیا، تو پیغمبرانہ شفقت و رحمت کے سبب دِل دُکھا، تو اپنے دِل کو تسلّی دینے کے لیے قوم کو خطاب کرکے فرمایا کہ’’ مَیں نے تو تم کو تمہارے ربّ کے احکام پہنچادیئے تھے اور تمہاری خیرخواہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تھا، مگر مَیں کافر قوم کا کہاں تک غم کروں۔‘‘(معارف القرآن ج3ص 631)
خطیب الانبیاء
حضرت شعیبؑ کو’’ خطیب الانبیاء‘‘ یعنی’’ نبیوں کا خطیب‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ آپؑ فصاحت و بلاغت اور زورِ بیان میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ جب حضرت شعیبؑ کا ذکر فرماتے تو فرماتے’’ یہ انبیاءؑ میں خطیب ہیں۔‘‘
وفات اور قبرِ مبارک
حضرت شعیبؑ نے طویل عُمر پائی۔ روایت کے مطابق، انتقال کے وقت آپؑ کی عُمر چار سو سال تھی۔ اُردن کے شہر’’ السلط‘‘ کے قریب وادیٔ شعیبؑ میں آپؑ سے منسوب ایک مزار ہے، جس پر حکومت نے شان دار مقبرہ اور اس سے متصل مسجد بھی تعمیر کروائی ہے۔ روایت یہ بھی ہے کہ اپنی قوم کی تباہی کے بعد حضرت شعیبؑ ،حضرِموت کے مشہور شہر’’شیون‘‘ چلے گئے تھے۔ اُس کے مغربی جانب’’ شبام‘‘ نامی مقام پر آپؑ نے انتقال فرمایا اور وہیں آپؑ کی قبر ہے۔تاہم، تفسیر ابنِ کثیر میں وہب بن منبہ سے مروی ہے کہ حضرت شعیبؑ اور اُن کے ساتھیوں نے مکّہ مکرّمہ میں وفات پائی اور آپؑ کی قبر، کعبہ شریف کی غربی جانب ہے۔(واللہ اعلم) بعض مفسرّین کے مطابق، آپؑ کو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے سُسر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔


سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ولادت بعثت نبوی کے چار(4) سال بعد ہوئی، اس وقت تک آپ کے والدین(حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ام ّرومانؓ) اسلام قبول کرچکے تھے۔ اسم گرامی عائشہ،لقب صدیقہ،خطاب”ام المؤمنین“اور کنیت اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر کی نسبت سے ”ا م عبداللہ“تھی۔ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ کا نکاح حضورﷺ سے ہوا،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وہ خوش نصیب عورت ہیں جن کو نبی ﷺ کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا، نکاح سے پہلے خواب میں نبی ﷺ کو دکھلایا اور پھر آپ نبی ﷺ کے نکاح میں آئیں،چارسو(400) درہم مہر مقرر ہوا۔ نکاح کے بعد حضورﷺ تین سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے۔ اس کے بعد آپ نے ہجرت فرمائی جس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے،لیکن ان کے اہل و عیال مکہ ہی میں قیام پذیر رہے اور مدینہ ہجرت مکمل ہونے کے بعد جب وہاں تسلی بخش صورتحال سامنے آئی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل و عیال کو مدینے بلوالیا، یوں شوال کے مہینے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی۔رخصتی کے لیے شوال کے مہینے کے انتخاب میں بھی ایک حکمت تھی وہ یہ کہ قدیم زمانے میں چوں کہ شوال کے مہینے میں طاعون آیا تھا اور بڑا جانی نقصان ہوا تھا،اس لیے اہل عرب اس مہینے کو منحوس سمجھتے اور اس میں شادی بیاہ وغیرہ نہیں کرتے تھے،نبی اکرم ﷺ نے اس مہینے کا انتخاب فرماکر اس غلط خیال اور جاہلانہ توہم کی عملی طور پر بیخ کنی فرمادی۔
رخصتی چوں کہ کم سنی میں ہوئی تھی،اس لیے کم سن بچیوں کی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کھیل کود کی بڑی شوقین تھیں،محلے کی لڑکیاں ان کے پاس جمع رہتی تھیں،ان کوسب سے زیادہ دوکھیل مرغوب تھے،ایک گڑیوں کے ساتھ کھیلنا اور دوسرا جھولا جھولنا۔حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ یک مرتبہ آپ ؓ گڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں، کہ رسول اللہ ﷺ پہنچ گئے،ان گڑیوں میں ایک گھوڑابھی تھا،جس کے دو پر بھی تھے، آپﷺ نے پوچھا:یہ کیسا گھوڑا ہے،کیا گھوڑے کے بھی پرہوتے،آپؓ نے برجستہ جواب دیا:حضرت سلیمان ؑ کے گھوڑں کے بھی تو پر تھے۔اس جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بچپن میں بھی کس قدر دینی معلومات رکھنے والی اور حاضر جواب تھیں۔
حضور اقدسﷺکوآپ ؓ سے بے انتہا محبت تھی، بعض اوقات دوسری ازواج مطہرات بشری تقاضے سے اس بات کو محسوس بھی کرتیں اور کبھی کبھی احتجاج تک کی نوبت آجاتی تھی،اسی نوع کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ:حضرت ام سلمہ نے ایک بارآپ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ اپنے اصحاب کو کہیں کہ وہ جوہدایا اور تحائف وغیرہ بھیجتے ہیں وہ تمام ازواج کے یہاں قیام کے دنوں میں بھی بھیجا کریں،صرف (حضرت) عائشہؓ کی باری کے دن ہی کیوں بھیجتے ہیں؟نبی کریم ﷺ نے ان کی بات پورے تحمل سے سنی اور پیار بھرے لہجے میں فرمایا: اللہ کی قسم!مجھے تو وحی بھی عائشہ کے حجرے میں آتی ہے، تم میں سے کسی کے حجرے میں نہیں آتی۔
ایک اور واقعہ ہے کہ:حضرت زینبؓ ایک دن حجرہ ئعائشہؓ میں تشریف لائیں، جب کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے،وہ کافی غصے میں تھیں،کہنے لگیں: آپ(ﷺ) کو ابوبکر کی بیٹی کے علاوہ بھی کسی کی خبر ہے؟ وہ بڑی عمر کی خاتون تھیں اور حضرت عائشہؓ ان کی بیٹیوں کی عمر کی تھیں،پھرحضرت عائشہؓ کی طرف رخ کیا اور دل کی بھڑاس نکالنے لگیں، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:میں کن اکھیوں سے اللہ کے رسول ﷺ کی طرف دیکھ رہی تھی،ان کا مقصود یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف سے جواب دیں یا پھرانھیں جواب دینے کی اجازت دیں،نبی کریم ﷺ نے رخ انور حضرت عائشہؓ کی طرف کیا اور فرمایا: تم خود جواب دو،حضرت عائشہ ؓ نے جو ترکی نہ ترکی جواب دیا تو حضرت زینب ؓ دیکھتی ہی رہ گئیں،یہ دو سوکنوں کا معاملہ تھا،اس لیے حضور اکرم ﷺ درمیان میں نہیں آئے،تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
مذکورہ واقعات میں یہ بات ہر وقت ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ اور حضرت زینب ؓنے جو شکوہ یا اعتراض کیا،وہ ایک بیوی ہونے کی حیثیت سے اپنے شوہر سے تھا،نہ کہ امتی کا اپنے نبی سے۔بعض لوگوں کا اس قسم کے واقعات کی آڑ میں ازواج مطہرات کو چرب زبان اور بے ادب کہنا بدترین گستاخی ہے،تمام ازواج مطہرات ایمان والوں کی مائیں ہیں اور کوئی فرماں بردار بیٹا اپنی ماں پر ایسی تنقید کی جراء ت کبھی نہیں کرسکتا۔اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔آمین!
