حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ آپ ولایت کے بلند مقام تک کیسے پہنچے
بایزید بسطامی فرماتے ھیں صرف ماں کی دعا سے میں نے چلے نہیں کاٹے ریاضت نہیں کی صرف ماں کی رعا نے مجھے پستی سے اٹھا کر بلندی پر پہنچایا
جب میں نے ہوش سنبھالا اور چاھا کہ میں اللہ کا برگزیدہ بن جاؤں تو میں نے اپنی ماں سے کہا ماں یا مجھے عبادت کرنے دو چلے کاٹنے دو  اور اپنا حق معاف کر دو یا پھر مجھے اپنی خدمت کرنے دو صرف میں تیری خدمت کیا کروں تو ماں بھی کوئ عام ماں نہ تھی جسکا بیٹا بایزید ھو اس ماں کی عظمت کا اندازہ آپ لگاسکتے ھیں ماں نے فرمایا جا بیٹا میں اجازت دیتی ھوں عبادت کر اور گوھر مقصود کی طرف نکل
بایزید فرماتے ھیں بیس سال گھر سے نکل کر عبادت کی ریاضت کی چلے کاٹے لیکن حجابات دور نہ ھوۓ سینہ روشن نہ ھوا باطنی آنکھ نہ کھل سکی بیس سال بعد گزرتے گزرتے اپنے علاقے  سے گزرا تو خیال آیا ماں کا پتہ کروں زندہ ھے کیسی ھے کس حال میں ھے تو اندازے سے رات کو اپنا گھر تلاش کیا جب دروازے کے پاس پہنچا تو اندر سے ایسے آواز آئ جیسے کوئ وضو کر رھا ھو اور ساتھ ماں کی آواز آئ یا اللہ میرے بیس سالا مسافر کی خیر ھو
میں نے دروازے پر دستک دی آواز آئ کون
میں بولا ماں تیرا بیس سالا مسافر ھوں ماں نے جھٹ دروازہ کھولا سینے سے لگایا بھوسے دئیے کچھ باتیں ھوئیں جب ماں لیٹ گئی تو ماں نے فرمایا بیٹا پانی پلاؤ میں نے مشکیزہ دیکھا تو خالی تھا میں دریاۓ دجلہ کی طرف گیا سخت سردی میں پانی لایا جب گھر پہنچا پانی ایک پیالے میں ڈالا اور ماں کی طرف گیا تو دیکھا وہ سو چکی تھی
میں پیالے پکڑے کھڑا رھا کب ماں کی آنکھ کھلے اور وہ پانی مانگے
صبح تحجد کے وقت ماں کی آنکھ کھلی مجھے کھڑے دیکھا تو میں نے ماں سے کہا پانی مجھ سے پوچھا کب سے کھڑا ھے میں بولا ماں رات سے کھڑا ھوں کب آپکی آنکھ کھلے اور آپ پانی مانگیں اگر میں سو رھا ھوتا تو آپ کو تکلیف ھوتی اسلیے کھڑا رھا
جب ماں نے یہ سنا تو ماں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں ماں کے ھاتھ اٹھے اور رب کی بارگاہ میں التجا ھوئ یا اللہ میرے بیٹے بایزید کو وہ عطا کر جو وہ چاھتا ھے
بایزید فرماتے ھیں ادھر ماں کے ھاتھ اٹھے اور ادھر میری آنکھوں کے حجابات دور ھو گۓ سینہ روشن ھو گیا باطنی آنکھ روشن ھو گئی میری نگاہ کے سارے پردے دور ھوۓ یہ ایک ماں کی دعا تھی
دنیاداری دے سارے رشتے آں تو
کوئ ساکھ نہیں ماں دے ساکھ ورگا
پتر بھانویں زمانے دا غوث ھووے
نہیں ماں دے پیراں دی خاک ورگا
اچاں بول تو نہ ماں جے بول بیٹھی
ماں سامنے لباں نوں سی لیا کر
جے تینوں سکون دی لوڑ ھوے
پیر ماں دے دھو کے پی لیا کر

Share To:

Post A Comment:

0 comments so far,add yours