*#حدیث_نمبر1*
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتےہیں کہ ایک نابینا شخص کی ام ولد باندی تھی جونبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوگالیاں دیتی تھی وہ نابینا اسکو روکتاتھامگروہ باز نہ آتی تھی وہ اسے ڈانٹتا مگریہ نہ مانتی، پھرایک رات جب اس نے نبی کریم علیہ السلام کی شان میں گستاخی ودشنام طرازی کی تواس نابینانےخنجر لیا اوراس سےاسکا پیٹ چاک کردیا۔سب کچھ خون آلودہ ہوگیا۔جب صبح ہوئی تویہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں زکرکیاگیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگوں کو جمع کیاپھرفرمایا اس آدمی کومیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نےیہ فعل کیامیرا اس پر حق ہےوہ کھڑا ہوجائےتووہ نابینافوراً کھڑاہوگیا لوگوں کو پھلانگتا ہوااس حالت میں آگےبڑھاکہ وہ کانپ رہاتھا حتی کہ حضور علیہ السلام کےسامنےبیٹھ گیا اور عرض کی" یارسول اللہ صلی اللہ علیہ میں نےاسےماراہے یہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اورآپ کی شان میں گستاخی کرتی تھی میں اسےروکتاتھامگریہ نہ رکتی میں دھمکاتاتھامگروہ باز نہ آتی تھی اس سےمیرے دوبچےہیں جوموتیوں کی طرح ہیں اوروہ مجھ پہ مہربان بھی تھی لیکن آج رات جب اس نےآپ کو گالیاں دینی شروع کیں تومیں نےخنجر نکال کراسکا پیٹ چاک کردیا-
فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ألااشهدوان دمها هدرٌ
پس نبی کریم علیہ السلام نےفرمایا لوگوگواہ رہو کہ اسکاخون بےبدلہ(یعنی رائیگاں) ہے۔
(ابوداؤدشریف ص600 نسائی شریف ج2ص151 کنزالعمال ج7ص304)
*#حدیث_نمبر2*
کعب بن اشرف یہودیوں کےقبیلہ بنوقریظہ سےتعلق رکھتاتھا اس قبیلہ کاسردار تھا شعروشاعری کرتاتھااپنےاشعار میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ ہجوکرتاتھا،اورمسلمان کےدشمنوں کی مالی مدد بھی کرتاتھا،اور سرکار علیہ السلام کی دل آزاری کاکوئی موقع ہاتھ سےنہ جانے دیتاتھا،
امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتےہیں۔
لانه نقض عهد النبي عليه السلام وهجاه وسبه
(شرح صحیح مسلم للنووی ض2ص110)
اس لیے کعب بن اشرف یہودی کوقتل کرنےکاحکم صادر کیاگیا کہ اس ملعون نےعہد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوتوڑڈالاتھا وہ آپ علیہ السلام کی توہین کاارتکاب کرتاتھا اورآپ علیہ السلام کی ذات اقدس کےبارےمیں نازیبا کلمات کہتاتھا-(نعاذباللہ)
لعنة الله عليكم دشمنان مصطفيٰ
سرکار دوعالم نے ارشاد فرمایا
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من لکعب ابن الاشرف فانہ قداذي الله ورسوله (مسلم شریف ج2ص110،بخاری شریف ص576)
نبی علیہ السلام نےفرمایاکون ہےجوکعب بن اشرف کوقتل کرے؟ کیونکہ اس نےاللہ اوررسول کواذیت پہنچائی
اس پر حضرت سیدنامحمدبن مسلمہ کھڑے ہوئےاورفرمایا یارسول اللہ علیہ السلام کیاآپ چاہتےہیں میں اسکو قتل کردوں؟ آپ علیہ السلام نےفرمایا ہاں
پھر رسول اللہ سےاجازت لےکر کعب بن اشرف کے پاس آئے اورقرضہ طلب کیا،کعب بن اشرف نےکہاہاں قرض لےلومگرمیرےپاس کچھ رہن رکھو،ابن مسلمہ اورانکے ساتھیوں نے کہا ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ سکتےہیں اس سےدوسری مرتبہ آنےکاوعدہ کرکےرخصت ہوگئےاور رات کو تشریف لےگئےاسکو آواز دی کعب مکان کی بالائی چھت سےاترنےلگابیوی نےمنع کرنا چاہا کہ اس آواز سےمجھے تیری موت کی بوآتی ہےمگروہ نہ رکا جونہی کعب بن اشرف کپڑا اوڑھے ہوئےانکےقریب آیا تو حضرت محمد بن مسلمہ نےکہاآج تک اتنی زبردست خوشبو نہیں سونگھی کعب بن اشرف نےکہا ہاں مستورات عرب کی سردار میرے پاس ہے،محمد بن مسلمہ فرمانے لگےکیا میں تمہارا سر سونگھ سکتاہوں؟ اس نےکہاہاں سونگھ لو،آپ نے ساتھیوں کوبھی دعوت دی پھرایک باردوبارہ خواہش ظاہر کی اس نےاجازت دےدی
