حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن مہذب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرما تے ہیں: ''ایک دفعہ میں غلاموں کے بازار سے گزرا، دَلاَل کو دیکھا کہ وہ ایک غلام کو بیچتے ہوئے کہہ رہا تھا:''میں اس کو اس کے عیب پربیچتا ہوں۔'' میں نے دلال سے پوچھا: ''اس میں کیا عیب ہے ؟'' اس نے کہا: ''اسی سے پوچھ لیجئے۔'' میں نے غلام کے قریب جاکر اس سے دریافت کیا: ''تجھ میں کیا عیب ہے؟'' اس نے بتایا:
_
''اے میرے آقا! میرے عیوب بہت زیادہ ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ مَیں لوگوں میں کس عیب سے مشہور ہوں۔''میں نے دلال سے کہا: ''مجھے یہ بتاؤکہ اس میں کیا عیب ہے؟'' اس نے کہا: ''اسے جنون کی بیما ری ہے۔'' میں نے غلا م سے پوچھا: ''تجھے مرگی کب ہوتی ہے؟ کیاہرسال یاہرماہ یاہرجمعہ؟'' اس نے کہا:
_
''اے میرے آقا! جب محبت کی بیماری دل پر غالب ہوتی ہے تو تما م اعضاء میں سرایت کر جا تی ہے اور جب دوسرے اعضاء پر غالب آتی ہے تو محبت کا خمار تما م جسم میں پھیل جاتا ہے اور عقل محبوب کی یاد میں کھو جاتی ہے، دل مستغرق ہوجاتا ہے، بدن ساکن ہو جا تا ہے اور جا ہل اس کو جنون سمجھتے ہیں۔''
_
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ غلا م اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اولیاء میں سے ہے۔ میں نے دلال سے کہا:''یہ غلا م کتنے میں بیچوگے؟''اس نے دو سو درہم(200) بتائے تومیں نے
دو سوبیس درہم دے دیئے اور غلا م کو گھر کے قریب لاکر اس سے کہا:''اندر داخل ہو جاؤ۔''
اس نے انکار کرتے ہوئے پوچھا: '' کیاآپ کے گھر والے ہیں؟'' میں نے کہا: ''جی ہاں۔'' اس نے کہا: ''غیرمحرم کی طرف کون دیکھ سکتا ہے؟'' میں نے اسے کہا: ''تجھے اجازت ہے۔'' اس نے کہا:'' اللہ عزَّوَجَلَّ پناہ عطا فرمائے! جب بھی آپ کی کوئی حاجت ہو گی تو میں اس کو دروازے کے با ہرہی سے پو را کردوں گا۔'' بہرحال میں خاموش ہو گیا اوراسے اس کے حال پر چھوڑ دیاپھر اس کے لئے کھانا لایاتو اس نے کہا: ''میں روزے دار ہوں۔
'' جب رات ہوئی، میں رات کا کھانا لایا تو اس نے کہا: ''مجھے بھوک نہیں۔'' اوروہ گھرکی چوکھٹ پر ہی ٹھہرگیا، آدھی رات کوجب میں اس کے پا س گیا تو دیکھا کہ وہ قیام کی حالت میں نماز پڑھ رہا ہے اور اسے میرے آنے کا علم نہ ہوا، جب نماز سے فارغ ہوا تو سجدہ کیا اور بہت رویا۔ میں نے اس کی مناجات سنیں،وہ کہہ رہا تھا:
''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! سب بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر دیئے ہیں لیکن تیرا دروازہ سا ئلوں کے لئے کھلا ہوا ہے۔اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! ستارے ڈوب رہے ہیں، آنکھیں سوگئی ہیں، تو ایسا زندہ اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے جس کو نہ اُو نگھ آتی ہے، نہ نیند۔
اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ ! تو نے زمین بچھا کر ہر محبوب کو اس کے محب سے ملا دیا اور تو خود سارے محبت کے ماروں کا محبوب ہے۔ اے تنہا ئی کے ماروں کے غمگسار! اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! اگر تو نے مجھے اپنے دروازے سے دُور کر دیا تو پھر کس کے دروازے پر جا کر التجا کروں گا۔
يا اللہ العالمین عَزَّوَجَلَّ ! اگر تو مجھے عذاب دے تو بے شک میں مستحقِ عذا ب ہوں اور اگر تو معا ف فرما دے توتوُ جودوکرم والاہے۔''پھر وہ غلا م بیٹھ گیا، اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے رو یا اور کہا:
''اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! تیرے فضل سے ہی صالحین وعارفین نے نجات حاصل کی، کوتاہی کرنے والوں نے تیری ہی رحمت کے باعث توبہ کی۔ اے معاف فرمانے والے! مجھے بھی اپنے عفو و مغفرت کا ذائقہ چکھا دے، اگرچہ میں اس کا اَہل نہیں مگر تو تو معاف فرمانے والا ہے۔''
پھر میں کمرے میں دا خل ہو گیا اور کسی قسم کی حیرت کااظہار نہ کیا،جب صبح ہوئی تو میں نے اس کے پا س جاکر کہا: ''رات کو کیسی نیند آئی؟''
تواس نے جواب دیا: ''اے میرے آقا! کیا وہ شخص سوسکتا ہے؟ جس کو آگ کے عذاب، خدائے جبَّارعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیشی اور گناہوں پر ملا مت کا خوف ہو۔'' پھر وہ بہت دیر تک روتا رہا تو میں نے کہا: ''جا، تو رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے آزاد ہے۔'' تو وہ دوبارہ رو کر کہنے لگا:
''اے میرے آقا! پہلے میرے لئے دو اجر تھے، ایک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندگی کا اور دوسرا آپ کی خدمت کا۔ اب صرف ایک اجر ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کوعذابِ نارِسے آزادی عطا فرمائے۔''
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن علیہ رحمۃ الرحمن فرما تے ہیں: '' پھر میں نے اس کو کچھ خرچ دیا مگر اس نے قبو ل نہ کیا اورکہنے لگا: ''رزق کی ذمے دار وہ زندہ ہستی ہے جس کو موت نہیں۔'' پھر وہ نکل کھڑا ہوا اس حال میں کہ اس کے چہرے پر غم کا اثر عیا ں تھا۔ میں نہیں جا نتا کہ وہ کہا ں گیا۔
سُبْحَانَ اللہ عزَّوَجَلَّ!
اس غلام کو اللہ عَزَّوَجَلّ کی ملاقات کا کس قدر شوق تھا اور مطلوب کے فوت ہونے پرکس قدر غم ۔ اے غفلت کی قید میں جکڑے ہوئے! اگر تو اُمیدکی وادی میں جھانکے تو دیکھے گا کہ عبادت گزاروں کے خیمے سمندر کے سا حل پر ٹوٹے ہوئے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلّ ارشادفرماتاہے:
_
(1) کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ ﴿17﴾
ترجمۂ کنزالایمان:
وہ را ت میں کم سویا کرتے۔ (پ26،الذّٰرِیٰت:17)
,
اور تو غمزدہ پرندوں کو غم کی ٹہنیوں پر مسحورکن آواز میں یہ گنگناتے ہوئے سنے گا:
(2)وَ بِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوۡنَ ﴿18﴾
ترجمۂ کنزالایمان:
اور پچھلی را ت استغفا ر کرتے۔ (پ26،الذّٰرِیٰت:18)
_
؎ رات پوے تے بے درداں نوں نیند پیاری آوے
درد منداں نوں یاد سجن دی ستیاں آن جگاوے
_
اَلرَّوضُ الْفائق فِی الْمواعظ والرَّقائق حکایتیں اورنصیحتیں، ص ۶۹
Post A Comment:
0 comments so far,add yours