ایک موقع پراللہ کے رسول ﷺ اپناجوتا گانٹھ رہے تھے اور پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح جلدمبارک سے نکلتے توان میں نور کی چمک پیدا ہوتی،جو بڑھتی ہی چلی جاتی تھی۔ چہرہ انورنورانی تجلیوں کا محور بنا ہوا تھا،جیسے چاند پر تاروں کی جھڑی لگی ہو،حضرت عائشہ ؓ مسلسل یہ منظر دیکھ رہی تھیں،پھر روئے انور کے قریب آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم!آج اگر شاعرابو کبیرہذلی موجود ھوتا اور آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا تو اسے اپنے اشعار کا درست مصداق مل جاتا جو اس نے اپنے خیالی محبوب کی شان میں کہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، سناؤ،ذراہم بھی سنیں۔۔حضرت عائشہؓ نے یہ شعر پڑھا:
ترجمہ: میں نے اس کے روئے تاباں پہ نگاہ ڈالی تو اس کی شانِ درخشندگی ایسی تھی،جیسے بادل کے کسی ٹکڑے میں بجلیاں کوند رہی ہوں۔
یہ سن کرللہ کے رسول ﷺ نے دستِ مبارک میں جو کچھ تھا اسے رکھ دیا اور حضرت عائشہؓ کا ماتھا چوم کر فرمایا:عائشہؓ! جو سرور مجھے اس کلام سے حاصل ہوا ہے، وہ تجھے اس نظارے سے بھی حاصل نہ ہو ا ہوگا۔یہ بھی محبت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔اس میں مسلم شوہروں کے لیے اسوہ بھی ہے کہ خاتون خانہ کی تعریف وحوصلہ افزائی کرنا کوئی غیر اخلاقی یا غیر شرعی بات نہیں،بلکہ محبوب دو جہاں ﷺ کی سنت ہے۔
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آؤ عائشہ! و دوڑ میں مقابلہ کرتے ہیں،چناں چہ مقابلہ شروع ہوا،چوں کہ حضرت عائشہ ؓدبلی پتلی تھیں،اس لیے نبی اکرم ﷺ سے آگے نکل گئیں۔ پھر ایک عرصہ گزرنے کے بعد،جب حضرت عائشہ ؓ کا وزن بڑھنے لگا تھا،حضور ﷺ نے فرمایا:پھر مقابلہ کرتے ہیں،اور آپ ﷺآگے نکل گئے،اس موقع پر دل لگی کرتے ہوئے فرمایا: یہ اس دن کا جواب ہے-
شان محبوبیت کی ایک اور ادا ملاحظہ فرمائیے!جان دو عالم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا:عائشہؓ! جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتا چل جاتا ہے،حضرت عائشہؓ نے پوچھا:وہ کیسے؟آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہوتو کہتی ہو:ربِ محمد(ﷺ)کی قسم،اور جب کوئی ناراضی ہو تو کہتی ہو:ربِ ابراہیم ؑکی قسم!حضور ﷺ اپنی رفیقہ ئ حیات کو راضی کس طرح فرمایا کرتے تھے،اس کا دل فریب و قابل تقلید نمونہ بھی ملاحظہ فرمائیں:اگر حضرت عائشہ ؓ ناراض ہوتیں تو جب وہ پانی پینے لگتیں تو رسول اکرم ﷺ ان کے ہاتھ سے پیالہ لے لیتے اور جہاں حضرت صدیقہ ؓنے منہ رکھ کے پانی پیا تھا، ان کو دکھا کر اسی جگہ منہ رکھ کر پانی نوش فرماتے……اور ساری ناراضی ختم ہوجاتی۔
حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے مرض الوفات میں دوسری ازواج مطہرات کی اجازت سے حضرت عائشہ ؓ کے حجرے میں منتقل ہوئے،یوں آخری ایا م میں سب سے زیادہ محبوب ﷺ کی خدمت کا شرف حضرت عائشہ ؓ کو ملا،ان کی چبائی ہوئی مسواک حضور ﷺ نے استعمال فرمائی،ان کی گود میں سر رکھ کر اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے اور ان کے حجرے میں مدفون ہوئے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاپر جب منافقین نے تہمت لگائی تھی تو ان کی صفائی کسی انسان نے نہیں دی،بلکہ خود رب کائنات نے آسمان نے دی اور سورہ نور کی تقریباًبیس آیات میں ان کی شانِ معصومیت ایسے بھرپور اور پُراثر و پرکشش انداز میں بیان فرمایاکہ جس سے بہتر انداز میں آپ کی معصومیت کو بیان ہی نہیں کیا جاسکتاتھا، تاقیامت یہ آیات مبارکہ ان کی طہارت، عفت، پاکدامنی اور پاکیزگی کی گواہی دیتی رہیں گی۔ ایک موقع پرحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل آتے ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ آپ نے جواب میں کہا کہ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔اس خصوصیت میں سوائے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے کوئی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شریک نہیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مدح بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:(حضرت)عائشہ(رضی اللہ عنہا)کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پرفضیلت حاصل ہوتی ہے۔(بخاری شریف)
حضرت عمروبن عاص ؓسے روایت ہے کہ ان کے دریافت کرنے پر نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا:”عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب میرے نزدیک عائشہ ؓ اور مردوں میں ان کے والد (ابوبکر)ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااللہ تعالیٰ کی اپنے اوپر ہونے والی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نو(9) خوبیاں ایسی عطا فرمائیں جوکسی عورت کو نہ ملیں:
۱……میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے سب سے محبوب دوست ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی ہوں۔
۲…… مجھے پاکیزہ گھرانے میں پیدا فرمایا گیا،میں نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں اسلام کی ہی بات سنی۔
۳……نکاح سے پہلے میری تصویر حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔
۴……نبی ﷺ نے میرے سوا کسی اور کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا،میرا نکاح فقط سات برس کی عمر میں اور رخصتی نو برس کی عمر میں ہوئی۔
۵……نبی ﷺ پر وحی اس حالت میں بھی نازل ہوجاتی تھی کہ آپ میرے لحاف میں ہوتے تھے،امت کو میری وجہ سے تیمم کی اجازت ملی۔
۶……میں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو کھلی آنکھوں سے دیکھا،اورمجھ سے مغفرت اور رزق کا وعدہ اللہ نے فرمایا ہے۔
۷……میری برأت میں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے وحی نازل فرمائی۔
۸……بوقت وصال نبی اکرم ﷺ کا سرمبارک میری گود میں تھا،آپ کاآخری عمل یہ تھا کہ آپ نے میری چبائی ہوئی مسواک استعمال فرمائی۔
۹……نبی ﷺ کی تدفین میرے حجرے میں ہوئی۔
خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں بھی ان کا فتویٰ قبول کیا جاتا تھا۔حضرت عائشہ صدیقہؓنے شریعت اسلامیہ کے متعلق احکام و قوانین اور اخلاق و آداب کی تعلیم کے حوالے سے نبی ﷺ سے اتنا کچھ حاصل کرلیا تھا کہ علمی اعتبار سے کوئی مرد و عورت ان کی معلومات کے ہم پلہ نہیں تھا۔ آپ اپنی ذات میں فقیہہ،مفسرہ اور مجتہدہ تھیں،تفسیر، حدیث، اسرار شریعت، خطابت اور ادب و انساب میں ان کو کمال حاصل تھا،شعرا کے بڑے بڑے قصیدے ان کو زبانی یاد تھے،آپ کا شمار مدینہ منورہ کے ان علماء میں ہوتا تھا کہ جن کے فتاویٰ پر عام مسلمانوں کو مکمل اور بھرپور اعتماد تھا،یہاں تک کہ بڑے بڑے صحابہ کرام کو بھی کسی مسئلے میں الجھن اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ آپ سے معلوم کرایا کرتے تھے،کیوں کہ سب کو اس بات کا اعتراف تھا کہ حضوراکرم ﷺ کے احکام کی تبلیغ و اشاعت میں ام المؤمنین کا کوئی ثانی نہیں،جیسا کہ ابومسلم عبدالرحمنؒ کا قول ہے کہ حضور ﷺکی احادیث و سنن، فقہی آراء، آیات کے شان نزول اور فرائض (میراث) میں حضرت عائشہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں تھا۔ آپ نے عورتوں، مردوں میں اسلام اور اس کے احکام و قوانین، اخلاق و آداب کی تعلیم دینے میں پوری زندگی گزار کر اسلام کی بہت بڑی خدمات انجام دیں۔ان کا شمار ان صحابہ ؓ میں ہوتا ہے جن سے کثرت سے احادیث مروی ہیں،ان کی مرویات کی تعدا د دو ہزار سے زائدہے۔اہل علم کا کہنا ہے کہ امت کو آدھا دین صرف حضر ت عائشہ ؓ کے وسیلے سے ملا،اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے دو حصے ہیں،گھر کی زندگی اور گھر سے باہر کی زندگی،سرور دو عالم ﷺ کی گھریلو زندگی کا علم امت کو حضرت عائشہ ؓ کے زریعے ہوا۔ حضرت عائشہ ؓ کم سن تھیں اور فطری طور پر انتہائی ذہین اور مجتہدانہ دماغ رکھتیں تھیں،یہی وجہ ہے کہ قربت رسول ﷺ کا جس قدرانھوں نے فائدہ اٹھایا،محبوب کے شب وروز کو محفوظ کیا،یہ انہی کا خاصہ ہے،یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہرسال حج کے لیے مکہ جاتیں،تو آپ کے خیمے میں سائلین کا ہجوم ہوجاتا تھا،جو ان سے مختلف مسائل میں راہ نمائی طلب کرنے کے لیے آتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو عبادت سے بھی بے انتہا شغف تھا، نہایت متقی اور حددرجہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والی تھیں،صرف ایک جوڑا پاس رکھتیں اور اسی کو دھو دھو کر استعمال کیا کرتی تھیں،دن بھر روزہ رکھتیں اور راتوں کو دیر دیرتک جاگ کر عبادت کیاکرتی تھیں،یہ آپؓ کاروز کا معمول تھا،تہجد،قیام اللیل اورچاشت کی نمازخاص اہتمام سے پڑھتی تھیں۔اس درجہ تقویٰ وعبادت کے باوجود رقت قلب کا یہ عالم تھا کہ فکر آخرت میں ہر وقت روتی رہتیں۔
