Articles by "urdu"
Showing posts with label urdu. Show all posts

بیان کیا جاتا ہے، ایک درویش سمندر کے کنارے اس حالت میں زندگی گزار رہا تھا کہ اس کے جسم پر چیتے کے ناخنوں کا لگا ہوا ایک زخم ناسور بن چکا تھا۔ اس ناسور کی وجہ سے درویش بہت تکلیف میں مبتلا تھا۔ مگر اس حالت میں بھی وہ اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔اس سے سوال کیا گیا کہ اے مرد خدا! یہ شکر کرنے کا کون سا موقع ہے؟ درویش نے جواب دیا، میں اس بات کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مصیبت میں مبتلا ہوں معصیت میں نہیں۔ تو نے سنا نہیں کہ اللہ والے گناہ کے مقابلے میں مصائب کو پسند کرتے ہیں۔ جب عزیز مصر کی بیوی زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانے میں ڈلوا دینے کی دھمکی دی تو انھوں نے فرمایا تھا کہ اے اللہ، مجھے قید کی مصیبت اس گناہ کے مقابلے میں قبول ہے جس کی طرف مجھے ہلایا جا رہا ہے۔ درویش نے مزید کہ اللہ والوں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے رب کو راضی رکھنے کی تمنا کرتے ہیں۔ مجھے قتل کرنے کا دیں حکم اگر نہ ہو گا مجھے اپنی جاں کا ملال میں سوچوں گا کیوں مجھ سے ناراض ہیں ستائے گا ہر وقت بس یہ خیال اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے انسان کے اس بلند مرتبے کا حال بیان کیا ہے جب وہ ہر بات کو من جانب اللہ خیال کرتا ہے اور ہر وقت اس خیال میں رہتا ہے کہ میرا خدا مجھ سے کس طرح راضی ہو گا، یہی وہ روحانی منزل ہے جب انسان کو سچااطمینان اور سچی راحت حاصل ہوتی ہے۔ اور وہ خوف اور غم سے پاک ہو جاتا ہے۔ ٭…٭…٭

اہل شام میں ایک بڑا بارعب اور قوی شخص تھا اور وہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ وہ کافی دن نہ آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اسکا حال پوچھا لوگوں نے کہا امیر المومنین اس کا حال نہ پوچھیں وہ تو شراب میں مست رہنے لگ گیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے منشی کو بلایا اور کہا کہ اس کے نام ایک خط لکھو ۔ آپ نے خط میں لکھوایا منجانب عمر بن خطاب بنام فلاں بن فلاں السلام علیکم ۔ میں تمہارے لیے اس اللہ کی حمد پیش کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ گناہوں کو معاف کرنے والا ، توبہ کو قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا اور بڑی قدرت والا ہے ۔ اسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ہمیں اسکی طرف لوٹ کر جانا ہے -
پھر حاضرین مجلس سے کہا کہ اپنے بھائی کے لیے سب مل کر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو پھیر دے اور اسکی توبہ کو قبول فرمائے ۔ سب نے مل کر دعا کی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خط قاصد کو دیا اور کہا یہ خط اسے اس وقت دینا جب وہ نشے میں نہ ہو اور اس کے سوا کسی کو نہ دینا -
جب اس کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خط پہنچا تو اس نے پڑھا اور بار بار ان کلمات کو پڑھتا رہا اور غور کرتا رہا کہ اس میں مجھے سزا سے بھی ڈرایا گیا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی یاد دلایا گیا ہے ۔ وہ خط پڑھ کر رونے لگا اور شراب نوشی سے توبہ کرلی اور ایسی توبہ کی کہ پھر کبھی شراب کے پاس نہ گیا -
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اسکی توبہ کی خبر ملی تو لوگوں سے فرمایا ۔ کہ ایسے معاملات میں تم لوگوں کو ایسے ہی کرنا چاہیے کہ جب کوئی بھائی کسی لغزش میں مبتلا ہوجائے تو اس کو درستی پر لانے کی فکر کرو اور اس کو اللہ کی رحمت کا بھروسہ دلاؤ اور اللہ سے اس کے لیے دعا کرو تاکہ وہ توبہ کرلے ، اور تم اس کے مقابلے پر شیطان کے مددگار نہ بنو ۔ یعنی اس کو برا بھلا کہہ کر یا غصہ دلا کر دین سے دور کردو گے تو یہ شیطان کی مدد ہوگی .
