حضرت بلھے شاہ کا حقیقی نام سید عبداللہ شاہ ہے لیکن عرف عام میں وہ بلھے شاہ کے نام سے جانے پہنچانے جاتے ہیں۔ پنجابی کلچر میں اصل ناموں سے عرف بنانا ایک عام سی بات ہے، حضرت بلھے شاہ نے اپنی شاعری میں اسے ایک تخلص کے طورپر استعمال کیا۔اس کی ایک اور صوفیانہ تاویل کی جاسکتی ہے۔ بُھلا سے مراد بھولا ہوا بھی ہے، یعنی وہ اپنی ذات کو بھول چکا ہے۔ بلھے شاہ کا یہ نام اتنا مشہور ہوا کہ لوگ ان کے اصل نام سید عبداللہ شاہ کو بھول گئے ۔
آپ کے والد کا نام سخی شاہ محمد درویش تھا جن کا خاندانی سلسلہ شیخ عبدالقادر جیلانی سے جاملتا ہے
بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کانمایاں ترین مظہر ہیں۔ ان کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتبہ فکر سے تھا۔ ان کی ذہنی نشوونما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لئے ان کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔
ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لئے ان کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔
مفکر شاعروں میں آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ آپ کی آواز شمالی ہندوستان کے ہر کونے میں اور ہر لہجے میں گونجی۔ ان کی کافیاں اور دوہڑے پنجاب میں ہی نہیں سندھ، راجستھان اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھی عوام کے دل کی آواز بن گئے ہیں۔ آپ کی شاعری کسی بھی قوم کے لیے مشعل راہ ہے۔
اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔
بلھے شاہ کا وصال 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں مدفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال ان کی صوفیانہ شاعر ى سے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
’بلھے شاہ اساں مرنا نا ہیں گور پیا کوئی ہور‘
(بلھے شاہ ہم مرنے والے نہیں، قبر میں کوئی اور پڑا ہے)۔
Post A Comment:
0 comments so far,add yours