ان کی ایک خوبی ان کی بے بہا سخاوت بھی تھی، اپنے پاس کبھی مال کو جمع نہیں ہونے دیا جیسے ہی کہیں سے کچھ آتا تھا فوراً ہی تقسیم کردیا جاتا۔تقریباًسڑسٹھ(67)غلام آزاد کیے،ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں ستر ہزار کی رقم صدقہ کردی،ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک لاکھ درہم بھیجے،سب کے سب اسی وقت خیرات کردیے،ایک بار ان کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر ؒ نے ایک لاکھ درہم بھیجے،خود بھی روزے سے تھیں،لیکن سب کے سب خیرات کردیے اور افطار کے لیے بھی کچھ بچا کر نہ رکھا۔ایک بار بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے کہا کہ خالہ جان!اتنا زیادہ صدقہ نہ کیا کریں،کچھ اپنے لیے بھی بچا کر رکھ لیا کریں،تو ان سے تین دن تک بات نہ کی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ازدواجی زندگی اس خوبصورتی کے ساتھ گزاری کہ ایک مسلمان عورت کے لیے ان کی زندگی کے تمام پہلو، شادی، رخصتی، شوہر کی خدمت و اطاعت، سوکن سے تعلقات، بیوگی، خانہ داری کے تمام پہلواس قدر روشن ہیں کہ ان کی تقلید کرکے ایک مسلمان عورت دونوں جہاں میں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرخرو ہوسکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد تقریباً اڑتالیس(48) سال تک یہ امت کی محسنہ، عالم اسلام کے شب وروز کو انوارالہٰی اور اسوہئ حسنہ سے مسلسل اور متواتر منور کرتے رہنے کے بعد چند روز علیل رہ کرسترہ(17) رمضان المبارک 58ھ؁ میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی، یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایام خلافت تھے، نماز جنازہ حاکم مدینہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ آپ کے بھتیجوں اور بھانجوں (، عبداللہ بن زبیرؓ،قاسم بن محمدؒ، عبداللہ بن عبدالرحمانؒ، عبداللہ بن ابی عتیق ؒ اور عروہ بن زبیرؒ)نے لحد میں اُتارا اور اس وقت جنت البقیع (مدینہ منورہ) میں محواستراحت ہیں۔ رضی اللہ عنہا وارضاہ!
٭٭٭٭٭
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺩﺟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﻋﺮﺍﻗﯽ ﺷﮩﺮ ’’ ﻣﻮﺻﻞ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍٓﭖؑ،ﺣﻀﺮﺕ ﮬﻮﺩؑ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻮﺻﻞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ’’ ﻧﯿﻨﻮﺍ ‘‘ ﺷﮩﺮ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﺍُﺱ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺮﻭﺝ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﻗﻮﻡِ ﺛﻤﻮﺩ ﺍٓﺑﺎﺩ ﺗﮭﯽ۔ ﻧﯿﻨﻮﺍ ﮐﯽ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ‏( ﯾﻮﻧﺲؑ ‏) ﮐﻮ ﻻﮐﮫ ﯾﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ )‘‘ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺼﺎﻓﺎﺕ 147 ‏) ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﯽ ﻋُﻤﺮ 28 ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ، ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺍﮨﻞِ ﻧﯿﻨﻮﺍ ﮐﯽ ﺭُﺷﺪ ﻭ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﻣﻔﺴّﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ، ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ 781 ﺗﺎ 741 ﻗﺒﻞِ ﻣﺴﯿﺢ ﮨﮯ۔ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﭼﮭﮯ ﺳﻮﺭﮦٔ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺫﮐﺮ ﺍٓﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﻧﻌﺎﻡ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﯾﻮﻧﺲ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﻟﺼٰﻔٰﺖ، ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻘﻠﻢ ، ﺍِﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﭼﺎﺭ ﺳﻮﺭﮦٔ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ’’ ﺫﻭﺍﻟﻨّﻮﻥ ‘‘ ﺍﻭﺭ ’’ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺤﻮﺕ ‘‘ ﯾﻌﻨﯽ ’’ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻭﺍﻻ ‘‘ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﻥ، ﺑﮍﯼ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﭼﻮﮞ ﮐﮧ ﺍٓﭖؑ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ’’ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻭﺍﻻ ‘‘ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﺳﻮﺭﺕ، ﺍٓﭖؑ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﻧﯿﻨﻮﺍ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﮯ ﺭﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺻﺮﻑ ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﻏﺮﻭﺭ ﻭ ﺗﮑﺒّﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﻗﻮﻡ ﺩﯾﮕﺮ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺑﮭﯽ ﺍُﮌﺍﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﺟﺐ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺳﺮﮐﺸﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ، ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﮔﺎﮦ ﮐﺮﺩﻭ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﻋﺬﺍﺏ ﺍٓﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﻗﻮﻡِ ﯾﻮﻧﺲؑ ﻧﮯ ﺍٓﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﯿﺎ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍُﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ’’ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ،ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ‘‘ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻃﮯ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺭﺍﺕ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻟﻮ ﮐﮧ ﺻﺒﺢ ﻋﺬﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭ ﺍٓﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻗﺼّﮧ ﻣﺨﺘﺼﺮ، ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ۔ ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺋﯽ، ﺗﻮ ﻋﺬﺍﺏِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺎﮦ ﺩﮬﻮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳَﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﮉﻻﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺍٓﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻟﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ، ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﺧﻼﺹِ ﻧﯿّﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮﺑﮧ ﻭ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺍٓﺋﮯ۔ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ، ﺑﭽّﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﺍُﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ۔ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺴﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﭨﺎﭦ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﻋﺠﺰ ﻭ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺍٓﮦ ﻭ ﺑﮑﺎ ﺳﮯ ﮔﻮﻧﺠﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﻣﺤﺮّﻡ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﺩﮬﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﺑﺴﺘﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﺱ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﭘﺮ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻭ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﻋﺬﺍﺏ ﭨﻞ ﮔﯿﺎ، ﺗﻮ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﻓﮑﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ’’ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻗﻮﻡ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺩﮮ ﮔﯽ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻣَﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ‘‘ ﺍُﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻼﻡ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﮯ، ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ، ﺗﻮ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﻓﮑﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻏﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺑﺤﯿﺮﮦٔ ﺭﻭﻡ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﺍُﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺮﻟﯿﺎ۔ ﮐﺸﺘﯽ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﺟﺐ ﻭﺳﻂ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﯽ، ﺗﻮ ﺩﻓﻌﺘﺎً ﭨﮭﮩﺮ ﮔﺌﯽ،ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ۔ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻨﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻇﺎﻟﻢ، ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﯾﺎ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮨﻮﺍ ﻏﻼﻡ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﺧﻮﺩ ﺑﮧ ﺧﻮﺩ ﺭُﮎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺩﮮ ﺗﺎﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺐ ﭘﺮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻧﮧ ﺍٓﺋﮯ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﺑﻮﻝ ﺍﭨﮭﮯ ﮐﮧ ’’ ﻭﮦ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮨﻮﺍ ﻏﻼﻡ، ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﻣَﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺒﻌﯽ ﺧﻮﻑ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺫﻥِ ﺍﻟﮩﯽٰ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﮯ ﺍٓﻧﮯ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﺍﻧﮧ ﺷﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻨﺎﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻘﻞ ﻭ ﺣﺮﮐﺖ ﺑﻼ ﺍﺫﻥِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﯽ۔ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ، ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ’’ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﻭ، ﺗﻮ ﺗﻢ ﺳﺐ ﺍﺱ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘‘ ، ﻣﮕﺮ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺮﻋﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮑﻠﮯ، ﺍُﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﺟﺎﺋﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺮﻋﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍٓﭖؑ ﮨﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮑﻞ ﺍٓﯾﺎ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺠّﺐ ﮨﻮﺍ، ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻗﺮﻋﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍٓﭖؑ ﮨﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍٓﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺼﺎﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﺍٓﯾﺖ ﻧﻤﺒﺮ 141 ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺮﻋﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻗﺮﻋﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ، ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ ﺩﮮ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ، ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩؓ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ’’ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍُﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺭﻭﺯ ﺭﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﺗﮏ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺩُﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘِﮭﺮﺍﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ‘‘ ﺑﻌﺾ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺳﺎﺕ، ﺑﻌﺾ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﺪّﺕ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻈﮩﺮﯼ ‏) ﺣﻘﯿﻘﺖِ ﺣﺎﻝ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﻧﮯ ﺩُﻋﺎ ﮐﯽ ’’ ﻻﺍِﻟٰﮧ ﺍِﻟّﺎ ﺍَﻧﺖَ ﺳُﺒﺤﺎﻧﮏَ ﺍِﻧّﯽ ﮐُﻨﺖُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻈّﺎﻟِﻤﯿﻦ ‘‘ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺩُﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺤﯿﺢ ﺳﺎﻟﻢ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﻝ ﻧﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺍُﮔﺎ ﺩﯾﺎ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺘّﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺍٓﭖؑ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ﻧﯿﺰ، ﺍﯾﮏ ﺟﻨﮕﻠﯽ ﺑﮑﺮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺻﺒﺢ، ﺷﺎﻡ ﺍٓﭖؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍٓﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖؑ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯽ ﻟﯿﺘﮯ۔ ﺍﺱ ﻗﺼّﮯ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧؐ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻗﯽ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﻣﺤﺾ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﯿﮟ، ﺟﻦ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺮﻋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﺪﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ۔ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ، ﺝ 4 ﺹ 515 )
ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦؓ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﻮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺗﻮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ’’ ﺍِﻥ ﮐﻮ ﻟﮯ ﻟﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﭘﺮ ﺗﯿﺮﺍ ﺗﺼﺮّﻑ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻏﺬﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﺟﺐ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﭽﻠﯽ ﺳﻄﺢ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﯽ، ﺗﻮ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺍٓﮨﭩﯿﮟ ﺳُﻨﯿﮟ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻭﺣﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ’’ ﯾﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮨﮯ، ‘‘ ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻌﮯ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﯽ۔ﺟﺐ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﺳُﻨﯽ، ﺗﻮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ’’ ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻧﺤﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺯﻭﺭ ﺳﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﮐﺴﯽ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺳُﻦ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﻨﺪﮦ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮨﮯ۔ ‘‘ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﻭﮦ ﺗﻮ ﻧﯿﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺷﺐ ﻭ ﺭﻭﺯ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﯿﮏ ﻋﻤﻞ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ۔ ‘‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’ ﮨﺎﮞ ! ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﭘﮭﺮ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﯽ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﮐﯽ، ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔ ‘‘ ‏( ﻗﺼﺺ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ، ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮ )
ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩِ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﻮ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺗﮭﮯ، ﻓﺮﺍﺥ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻞ ﺩﺍﺭ ﺩﺭﺧﺖ ﺍُﮔﺎ ﺩﯾﺎ۔ )‘‘ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺼﺎﻓﺎﺕ 145,146 ‏) ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻻﻏﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺯﻭﺭ ﮨﻮﭼُﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺑﻦِ ﻣﺴﻌﻮﺩؓ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ’’ ﺍٓﭖؑ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﯿﺴﮯ ﭼﻮﺯﮦ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘَﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺍٓﺋﮯ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘ ﺍﺑﻦِ ﻋﺒّﺎﺱؓ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺪؓ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ’’ ﺟﺐ ﺑﭽّﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﭽّﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺩُﮬﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺭﻭﺋﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺮﻡ ﻭ ﻧﺎﺯﮎ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ‘‘ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍٓﭖؑ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮ ﮔﺌﮯ، ﺗﻮ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﻮ ﺟﻨﺒﺶ ﺩﯼ، ﺗﻮ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ ﮨﻮﺋﯽ، ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺳﺠﺪﮦ ﺭﯾﺰ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺭﺏّ ﺍﻟﻌﺰّﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﻣَﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﺴﺠﺪ‏( ﺳﺠﺪﮦ ﮔﺎﮦ ‏) ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻧﮧ ﮐﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ ‘‘
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺎﺕ
ﻗﺮﺍٓﻥِ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ‏( ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ‏) ﭘﺎﮐﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ، ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﮏ، ﺍُﺱ ﮐﮯ ‏( ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ‏) ﭘﯿﭧ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺼﺎﻓﺎﺕ 144:143 ‏) ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦِ ﺟﺮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﮏؓ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍُﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳُﻨﺎ ’’ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ، ﺗﻮ ﺩُﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﯾﻌﻨﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﯽ ﺩُﻋﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ۔ ﺭﺍﻭﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣَﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﮐﯿﺎ ’’ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧؐ ! ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﺹ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ؟ ‘‘ ﺍٓﭖﷺ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﺹ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﺎﻡ، ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩُﻋﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳُﻨﺎ؟ ‘‘ ’’ ﭘﮭﺮ ‏( ﯾﻮﻧﺲؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏّ ﮐﻮ ‏) ﺗﺎﺭﯾﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﺎﺭﺍ ’’ ﻻﺍِﻟٰﮧ ﺍِﻻ ﺍَﻧﺖ ﺳُﺒﺤﺎﻧﮏَ ﺍِﻧّﯽ ﮐُﻨﺖ ﻣِﻦ ﺍﻟﻈّﺎﻟِﻤﯿﻦ ‘‘ ‏( ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ، ﺗُﻮ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣَﯿﮟ ﮨﯽ ﻗﺼﻮﺭﻭﺍﺭ ﮨﻮﮞ ‏) ، ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩُﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﻢ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ 88,87 ‏) ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪؓ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﯽ ﺩُﻋﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩُﻋﺎ ﮐﯽ، ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩُﻋﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﮔﯽ۔ ‘‘ ‏( ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮ )
ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻡِ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﮯ ﻭﻗﻮﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺻﺪﻕِ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﻭ ﺍٓﮦ ﻭﺯﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﻗﻮﻡِ ﻧﻮﺡؑ، ﻗﻮﻡِ ﮬﻮﺩؑ، ﻗﻮﻡِ ﺻﺎﻟﺢ ؑﺍﻭﺭ ﻗﻮﻡِ ﻟﻮﻁؑ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺗﻨﺒﯿﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﭘﺮ ﮈﮬﭩﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺟﻤﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺬﺍﻕ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﻋﺬﺍﺏِ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﯿﺴﺖ ﻭ ﻧﺎﺑﻮﺩ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ۔ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ’’ ﭘﺲ، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﯽ، ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍُﺳﮯ ﻧﻔﻊ ﺩﯾﺘﺎ؟ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﯽ، ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﻮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺩُﻭﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﺪّﺕ ﺗﮏ ﺍُﻥ ﮐﻮ ‏( ﺩﻧﯿﻮﯼ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﺳﮯ ‏) ﺑﮩﺮﮦ ﻣﻨﺪ ﺭﮐﮭﺎ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭﮦٔ ﯾﻮﺳﻒ 98 ‏) ﺍﺱ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺑﻠﮑﮧ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍٓﺧﺮﺕ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏِ ﺍٓﺧﺮﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﻧﺎ ،ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ۔ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ ‏) ﺟﺎﻣﻊ ﺗﺮﻣﺬﯼ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻏﺮﻏﺮﮦ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ۔ ‘‘ ﻏﺮﻏﺮﮦ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮯ ﻣُﺮﺍﺩ، ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻧﺰﻉ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮐﺮ ﺍٓﺧﺮﺕ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻞ ﻗﺎﺑﻞِ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ۔
جو ایک ملین مربع میٹر پر مشتل ہے۔ج
ہاں دو ملین لوگ سما سکتے ہیں۔
سالانہ 20 ملین لوگ وہاں جاتے ہیں۔
یہ جگھ کبھی بند نہیں ہوتی، 24 گھنٹے تک کھلی رہتی ہے چار ہزار سال سے۔
وہاں صفائی کس طرح؟ کس انداز سے کی جاتی ہے؟
کس طرح اس جگھ کو صاف کیا جاتا ہے؟ جہاں لاکھوں لوگ جاتے ہیں؟ جہاں ہر وقت لوگ ہوتے ہیں؟
دنیا میں تقریبا ہر جگھ کو تب ہی صاف کیا جاتا ہے جب وہ جگھائیں خالی ہوتی ہیں، جب وہاں کوئی نہیں ہوتا۔
مگر اس جگھ کو کس طرح صاف کریں
جو 24 گھنٹے لوگوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے؟
اگر آپ کو کبھی یہ شرف حاصل ہو کہ آپ بھی مکہ پاک جاکر وہاں حرم شریف میں مطاف کی جگھ صاف کریں تو آپ کو وہاں ایک ایک بات تفصیل سے بتائی جائے گی کہ کس طرح آپ جھاڑو وغیرہ کو پکڑیں گے؟ کس طرح اسے دائیں ہاتھ سے پکڑنا ہے اور کس طرح اسے بائیں ہاتھ سے پکڑنا ہے؟ اور کس طرح لائن میں سب کے ساتھ بھاگتے ہوئے جلدی میں صاف کرنا ہے۔
یہ ٹی وی پر یا وڈیو میں دیکھنا آسان ہوتا ہے مگر وہاں ان صفائی کرنے والوں کے ساتھ بھاگتے ہوئے صفائی کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہوتی۔
وہاں اگر صرف مطاف کو مطلب عمرہ کرنے والی جگھ کو صاف کرنے کے لئے، ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آپ کے پاس صرف اور صرف تیس منٹ ہوتے ہیں۔
اور دن میں اس جگھ کو چار بار صاف کیا جاتا ہے۔
اس جگھ کسی کیمیکل کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ گلاب کے پانی کے ساتھ اور ایسا پانی ہوتا ہے جس سے کسی بھی شخص کو نہ کوئی خارش ہو اور نہ ہی کوئی تکلیف۔ جو بھی وہاں عمرہ کرتا ہے انہیں گلاب کی خوشبو آتی رہتی ہے۔
حرم پاک میں ایسی کوئی جگھ ہی نہیں جس کو صاف نہ کیا جاتا ہو۔
وہاں 1800 صفائی کرنے والے لوگ ہیں، چالیس صفائی کرنے والی گاڑیاں اور 60 صفائی کرنے والی مشینیوں کے ساتھ ساتھ دو ہزار کچرے ڈالنے والے ڈبے ہیں۔
حرم پاک کی زمین صاف کرتے ہیں
دروازے صاف کئے جاتے ہیں
حرم پاک کے اندر لگے مختلف کھمبے، منارے اور چھت بلکہ ہر چیز کی صفائی کی جاتی ہے۔
حرم پاک میں چالیس ہزار قالین ہیں۔
اگر انہیں ایک ساتھ لگائیں جائیں تو وہ مکہ پاک سے سعودیہ کے شہر جدہ تک کے پہنچیں گے مطلب کہ 79 کلو میٹر تک۔
مگر ان کو صاف کس طرح کیا جاتا ہے؟
سب سے پہلے قالین کو مٹی سے صاف کیا جاتا ہے
پھر اسے پانی سے صاف کیا جاتا ہے پھر صابن سے پھر دوبارہ پانی سے صاف کیا جاتا ہے۔
پھر اس قالین کو ایک خاص قسم کی مشین میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ جلد سوکھ جائے جس کے بعد ان کو دوبارہ سے لٹکایا جاتا ہے تاکہ اور اچھی طرح سوکھ جائیں۔
جس کہ بعد ان پر ایک اور بار مشین سے صاف کیا جاتا ہے پھر انہیں پلاسٹک میں لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور وقت آنے پر حرم پاک میں لایا جاتا ہے۔
جب انہیں حرم پاک میں بچھایا جاتا ہے تو اس پر گلاب کا پانی لگایا جاتا ہے تاکہ سجدہ کرتے وقت لوگوں کو گلاب کی خوشبو آئے۔
اس کی وجہ ہے کہ جب آپ سجدہ کریں تو آپ کو گلاب کی خوشبو آئے گی تو آپ کو اچھا لگے گا اور اگر سجدہ کرتے وقت کوئی بدبو آئے تو آپ سجدے سے جلدی سے اٹھ جائیں گے۔
اس لئے وہاں روزانہ قالینوں پر گلاب کا پانی لگایا جاتا ہے تاکہ لوگ سجدہ میں ہمیشہ خشوع میں ہوں۔
حرم پاک کی ہوا پر
خانہ کعبہ کے غلاف پر
حجر اسود پر
ہر جگھ پر خوشبو لگائی جاتی ہے۔
جس نے اس پوسٹ کا پہلا حصہ نہیں پڑھا تو پہلے وہ پڑھ لیں۔
مکہ پاک میں حرم پاک کے باہر 13 ہزار باتھ روم ہیں جن کو روزانہ چار بار صاف کیا جاتا ہے۔
اور یہ باتھ روم زمین کے اندر ہی بنائے گئے ہیں جہاں پنکھے بھی لگائے گئے ہیں اور مچھر، مکھی کو مارنے کا اچھا خاصا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ وہاں پر حال ہی میں ہر جگھ ایک ڈیوائس لگائی گئی ہے جس سے فائدے مند بیکٹیریا نکلتی ہے جو بدبو دار بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے جس سے ایک اچھی خوشبو پیدا ہوتی ہے۔
حرم پاک میں ایسی کوئی جگھ ہی نہیں جہاں آپ کو زمزم کے پانی کا کولر نہ مل سکے، وہاں 25 ہزار زمزم کے پانی کے کولر رکھے گئے ہیں جن کو روزانہ دھویا جاتا ہے اور روزانہ زمزم کے پانی سے بھرا جاتا ہے۔
وہاں روزانہ 100 تک مختلف جگھاوںسے زمزم کے پانی کے نمونے لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں تاکہ پانی کی سلامتی یا پانی کی صفائی کا خاص خیال
رکھا جائے۔
صرف اتنا نہیں بلکہ وہاں ایسے خاص لوگ بھی ہیں جو اپنی کمر پر ایک بیگ کی طرح زمزم کے پانی کا کولر رکھ کر طواف کرنے والوں کو زمزم کا پانی پینے کے لئے دیتے رہتے ہیں۔
اگر آپ کو نہیں پتا تو آج یہ جان لیں کہ زمزم کا کنواں مقام ابراہیم علیہ السلام اور حجر اسود کے درمیاں ہے جو خانہ کعبہ سے 21 میٹر کی دوری پر ہے۔
وہاں سے چار کیلومیٹر کی دوری پر سقیا زمزم نامی ایک سینٹر ہے جہاں زمزم کے پانی کو بوٹلوں میں بھر کر لوگوں کو دیا جاتا ہے، اس کارخانے میں ہر وقت تقریبا 17 لاکھ زمزم کی دس لیٹر والی بوٹلیں رکھنے کی جگھ موجود ہوتی ہے۔
وہاں پر
Maqraa
بھی ہے جس سے پوری دنیا کے لوگ اپنے گھر بیٹے حرم پاک کے قریب مختلف قاری کو قرآن پاک پڑھ کر سنائیں گے اور ان سے سیکھیں گے۔
یہ سروس 24 گھنٹے کی بلکل مفت میں دی جاتی ہے جس کو تین سال ہونے والے ہیں اور اس سروس سے تقریبا 180 ممالک کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔
وہاں پر سعودیہ کے بانی عبدالعزیز کے نام سے غلاف کعبہ کو بنانے کی ایک فیکٹری بھی ہے جہاں ہر سال ایک غلاف کعبہ تیار کیا جاتا ہے۔ اور اگر کسی کو وہاں غلاف کعبہ کی سلائی کرنے کا کام کرنا ہوتا ہے تو اسے پہلے 9 مہینے تک سیکھنا ہوگا پھر اسے وہاں غلاف کعبہ کی سلائی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔
مکہ پاک میں اکثر گرمی ہوتی ہے وہاں کبھی کبھی چالیس یا پچاس ڈگری تک بھی گرمی پہنچ جاتی ہے۔ اس لئے وہاں حرم پاک کی زمین کے اندر ٹھنڈا پانی بھی ہوتا ہے اس لئے وہاں گرمی میں بھی آپ کو حرم پاک کی زمیں پر لگے
Marble