(معارف القران جلد 7 صفحۃ 58)
پھر حاضرین مجلس سے کہا کہ اپنے بھائی کے لیے سب مل کر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو پھیر دے اور اسکی توبہ کو قبول فرمائے ۔ سب نے مل کر دعا کی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خط قاصد کو دیا اور کہا یہ خط اسے اس وقت دینا جب وہ نشے میں نہ ہو اور اس کے سوا کسی کو نہ دینا -جب اس کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خط پہنچا تو اس نے پڑھا اور بار بار ان کلمات کو پڑھتا رہا اور غور کرتا رہا کہ اس میں مجھے سزا سے بھی ڈرایا گیا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی یاد دلایا گیا ہے ۔ وہ خط پڑھ کر رونے لگا اور شراب نوشی سے توبہ کرلی اور ایسی توبہ کی کہ پھر کبھی شراب کے پاس نہ گیا -حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اسکی توبہ کی خبر ملی تو لوگوں سے فرمایا ۔ کہ ایسے معاملات میں تم لوگوں کو ایسے ہی کرنا چاہیے کہ جب کوئی بھائی کسی لغزش میں مبتلا ہوجائے تو اس کو درستی پر لانے کی فکر کرو اور اس کو اللہ کی رحمت کا بھروسہ دلاؤ اور اللہ سے اس کے لیے دعا کرو تاکہ وہ توبہ کرلے ، اور تم اس کے مقابلے پر شیطان کے مددگار نہ بنو ۔ یعنی اس کو برا بھلا کہہ کر یا غصہ دلا کر دین سے دور کردو گے تو یہ شیطان کی مدد ہوگی .(معارف القران جلد 7 صفحۃ 58)x

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شہر ''نینویٰ''کے باشندوں کی ہدایت کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا۔
نینویٰ شہر:۔یہ موصل کے علاقہ کا ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان لوگوں کو ایمان لانے اور بت پرستی چھوڑنے کا حکم دیا۔ مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ عزوجل کے رسول علیہ السلام کو جھٹلادیا اور ایمان لانے سے انکار کردیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں خبر دی کہ تم لوگوں پر عنقریب عذاب آنے والا ہے۔
یہ سن کر شہر کے لوگوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں کہی ہے۔ اس لئے یہ دیکھو کہ اگر وہ رات کو اس شہر میں رہیں جب تو سمجھ لو کہ کوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر انہوں نے اس شہر میں رات نہ گزاری تو یقین کرلینا چاہے کہ ضرور عذاب آئے گا۔ رات کو لوگوں نے یہ دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام شہر سے باہر تشریف لے گئے۔ اور واقعی صبح ہوتے ہی عذاب کے آثار نظر آنے لگے کہ چاروں طرف سے کالی بدلیاں نمودار ہوئیں اور ہر طرف سے دھواں اٹھ کر شہر پر چھا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندوں کو یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہی ہے تو لوگوں کو حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش و جستجو ہوئی مگر وہ دور دور تک کہیں نظر نہیں آئے۔ اب شہر والوں کو اور زیادہ خطرہ اور اندیشہ ہو گیا۔ چنانچہ شہر کے تمام لوگ خوف ِ خداوندی عزوجل سے ڈر کر کانپ اٹھے اور سب کے سب عورتوں، بچوں بلکہ اپنے مویشیوں کو ساتھ لے کر اور پھٹے پرانے کپڑے پہن کر روتے ہوئے جنگل میں نکل گئے اور رو رو کر صدقِ دل سے حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لانے کا اقرار و اعلان کرنے لگے۔ شوہر بیوی سے اور مائیں بچوں سے الگ ہو کر سب کے سب استغفار میں مشغول ہو گئے اور دربارِ باری میں گڑگڑا کر گریہ و زاری شروع کردی۔ جو مظالم آپس میں ہوئے تھے ایک دوسرے سے معاف کرانے لگے اور جتنی حق تلفیاں ہوئی تھیں سب کی آپس میں معافی تلافی کرنے لگے۔ غرض سچی توبہ کر کے خدا عزوجل سے یہ عہد کرلیا کہ حضرت یونس علیہ السلام جو کچھ خدا کا پیغام لائے ہیں ہم اس پر صدقِ دل سے ایمان لائے، اللہ تعالیٰ کو شہر والوں کی بے قراری اور مخلصانہ گریہ و زاری پر رحم آیا اور عذاب اٹھا لیا گیا۔ ناگہاں دھواں اور عذاب کی بدلیاں رفع ہو گئیں اور تمام لوگ پھر شہر میں آکر امن و چین کے ساتھ رہنے لگے۔
اس واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے خداوند قدوس نے قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ:۔
ترجمہ:۔تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ۱۱،یونس:۹۸)
مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو عذاب آجانے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں ہوتا مگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی بدلیاں آجانے کے بعد بھی جب وہ لوگ ایمان لائے تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔
