حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
''میں نے ایک نوجوان کو زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا، وہ بہت زیادہ رو رہا تھا، میں نے اپنے ایک دوست سے کہا: ''آؤ! اس کے پاس چلیں، یقینا یہ بیمار ہے۔''
تو میرے دوست نے کہا: ''یہ بیمار نہیں، بلکہ باطن میں عاشق اور ظاہراً مجنون ہے۔ اس کا دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے اور اسے عُبَیْد مجنون کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''میں اس کے قریب ہوا تو دیکھا کہ اس نوجوان کا جسم کمزور تھا، اور اس پر اُون کا ایک جبہ تھا اور وہ کہہ رہا تھا: ''تعجب ہے اس پر جس نے تیری محبت کی حلاوت کو چکھ لیا! وہ کیسے تیری بارگاہ سے دور ہو سکتا ہے؟'' پھر وہ اسی بات کو دہراتا رہا یہا ں تک کہ بے ہوش ہو گیا، میں نے اپنے دو ست کو کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجنون وہ ہوتا ہے جو اس مقام تک نہ پہنچا ہو، جب اس کو ہوش آیا تو پوچھنے لگا: ''آپ مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں؟''
ہم نے کہا: ''شاید! آپ کو دوا کی ضرورت ہے جو آپ کو اس بیماری سے شفایاب کر دے۔''
اس نے کہا: ''جس ذات نے مجھے اس بیماری میں مبتلا کیا ہے دوا بھی اسی کے پاس ہے، لیکن جو بھی اس بیماری کا علا ج کرانا چاہتا ہے وہ مزید بیمار ہو جاتا ہے۔''
میں نے کہا: ''وہ علاج کیا ہے؟'' تو اس نے بتایا کہ ''اس بیماری کا علاج حرام کو ترک کرنے، گناہوں سے اجتناب کرنے، مراقبہ کرنے، رات کو نمازِ تہجد ادا کرنے میں ہے جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔'' یہ کہنے کے بعد وہ بہت زیادہ رویا اور ہم بھی اس کے سا تھ رونے لگے پھر ہم نے اس سے کہا: ''ہم آپ کے مہما ن ہیں، ہمارے لئے دعافرمائیے۔''
تو اس نے کہا: ''میں اس میدان کے شاہسواروں میں سے نہیں ہوں۔'' ہم نے اس کو قسم دی تو اس نے دعا کی: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اور آپ کے اعمالِ صالحہ قبول فرمائے اور مغفرت کے ساتھ تمہاری میزبانی فرمائے، جنت کو تمہارا ٹھکانہ بنائے اورتمہارے اور میرے دل میں موت کی یاد ڈال دے۔'' پھر ہم اس سے جدا ہوگئے اس حال میں کہ ہمیں اس کی اچھے الفاظ پر مشتمل دعا بڑی بھلی لگی اور اس کے کلا م و نصیحت سے ہمارے دل زندہ ہوگئے۔''
پیارے اسلامی بھائیو! یہ تو ایک دیوانے کی حالت ہے جو کہ حبیب سے محبت کرتا ہے۔ تو تم جیسے عقلمند اور دانا کا کیا حال ہونا چاہے؟ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہیں بلاتا ہے لیکن تم جواب نہیں دیتے، تمہیں توبہ کا حکم دیتا ہے مگر تم توبہ نہیں کرتے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس کی بارگاہ میں حاضر رہو اور تم ہو کہ ہر وقت غا ئب رہتے ہو، کب تک تم اپنی عمر ضائع کرتے رہو گے؟
حالانکہ اس سے تمہیں کچھ نہیں ملا، کب تک اپنی لغزش کا بہانہ بناتے رہو گے؟ اور تمہارے گلے میں اٹکنے والی موت کے معاملے کو طبیب کے پاس نہیں لایا جائے گا۔ تمہاری ہلاکت و بربادی! اس کی بارگاہ میں توبہ کے لئے جلدی کرو، وہ تمہارے قریب ہے تم اس سے ہدایت و توفیق کا سوال کرو، غم و تنگی کو دور کر نے میں اسی کا قصد کرو کہ وہ اپنی بارگاہ کا ارادہ کرنے والوں کو رسوا نہیں فرماتا، اوراس عمل کے ذریعے قرب حاصل کرو جو اس کو پسند ہو، اس کی نافرمانیوں سے ڈرو اس لئے کہ وہ حا ضر ہے، غائب نہیں، اور اسی سے مانگو اس لئے کہ وہ اپنے ما نگنے والوں کو عطا فرماتا ہے، اسی وقت اس کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اس کے سامنے گریہ و زاری کرو، قریب ہے کہ وہ تمہیں اپنی اطاعت کے لئے چن لے اور تمہیں ہدایت کی توفیق عطافرمادے، اللہ عَزَّوَجَلّ ارشاد فرماتاہے:
اَللہُ یَجْتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
اور اللہ اپنے قریب کے لئے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے۔(پ ۲۵، الشو ریٰ ۱۳)
___
اَلرَّوضُ الْفائق فِی الْمواعظ والرَّقائق حکایتیں اور نصیحتیں: ص ۷۲۔
Post A Comment:
0 comments so far,add yours