ٹھنڈے لگیں گے۔
مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ
Marble
کہاں سے لائے جاتے ہیں؟
وہ
Marble
یونان نامی ملک کے ایک
Thasos
نامی جگھ سے خاص منگوائے جاتے ہیں۔
صرف اتنا نہیں بلکہ ان
Marble
کو حرم پاک میں اس طرح لگایا جاتا ہے کہ سب کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے تاکہ جب بھی آذان یا نماز ہو تو لوگوں کو یہ پتا چل جائے کہ کس طرف اپنا رخ کر کے نماز پڑھیں
مکہ پاک میں حرم پاک کے لئے ایک
Al Maqsad
نامی اپلیکیشن بھی ہے۔ یہ اپلیکیشن آپ کو حرم پاک کی کسی بھی جگھ پر لے جا سکتی ہے۔
یہ اپلیکیشن عربی، اردو اور انگلش میں بھی ہے۔ اسے کھول کر آپ وہاں کسی بھی جگھ کا راستہ پوچھ سکتے ہیں اور یہ اپلیکیشن آپ کو وہاں تک پہنچا دے گی۔
وہاں پر آواز کا جو سسٹم ہے وہ دنیا کا ایک بڑا سسٹم مانا جاتا ہے جس کی غلطی کی گنجائش زیرو فیصد ہے۔
ما شاء اللہ
یہ بات شاید آپ کو پہلی بار پتا چلے گی کہ وہاں ایک نہیں دو نہیں بلکہ آواز کے چار سسٹم موجود ہے، اگر ایک خراب یا بند ہوجاتا ہے تو دوسرا خود بہ خود چل جائے گا جس سے آذان یا نماز کی آواز کبھی کٹ ہی نہیں سکتی۔
وہاں پر چھ ہزار سپیکر لگائے گئے ہیں اور چار سسٹم ہیں جن کے لئے خاص 50 لوگ رکھے گئے ہیں جو ان کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔
تقریبا 80 فیصد مسلمان عربی نہیں ہیں۔
سب سے زیادہ مسلمانوں والے پانج ممالک جن میں ایک بھی عربی ملک نہیں۔
جن کی خاطر حرم پاک میں 65 مختلف زبانوں کے ترجمے کے قرآن پاک رکھے گئے ہیں۔
صرف اتنا نہیں بلکہ جو لوگ عربی نہیں سمجھتے ان کے لئے پانچ مختلف زبانوں میں جمعے کے دن کا خطبہ چلایا جاتا ہے جس سے وہ اپنے موبایل پر ہی
Headphone
لگا کر پانچ مختلف زبانوں کا خطبہ براہ راست سن سکتے ہیں۔
اور تو اور جن لوگوں کو سنائی نہیں دیتا ان کے لئے وہاں خاص جگھ پر ایک شخص ان کو ہاتھ کے اشاروں سے جمعے کے خطبہ بتاتا رہتا ہے۔
جو لوگ نابینا ہوتے ہیں ان کے لئے ایک خاص قسم کے قرآن پاک وہاں رکھے گئے ہیں جو اپنی انگلیوں سے محسوس کر کے قرآن پاک پڑھتے ہیں۔
وہاں پر دس ہزار وہیل چیئر اور چار سو الکٹرک
وہیل چیئر ہیں جو معذوروں کو بلکل مفت میں دی جاتی ہیں۔
ایک اور خاص قسم کی وہیل چیئر بھی ہے جو ابھی تک نہیں لائی گئی مگر بہت جلد وہ بھی حرم پاک میں لائی جائے گی۔
وہاں پر ایسی الکٹرک وہیل چیئر بھی لائی جا رہی ہی جس پر تین لوگ بھی بیٹھ کر طواف کر سکتے ہیں۔
وہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو باہر سے آئے بزرگ لوگوں کو وہیل چیئر پر بیٹھا کر بلکل مفت میں انہیں عمرہ کرواتے ہیں۔
آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ رمضان مبارک کے مہینے میں حرم پاک میں تقریبا چالیس لاکھ لوگوں کے لئے افطاری کا سامان ہوتا ہے۔ پانچ لاکھ کھجوریں حرم پاک کے اندر اور پانچ لاکھ کھجوریں حرم پاک کے باہر روزے داروں کو دی جاتی ہیں۔ اور روزہ کھولنے کے بعد سب کچھ صرف اور صرف دو منٹ میں صاف کیا جاتا ہے کہ جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
حضرت سلمان فارسیؓ ایک صحابی ہیں، وہ ایران میں رہتے تھے، آتش پرست تھے۔ ان کے والد کا ایک ہی کام تھا کہ وہ ہر وقت آگ جلائے رکھتے تھے وہ آگ کو بجھنے نہیں دیتے تھے۔ ان بے چاروں کا خدا کہیں بجھ نہ جائے لہٰذا اس کو لکڑیاں دینی پڑتی ہیں۔اس نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا کہ بیٹا! آپ کا بھی ایک ہی کام ہے کہ آگ جلتی رہنی چاہیے یہ اچھے بھلے بڑی عمر کے ہو گئے مگر ان کو باہر کی دنیا کا پتہ ہی نہیں تھا۔
ایک مرتبہ ان کا والد بیمار ہو گیا۔ اس نے ان کو بھیجا کہ زمینوں پر جاؤ، وہاں سے پیسے لے کر آنے ہیں لیکن یاد رکھنا کہ سیدھا جانا اور سیدھا آنا، وقت ضائع نہ کرنا۔ انہوں نے پہلے کبھی باہر نکل کر نہیں دیکھا تھا۔ اب ان کو باہر نکلنے کا موقع ملا۔ چنانچہ جب باہر نکل کر جا رہے تھے تو ایک راہب (عیسائیوں کا عالم) ان کو مل گیا۔ انہوں نے اس راہب سے راستہ پوچھا، ان کی آپس میں بات چیت ہونے لگی۔ راہب نے ان سے پوچھا کہ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے بتا دیا۔ اس طرح بات چیت سے ان کو راہب کے ساتھ ایک تعلق ہو گیا۔ اس نے کہا کہ یہاں قریب ہی ایک چرچ ہے، میں وہاں پر ہوتا ہوں، تجھے جب موقع ملے میرے پاس سے ہو کرجایا کرو۔ چنانچہ وہ جب بھی ادھر آتے جاتے وہ اس کو مل کر جاتے۔راہب نے ان کے سامنے عیسائیت کی تعلیمات پیش کیں۔ اس وقت عیسائی مذہب سچا مذہب تھا۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ یہ مذہب بالکل ٹھیک ہے لہٰذا میں یہ مذہب اختیار کروں گا۔ یہ اس سے پوچھنے لگے کہ کیا میں یہ تعلیم حاصل کر سکتا ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں مگر بڑے عالم فلاں شہر میں رہتے ہیں، اگر آپ نے علم حاصل کرنا ہے تو ان کے پاس چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے پاس کیسے جاؤں گا؟ راہب نے کہا کہ وہاں قافلے جاتے ہیں، جب اگلا قافلہ جائے گا تو میں آپ کو اس قافلے والوں کے ساتھ بھیج دوں گا۔ وہ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے بس مجھے اطلاع دے دینا، میں گھر سے آجاؤں گا، کیونکہ اگر میں یہاں رہا تو ابو مجھے آگ جلانے پر ہی رکھیں گے اور اس کی وجہ سے میری زندگی بھی نہیں سنورے گی، لہٰذا بہتر ہے کہ میں وہاں جا کر علم حاصل کر لوں۔جب ایک قافلہ جانے لگا تو اس راہب نے ان کو اطلاع دی اور یہ قافلے کے ساتھ وہاں چلے گئے۔ جس کے پاس گئے وہ بڑی عمر کا عالم تھا۔ انہوں نے اس عالم سے تقریباً ایک سال تک پڑھا اور اس کے بعد وہ فوت ہو گئے،
حضرت سلمان فارسیؓ بڑے پریشان ہوئے کہ میں ان سے پڑھنے آیا تھا اور یہ فوت ہو گئے ہیں۔پھر وہ ان سے بھی بڑے عالم کے پاس گئے، وہ بھی بوڑھے ہو چکے تھے۔ ان کے پاس کچھ عرصہ پڑھا ہی تھا کہ وہ بھی بیمار ہو گئے، لہٰذا انہیں پھر پریشانی ہوئی۔ اسی پریشانی کے عالم میں ان سے پوچھا کہ اب میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں، آپ میرے بعد فلاں سے علم حاصل کر لینا،
چنانچہ جب وہ عالم فوت ہوئے تو وہ تیسرے کے پاس چلے گئے۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ تیسرا بھی بوڑھا تھا وہ بیمار ہو گیا۔ اب تو حضرت سلمان فارسیؓ رونے لگے کہ پتہ نہیں یہ کیا معاملہ ہے کہ میں جدھر بھی جاتا ہوں ادھر استاد مجھے داغ مفارقت دے جاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟ اس نے کہاکہ اب وہ وقت آ گیا ہے جس میں نبی آخر الزماںؐ نے تشریف لانا ہے،
میں نشانیاں بتا دیتا ہوں لہٰذا آپ کوشش کرکے اس علاقے میں چلے جائیں، جہاں انہوں نے آنا ہے، وہاں جا کر ان سے تعلیم حاصل کرنا یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ چنانچہ اس نے انہیں وہ نشانیاں بتا دیں اور ایک قافلہ والوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ بھی کر دیا۔ اس زمانے میں مدینہ کو یثرب کہا جاتا تھا۔قافلہ والوں نے درمیان میں بدعہدی کی کہ یہ بچہ ہے اور اس کا کوئی والی وارث نہیں،
انہوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر انہیں ایک غلام کی حیثیت سے بیچ دیا۔ اور انہیں ایک یہودی نے خرید لیا۔ ان کا وہاں کوئی واقف نہ تھا۔ البتہ انہوں نے جب یہ علاقہ دیکھا اور ان نشانیوں کو دیکھا جو ان کے استاد نے انہیں بتائی تھیں تو ان کو تسلی ہو گئی کہ یہ علاقہ وہی ہے جہاں نبی آخر الزماںؐ نے تشریف لانا ہے۔ چنانچہ دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب میں یہیں رہوں گا۔اس یہودی کا کھجوروں کا ایک باغ تھا۔