عذاب ٹلنے کی دعا:۔طبرانی شریف کی روایت ہے کہ شہر نینویٰ پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور حضرت یونس علیہ السلام باجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے گھبرا کر اپنے ایک عالم کے پاس گئے جو صاحب ِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر دعا مانگو یَاحَیُّ حِیْنَ لاَ حَیَّ و َیَاحَیُّ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَاحَیُّ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور صاحب ِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینویٰ کا عذاب جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی کہ اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ وَاَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ وَلاَ تَفْعَلْ بِنَا مَانَحْنُ اَھْلُہٗ بہرحال عذاب ٹل جانے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام شہر کے قریب آئے تو آپ نے شہر میں عذاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی قوم میں تشریف لے جایئے۔ تو آپ نے فرمایا کہ کس طرح اپنی قوم میں جا سکتا ہوں؟ میں تو ان لوگوں کو عذاب کی خبر دے کر شہر سے نکل گیا تھا، مگر عذاب نہیں آیا۔ تو اب وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھ کر قتل کردیں گے۔
آپ یہ فرما کر حیرت سے شہر سے پلٹ آئے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے یہ کشتی جب بیچ سمندر میں پہنچی تو کھڑی ہو گئی۔ وہاں کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ وہی کشتی سمندر میں کھڑی ہو جایا کرتی تھی جس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کشتی والوں نے قرعہ نکالا تو حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا۔ تو کشتی والوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور کشتی لے کر روانہ ہو گئے اور فوراً ہی ایک مچھلی نے اللہ کے حکم سے آپ کو نگل لیا اور آپ مچھلی کے پیٹ میں جہاں بالکل اندھیرا تھا قید ہو گئے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یونس علیہ السلام اس مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز رہے یہ ان کو زمین کی تہ تک لے جاتی اور دور دراز کی مسافتوں میں پھراتی رہی ، بعض حضرات نے سات، بعض نے پانچ دن اور بعض نے ایک دن کے چند گھنٹے مچھلی کےپیٹ میں رہنے کی مدت بتلائی ہے (مظہری)
مگر ا سی حالت میں آپ نے آیت کریمہ لَآ اِلٰہَ اِلآَّ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَo(پ۱۷،الانبیاء:۸۷) کا وظیفہ پڑھنا شروع کردیا تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اندھیری کوٹھڑی سے نجات دی اور مچھلی نے کنارے پر آکر آپ کو اُگل دیا۔ اس وقت آپ بہت ہی نحیف و کمزور ہوچکے تھے۔ خدا عزوجل کی شان کہ اُس جگہ کدو کی ایک بیل اُگ گئی اور آپ اُس کے سایہ میں آرام کرتے رہے پھر جب آپ میں کچھ توانائی آگئی تو آپ اپنی قوم میں تشریف لائے اور سب لوگ انتہائی محبت و احترام کے ساتھ پیش آ کر آپ پر ایمان لائے۔
(تفسیر الصاوی،ج۳،ص۸۹۳،پ۱۱، یونس:۹۸)
حضرت یونس علیہ السلام کی اس دردناک سرگزشت کو قرآن کریم نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:۔
ترجمہ:۔اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اُگایا اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا ۔ اور ا ن میں زیادہ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔(پ23،الصافات:139تا148)
نوٹ :۔حضرت یونس علیہ السلام کی دل ہلا دینے والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو کس کس طرح امتحان میں ڈالتا ہے۔ لیکن جب بندے امتحان میں پڑ کر صبر وا ستقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الرٰحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرما دیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ غور کیجئے کہ حضرت یونس علیہ السلام کو جب کشتی والوں نے سمندر میں پھینک دیا تو ان کی زندگی اور سلامتی کا کون سا ذریعہ باقی رہ گیا تھا؟ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا تو اب بھلا ان کی حیات کا کون سا سہارا رہ گیا تھا؟ مگر اسی حالت میں آپ نے جب آیت کریمہ کا وظیفہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ و سلامت رکھا اور مچھلی کے پیٹ سے انہیں ایک میدان میں پہنچا دیا اور پھر انہیں تندرستی و سلامتی کے ساتھ اُن کی قوم اور وطن میں پہنچا دیا۔ اور ان کی تبلیغ کی بدولت ایک لاکھ سے زائد آدمیوں کو ہدایت مل گئی۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ توبہ استغفار سے عذابات اور بلائیں بھی ٹل جاتی ہیں۔ جیسے شہر نینویٰ کے لوگوں کے توبہ وا استغفار سے عذاب الہی ٹل گیا۔
حضوراکرم (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کو جنت کے دروازے پرروک لیاجائے گا۔
حضرت اویس قرنی کون ہیں ۔
اویس نام ہے عامرکے بیٹے ہیں مرادقبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اوریمن انکی رہائش گاہ تھی ۔
حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی ۔وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضورکی خدمت میں حاضرنہیں ہوسکے۔
جبرئیل آسمان سے پہنچے اورانکی بات کوحضورنے بیان کیا چونکہ حضوردیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنیوالی نسلیں اپنی مائوں کیساتھ کیساسلوک کریں گی ایک سائل نے سوال کیا یارسول ﷲ (صلی ﷲ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی توآپ نے ارشاد فرمایامجھے نہیں معلوم کب آئے گی توسائل نے کہاکہ کوئی نشانی توبتادیں توآپ نے فرمایاجب اولاداپنی ماں کوذلیل کرے گی توقیامت آئے گی۔
حضور(صلی ﷲ علیہ وسلم) نے حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اورحضرت علی (رضی ﷲ عنہ) سے کہاکہ تمہارے دور میں ایک شخص ہوگا جس کانام ہوگا اویس بن عامر درمیانہ قد رنگ کالا جسم پر ایک سفید داغ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے ان کاحلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہو وہ آئے گاجب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے۔
حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اور حضرت علی (رضی ﷲ عنہ)کواویس قرنی کی دعاکی ضرورت نہیں تھی۔
یہ امت کو پیغام پہنچانے کے لیے ہے کہ ماں کا کیا مقام ہےحضرت عمر (رضی ﷲ عنہ) حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) کیاکہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کروائیں تو حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا عمر،علی اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتاہے توﷲ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا۔
حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہوجاو آپ کے حکم پرتمام حاجی کھڑے ہوگئے پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور یمن والے کھڑے رہے پھرکہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صر ف مراد قبیلہ کھڑا رہے پھرکہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو مراد قبیلے والے بیٹھ گئے صرف ایک آدمی بچااور حضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کابیٹاہے میراسگا بھتیجاہےاس کادماغ ٹھیک نہیں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں توحضرت عمر نے کہاکہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہاآ پ نے پوچھا کدھر ہےتواس نے کہاکہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیاہے اونٹ چرانے،
آپ نے حضرت علی کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگادی جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ اویس قرنی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں یہ آکربیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز ختم ہونے کاانتظار کرنے لگےجب حضرت اویس نے محسوس کیاکہ دو آدمی آگئے تو انہوں نے نماز مختصرکردی ۔
سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی توکہاجی میں مزدور ہوں اسے خبرنہیں کہ یہ کون ہیں تو حضرت عمر نے کہاکہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہ اکہ میرانام ﷲ کابندہ تو حضرت عمر نے کہا کہ سارے ہی ﷲ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیارکھا ہےتو حضرت اویس نے کہاکہ آپ کون ہیں میری پوچھ گچھ  کرنے والے ان کایہ کہنا تھا کہ حضرت علی نے کہاکہ اویس یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اور میں ہوں علی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگےکہاکہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کو پہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر نے کہاکہ تو ہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمر نے کہاکہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکرآپ کامیں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر نے کہاکہ ہاں ﷲ کے نبی نے فرمایاتھا۔
عمر اور علی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں،
تبلیغ نہیں،
تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے۔
جب لوگ جنت میں جارہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت ﷲ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو
اس وقت حضرت اویس قرنی پریشان ہوجائیں گےاورکہیں گے کہ اے ﷲ آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیاتو مجھ سےاس وقت ﷲ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھوجب پیچھے دیکھیں گے تو پیچھے کروڑوں اربوں کے تعدادمیں جہنمی کھڑے ہوں گےتواس وقت ﷲ فرمائے گاکہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیاہے’’ ماں کی خدمت‘‘ توانگلی کااشارہ کرجدھر جدھر تیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کردوں گا...