فلمااستمكن منه قال دونكم فقتلوه ثم اتواالنبي فاخبروه
(صحیح بخاری،کتاب المغازی،صحیح مسلم کتاب الجھاد والیسر)
جب بالوں سے پکڑ کرمحمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نےاچھی طرح اسکوقابوکرلیاتوساتھیوں سےکہا قریب آجاؤاوراسےقتل کردوانہوں نےایسا ہی کیا پھروہ رسول اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئےاورواقعہ کی اطلاع دی-
*#حدیث_نمبر3*
حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں
بعث رسول اللہ علیہ السلام الي ابي رافع اليهودي رجالامن الانصاروامر عليهم عبدالله بن عتيك وكان ابورافع يوذي رسول الله ويعين عليه(بخاري ج2ص577)
رسول اللہ علیہ السلام نےابورافع یہودی کی طرف انصارکےچند آدمی بھیجے،عبداللہ بن عتیک کوان کاامیرمقرر کیا ابورافع رسول اللہ علیہ السلام الصلوۃ والسلام کواذیت پہنچایاکرتاتھااورآپ کےمقابلےمیں قبیلہ غطفان کےکفار کی مددکیاکرتاتھا.
اس بدبخت کاپورانام ابورافع عبداللہ بن ابی الحقیق تھا، یہ بڑامالداراورتونگرتھا یہ بدبخت رسول اللہ کی گستاخی واہانت کاارتکاب بھی کرتاتھا،حضرت عبداللہ اپنےساتھیوں کےہمراہ قلعےکےقریب آئےتوسورج غروب ہورہاتھا،آپ ساتھیوں سمیت قلعےکےاندرروپوش ہوگئے چوکیدار سےبہانے سےبات چیت کرکے چابیوں تک رسائی حاصل کی اوردروازہ کھول دیا حسب معمول جب قصہ گوچلےگئےتو عبداللہ بن عتیک نےبالاخانےکی طرف قصد کیا ابورافع اپنےاہل عیال کےدرمیان تاریک کمرےمیں سورہاتھا یہ پتانہ لگتاتھاکہ وہ کس جگہ سویاہےتومیں نےآواز دی اےابورافع اس نےجواب دیاتو میں نےتلوارسےوار کیا پہلا وار خالی گیا اورکمرےمیں چیخ پکار مچ گیا،میں باہرآیا تھوڑے توقف کےبعدپھراندرگیاآواز بدل کربولااےابورافع اس نے کہا تیری ماں تجھے روئےابھی ایک شخص مجھ پہ وار کرکےگیا عبداللہ بن عتیک فرماتےہیں میں پھرتلوار ماری تووہ شدید زخمی ہوگیامگرقتل ناہوا۔
ثم وضعت خبيب السيف في بطنه حتي اخذفي ظهره فعرفت اني قتلته
پھرمیں نےتلوار اسکےپیٹ پررکھ کراسےزورسےدبایا وہ پیٹھ سےنکل گئی اب یقین ہوگیا کہ وہ قتل ہوچکاہے۔
(صحیح بخاری،کتاب المغازی ج2ص577)
*#حدیث4*
عن علي ان يهوديه كانت تشتم النبي وتقع فيه فخنقها رجل حتي ماتت فابطل رسول الله دمها
(سنن ابی داؤد ج2 ص244،مشکوۃ الصابیح ص308)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سےمروی ہےکہ ایک یہودیہ حضور علیہ السلام کی شان میں ہجو اورطعن کرتی تھی اس پر ایک شخص نےاس کا گلا گھونٹایہاں تک کہ وہ مرگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کاخون رائیگاں قراردیا۔
*#حدیث_نمبر5*
فتح مکہ کےموقع پرعام معافی کااعلان فرمایا تواس عام اعلان سےچارمردوں اوردوعورتوں کومستثنی قراردیا۔کیونکہ انہوں نےسرکاردوعالم کی گستاخی کی تھی، ان چارمردوں میں
عکرمہ بن ابوجہل
عبداللہ بن خطل
مقیس بن صبابہ
عبداللہ بن ابی السراح
اور عورتوں میں مؤخرالذکر کی دولونڈیاں شامل تھیں۔سیدعالم نےان گستاخوں کاخون مباح قرار دیتےہوئے اہل ایمان کوبڑاواضح ارشادفرمایا:کہ جس کےبعد کوئی مومن گستاخ رسول کی شرعی سزا کےبارے میں شک بھی نہیں کرسکتا-