وہ سارا دن اس میں کام کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ کھجور کے ایک درخت پر چڑھ کر کھجور اتار رہے تھے کہ اس یہودی کا ایک دوست اسے ملنے آیا۔ وہ اس یہودی کے ساتھ مل کر باتیں کرنے لگا۔ باتوں ہی باتوں میں وہ کہنے لگا کہ مکہ سے ایک آدمی یہاں آئے ہیں اور وہ نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے نبوت کے یہ الفاظ سنے تو انہوں نے شوق میں اوپر سے نیچے چھلانگ لگا دی کیوں کہ وہ پہلے ہی
ایسی خبر پانے کے منتظر تھے۔ ماشاء اللہ! بچوں کا کام ایسا ہی ہوتا ہے۔ آ کر اس یہودی سے پوچھنے لگے کہ جی! وہ کون سے نبی تشریف لائے ہیں۔ یہودی نے جب یہ سنا تو اس نے انہیں زور سے ایک تھپڑ لگایا اور کہا کہ جا تو اپنا کام کر۔ ان کو چھلانگ لگانے سے پاؤں میں تکلیف ہو رہی تھی، ساتھ ہی تھپڑ کی تکلیف بھی برداشت کرنا پڑی۔ پھر جا کر خاموشی سے کام کرنے لگے پھراس سوچ میں پڑ گئے کہ اب میں کیا کروں۔
بالآخر ان کے دل میں یہ بات آئی کہ مجھے ہفتہ میں ایک دن چھٹی ہوتی ہے۔ میں اس دن جا کر بستی والوں سے پوچھوں گا کہ کون آئے ہیں۔ چنانچہ وہ چھٹی کے دن بستی میں پہنچے اور پوچھتے پوچھتے وہ نبی کریمؐ کی خدمت میں پہنچ گئے اور زیارت کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی۔ان کو استاد نے نبی آخر الزماںؐ کی دو نشانیاں بتائی ہوئی تھیں ایک نشانی تو یہ کہ وہ ہدیہ قبول کر لیں گے اور دوسری نشانی یہ کہ وہ صدقہ کا
مال قبول نہیں فرمائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے کچھ ہدیہ لا کر نبی کریمؐ کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ صدقہ کے پیسے ہیں آپ قبول فرما لیجئے۔ اللہ کے محبوبؐ نے ارشاد فرمایا، نہیں ہم تو صدقہ نہیں لیتے۔ ایک نشانی پوری ہو گئی۔ پھر کسی دوسرے موقع پر عرض کیا، جی یہ ہدیہ قبول فرما لیجئے۔ آپؐ نے وہ ہدیہ قبول فرما لیا۔اس طرح دوسری نشانی بھی پوری ہو گئی۔ ماشاء اللہ اب ان کے دل کو تسلی ہو گئی اور کلمہ پڑھ کر
آپؐ کے غلاموں میں شامل ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نبی کریمؐ کی خدمت میں اپنی کیفیت بیان کی۔ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم آتے رہا کرو۔ چنانچہ شروع میں انہوں نے اپنے ایمان کو چھپایا۔ وہ چھٹی کے دن محبوبؐ کی خدمت میں آ جاتے اور دن گزار کر چلے جاتے۔کچھ عرصہ بعد نبی کریمؐ کی محبت نے اتنا جوش مارا کہ کہنے لگے کہ اب تو مجھ سے جدا نہیں رہا جا سکتا۔ اللہ کے محبوبؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم اس یہودی
سے جا کر طے کر لو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر اسے کہا کہ جی آپ مجھے آزاد کر دیں، اس کے بدلے آپ جو رقم کہیں وہ ادا کر دوں گا یا جو کام کہیں گے وہ کر دوں گا۔وہ یہودی بڑا تیز تھا۔ اس نے کہا کہ میں دو شرطوں پر آپ کو آزاد کرتا ہوں۔ ایک شرط تو یہ ہے کہ کھجوروں کے تین سو درخت لگاؤ، جب وہ پھل دینا شروع کر دیں گے تب پہلی شرط پوری ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر آج درخت لگائیں تو پھل لگانے میں کئی سال
لگ جائیں گے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ تم تین اوقیہ سونا مجھے دینا۔ اس کا خیال تھا کہ اتنے سونے میں تو پچاس غلام آ جاتے ہیں۔ یہ کہاں سے اتنا دے سکے گا۔انہوں نے اس کی یہ شرطیں قبول فرما لیں۔ اور آ کر نبی کریمؐ کی خدمت میں بھی بتا دیا۔ وہ ابھی ادھر ہی بیٹھے تھے کہ ایک آدمی نے سونے کا ایک ڈلا نبی کریمؐ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔ نبی کریمؐ نے وہ سونا ان کو دے دیا اور فرمایا، سلمان! اللہ تعالیٰ نے تیرا
کام آسان کر دیا ہے، جاؤ اور اسے یہ دے دو۔ اب یہ لے گئے اور اس یہودی کو جا کر وہ سونا دے دیا۔ سونے کا وہ ڈلا دیکھنے میں تو چھوٹا سا لگتا تھا لیکن جب اس نے وزن کیا تو بالکل پورا نکلا وہ بڑا حیران ہوا۔ اس نے سوچا کہ شاید ترازو میں کوئی خرابی ہو۔ چنانچہ اس نے ترازو کو ٹھیک کیا اور پھر تولا۔ پھر وہ وزن پورا نکلا۔ اس طرح اس نے کئی بار وزن کیا اور ہر بار وزن برابر نکلا۔ بالآخر وہ حیران ہو کر کہنے لگا، چلو ٹھیک ہے۔ اب کھجوروں کا باغ لگاؤ۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے پھر نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم زمین تیار کرو اور ہمارا انتظار کرنا۔ ہم آ کر تمہارے ساتھ کھجوریں لگوائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اللہ کے محبوبؐ نے آ کر ان کے ساتھ کھجوریں لگوائیں اور ان کھجوروں نے اسی سال پھل اٹھایا۔ اللہ اکبر! جب دونوں شرطیں پوری ہو گئیں تو اسے آزاد کرنا پڑا۔آزاد ہو کر وہ نبی کریمؐ کی
خدمت میں آ گئے اور عرض کیاض اے اللہ کے نبیؐ میں حاضر ہوں، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا، اب تم اصحاب صفہ میں شامل ہو جاؤ۔ جو فقراء مکہ مکرمہ، حبشہ اور دوسری جگہوں سے ہجرت کرکے آئے ہوئے تھے۔ ان کے لیے ایک چبوترہ سا بنا ہوا تھا۔ اس پر وہ رہتے تھے، ان کو اصحاب صفہ (چبوترہ والے) کہا جاتا تھا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی انہی میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ بھی اصحاب صفہ
میں شامل ہو گئے اور ان کے مانیٹر بن گئے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا قدر دانی کا معاملہ فرمایا۔اپنا گھر کس لیے چھوڑا تھا؟۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے رشتہ داروں کو کس لیے چھوڑا تھا؟ اللہ تعالیٰ کے لیے تو جس نے اپنا گھر بار اور اپنے رشتہ دار اللہ کی رضا کے لیے چھوڑے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی اتنی قدردانی فرمائی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’سلمان تو ہمارے اہل بیت میں سے ہے۔‘‘تو اللہ کے محبوبؐ نے حضرت سلمان فارسیؓ کو اپنے اہل بیت میں شامل فرما لیا، اللہ اکبر! رشتہ داروں کو چھوڑا تو اللہ رب العزت نے ان کی نسبت کن کے ساتھ کر دی؟ اہل بیت کے ساتھ۔“
نماز کی حالت میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے کیوں کہ یہودیوں کی عبادت بند آنکھوں سے ہوتی ہںے ۔*
🍀 *نماز میں جب قیام میں ہوں تو نظریں سجدے کی جگہ رکھیں تاکہ احساس ہو کہ ایک دن ہمیں زمین میں دفن ہونا ہے ۔
🍀 *جب رکوع میں جائیں تو پاؤں کی انگلیوں پر نظر ہو تاکہ یاد رہے کہ ہماری جان پاؤں سے نکلنا شروع ہوتی ہے ۔
🍀 *جب سجدے میں جائیں تو ناک کی سمت میں دیکھیں کیوں کہ مرنے کے بعد سب سے پہلے ناک کے حصے میں تبدیلی آتی ہںے ۔
🍀 *اور جب قاعدے میں بیٹھیں تو نظریں دامن {جھولی} کی جگہ ہونی چاہئیے تاکہ یہ بھی احساس ہوجائے کہ ہمارا دامن اب بھی خالی ہے۔
📍 *تدفین کے ایک دن بعد یعنی موت کے ٹھیک 24 گھنٹے بعد ہی { آنتوں میں ایک ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل شروع ہوجاتا ہںے جو مردے کے پاخانے کے راستے باہر کی طرف نکلنا شروع ہوتے ہیں ساتھ ہی ناقابل برداشت بدبو پھیلانا شروع کرتے ہیں جو دراصل اپنے ہم پیشہ حشرات الارض کیڑے مکوڑے اور سب سے اہںم قبر بچھو کو مردے کا گوشت کھانے کے لئے مدعو کرنے کا اعلان ہوتا ہے}
📍 *تدفین کے تین دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہوجاتی ہے چھ دن بعد ناخن گرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔
📍 *نو دن کے بعد بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور پیٹ پھولنا شروع ہوجاتے ہیں سترہ دن بعد پیٹ پھٹ جاتے ہیں اور دیگر اجزاء باہر نکل آتے ہیں۔
📍 *ساٹھ دن بعد مردے کے جسم سے سارے گوشت ختم ہوجاتے ہیں ۔
📍 *نوے {90} دن کے بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ۔
*ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں اور دوسال بعد ہڈیوں کا وجود بھی ختم ہوجاتا ہے ۔
⭕ *غرور، تکبر، نفرت، ،دولت کی ہوس، دشمنی، رنجشیں، کینہ کپٹ، حسد، جلن، شہرت عزت، نام ونمود عہدہ یہ سب کہاں جاتا ہے پتہ نہیں ۔۔۔شاید دنیا ہی میں رہ جاتا ہںے