اقتلوھم وان وجدتموھم متعلقین باستارالکعبۃ(سنن نسائی ج2ص169)
انہیں قتل کردواگرکعبہ شریف کےپردوں سےچمٹےہوئےپاؤ(اسی لیے گستاخوں کےلیے دارالامان میں بھی امان نہیں ہے)
ان گستاخوں میں سےعبداللہ بن خطل کےبارےمیں حدیث شریف میں یوں ذکر آیاہے
"عبداللہ بن خطل کعبہ شریف کےپردوں سے چمٹا ہوا پایا گیا، اسے قتل کرنے کے لیے حضرت سعیدبن حارث اورعماربن یاسردوڑےحضرت سعیدحضرت عمار سےزیادہ جوان تھےآپ نےآگے بڑھ کراسےواصل جہنم کردیا-
*#حدیث_نمبر6*
" اس حدیث پہ غامدی اور اسکےحواریوں کےاعتراض کابھی جواب ہے-"
ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺣﺎﺗﻢؒ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﺩﻭﯾﮧؒ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻖ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺣﺎﺗﻢؒ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ :
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻷﻋﻠﻰ ﻗﺮﺍﺀﺓ، ﺃﻧﺒﺄ ﺍﺑﻦ ﻭﻫﺐ، ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻟﻬﻴﻌﺔ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻷﺳﻮﺩ ﻗﺎﻝ : ﺍﺧﺘﺼﻢ ﺭﺟﻼﻥ ﺇﻟﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﻀﻰ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ، ﻓﻘﺎﻝ ﺍﻟﺬﻱ ﻗﻀﻰ ﻋﻠﻴﻪ : ﺭﺩﻧﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : ﻧﻌﻢ، ﺍﻧﻄﻠﻘﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ، ﻓﻠﻤﺎ ﺃﺗﻴﺎ ﻋﻤﺮ ﻗﺎﻝ ﺍﻟﺮﺟﻞ : ﻳﺎ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﻗﻀﻰ ﻟﻲ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻠﻰ ﻫﺬﺍ، ﻓﻘﺎﻝ : ﺭﺩﻧﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ ﺣﺘﻰ ﺃﺧﺮﺝ ﺇﻟﻴﻜﻤﺎ ﻓﺄﻗﻀﻲ ﺑﻴﻨﻜﻤﺎ، ﻓﺨﺮﺝ ﺇﻟﻴﻬﻤﺎ، ﻣﺸﺘﻤﻼ ﻋﻠﻰ ﺳﻴﻔﻪ ﻓﻀﺮﺏ ﺍﻟﺬﻱ ﻗﺎﻝ : ﺭﺩﻧﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ ﻓﻘﺘﻠﻪ، ﻭﺃﺩﺑﺮ ﺍﻵﺧﺮ ﻓﺎﺭﺍ ﺇﻟﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﺎﻝ : ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ، ﻗﺘﻞ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺻﺎﺣﺒﻲ ﻭﻟﻮ ﻣﺎ ﺃﻧﻲ ﺃﻋﺠﺰﺗﻪ ﻟﻘﺘﻠﻨﻲ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : ﻣﺎ ﻛﻨﺖ ﺃﻇﻦ ﺃﻥ ﻳﺠﺘﺮﺉ ﻋﻤﺮ ﻋﻠﻰ ﻗﺘﻞ ﻣﺆﻣﻨﻴﻦ، ﻓﺄﻧﺰﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻓﻼ ﻭﺭﺑﻚ ﻻ ﻳﺆﻣﻨﻮﻥ ﺣﺘﻰ ﻳﺤﻜﻤﻮﻙ ﻓﻴﻤﺎ ﺷﺠﺮ ﺑﻴﻨﻬﻢ ﺛﻢ ﻻ ﻳﺠﺪﻭﺍ ﻓﻲ ﺃﻧﻔﺴﻬﻢ ﺣﺮﺟﺎ ﻣﻤﺎ ﻗﻀﻴﺖ ﻭﻳﺴﻠﻤﻮﺍ ﺗﺴﻠﻴﻤﺎ ﻓﻬﺪﺭ ﺩﻡ ﺫﻟﻚ ﺍﻟﺮﺟﻞ ﻭﺑﺮﺉ ﻋﻤﺮ ﻣﻦ ﻗﺘﻠﻪ، ﻓﻜﺮﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﺃﻥ ﻳﺴﻦ ﺫﻟﻚ ﺑﻌﺪ، ﻓﻘﺎﻝ : « ﻭﻟﻮ ﺃﻧﺎ ﻛﺘﺒﻨﺎ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﺃﻥ ﺍﻗﺘﻠﻮﺍ ﺃﻧﻔﺴﻜﻢ ﺃﻭ ﺍﺧﺮﺟﻮﺍ ﻣﻦ ﺩﻳﺎﺭﻛﻢ ﻣﺎ ﻓﻌﻠﻮﻩ ﺇﻻ ﻗﻠﻴﻞ ﻣﻨﻬﻢ » ﺇﻟﻰ ﻗﻮﻟﻪ : ﻭﺃﺷﺪ ﺗﺜﺒﻴﺘﺎ
ﯾﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻻﻋﻠﯽٰ ﻋﺒﺪﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻭﮬﺐ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﮩﯿﻌﮧ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺍﻻﺳﻮﺩ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ : ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﺎﮞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ؟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻋﻤﺮ ؓﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭼﻠﮯ ﺟﺐ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﺍﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻢ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮔﺌﮯ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ( ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﮯ ) ﮐﮩﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﺎﮞ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﮨﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺅﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻭﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﮧ ﻋﻤﺮ ؓ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺟﺮﺍﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﺗﺮﯼ ﻟﻔﻆ ﺁﯾﺖ ’’ ﻓﻼ ﻭﺭﺑﮏ ﻻ ﯾﺆﻣﻨﻮﻥ ‘‘ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺑﺎﻃﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮ ؓ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻔﻆ ﺁﯾﺖ ’’ ﻭﻟﻮ ﺍﻧﺎ ﮐﺘﺒﻨﺎ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻥ ﺍﻗﺘﻠﻮﺍ ﺍﻧﻔﺴﮑﻢ ‘‘ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ’’ ﻭﺍﺷﺪ ﺗﺜﺒﯿﺘﺎ ‘‘ ﺗﮏ ( ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ ﺁﯾﺖ ٦٦)
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﭘﺮ ﻏﺎﻣﺪﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺍﺑﻦ ﻣﺮﺩﻭﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺳﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﺭﺍﻭﯼ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﮯ۔
*#اعتراض_کاجواب*
ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺑﻞ ﻏﻮﺭ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺿﻌﻒ ﺳﻮﺀ ﺣﻔﻆ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺿﻌﯿﻒ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮ ﻋﮑﺲ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻭﮬﺐؒ، ﻗﺘﯿﺒﮧ ﺑﻦ ﺳﻌﯿﺪ ؒﺳﻤﯿﺖ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﺌﯽ ﺭﺍﻭﯼ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺮ ﺑﺤﺚ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻭﮬﺐ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﺳﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﻌﻒ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
*#حدیث_نمبر7*
ایک شخص حضور علیہ السلام کوبرابھلاکہتاتھا آپ علیہ السلام نےارشاد فرمایاکون ہے جومیرے دشمن سےبدلہ لے؟
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نےعرض کی" میں تیار ہوں" چنانچہ نبی کریم علیہ السلام نےانہیں اس کام کےلیےبھیجاتوانہوں نےاس گستاخ کوواصل جہنم کردیا-
(مصنف عبدالرزاق،شفاءجلد2ص240،دلائل النبوۃ ج4ص59)
امام عبدالرزاق نےاورامام قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہمانےروایت نقل کی ہے-
*#حدیث_نمبر8*
ان النبی سبه رجل فقال من يكفيني عدوي فقال الزبير انا فبازره فقتله الزبير
(مصنف عبدالرزاق جلد5 ص307،شفاءجلد2ص240)
ایک آدمی نےحضور علیہ السلام کوسب وشتم کیا آپ علیہ السلام نےفرمایا کون ہےجومیرےدشمن کا بدلہ لے؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نےعرض کی میں حاضرہوں پھرآپ نےگستاخ سےمقابلہ کیااوراس کوقتل کردیا-
یہی دونوں بزرگ یہ روایت بھی نقل کرتےہیں-
جذاک اللہ
Post A Comment:
0 comments so far,add yours