سبحان اللّہ..

یونہی تو نہیں کسی کو شیر خداؓ، کسی کو صدیقؓ، کسی کو غنیؓ اور کسی کو سیف اللہ کا لقب مل گیا، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تربیت اس ہستی کے زیر سایہ ہوئی تھی جو خود تو امی تھے مگر علم اور تربیت کا ایسا خزانہ دے گئے جس سے آنے والی انسانیت ہمیشہ بہرہ مند ہوتی رہے گی، شجاع ایسے کہ عرب کے مشہور پہلوان کو چند لمحوں میں خاک چٹا دی، حسین ایسے کہحسن یوسف ؑ ماند پڑ جائے ، امین اور صادق ایسے کے بدترین مخالف بھی انکارنہ کر سکیں۔ سرور کائنات، سرکار دو عالم، محمد مصطفیٰ ﷺکی درسگاہ سے فیض یاب ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے کردار نے جہاں دنیا کو متاثر کیا وہیں ان کی قوت ایمانی نے اسلام کی ترویج اور اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کا اللہ تعالیٰ اور روز ِ آخرت پرمضبوط یقین ہی تھا جس نے محبت، شجاعت ،قربانی اور ایثار کی لازوال داستانوں کو آنے والی امت کیلئے مشعل راہ بنا دیا۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت خالد بن ولید ؓ کا بھی ہے جن کی زبردست قوت ایمانی نے نہ صرف مسلمانوں کو فتح دلائی بلکہ باطل عقائد کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت پر مہر ثبت تصدیق کر دی ۔حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر نے عیسائیوں کے قلعہ کا محاصرہ کر رکھا تھا۔عیسائیوں نے بہت سوچ بچار کے بعد ایک ترکیب ڈھونڈی جس سے نہ صرف محاصرہ ختم ہونے میں مدد مل سکتی بلکہ مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچایا جا سکتا تھا ۔ انہوں نے باہم مشورے کے بعد اپنا ایک نہایت ذہین اور معمر چالاک پادری حضرت خالد بن ولیدؓ کے پاس مذاکرات کیلئے بھیجا۔بوڑھا پادری جب آپ ؓکے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں انتہائی تیز زہر کی ایک پڑیا تھی۔ اس نے حضرت خالد بن ولید ؓسے عرض کیا کہ آپ ہمارے قلعہ کا محاصرہ اٹھا لیں، اگر آپ نےدوسرے قلعے فتح کر لئے تو اس قلعہ کا قبضہ ہم بغیر لـڑائی کے آپ کے حوالے کر دیں گے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ’’نہیں، ہم پہلے اس قلعہ کو فتح کریں گے بعد میں کسی دوسرے قلعے کا رخ کریں گے‘‘۔ یہ سن کر بوڑھا پادری بولا۔’’اگر تم اس قلعے کا محاصرہ نہیں اٹھائو گے تو میں یہ زہر کھا کر خودکشی کر لوں گا اور میرا خون تمہاری گردن پر ہو گا‘‘۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے۔’’یہ ناممکن ہے کہ تیری موت نہ آئی ہو اور تو مر جائے‘‘۔بوڑھا پادری بولا’’اگر تم ایسا یقین رکھتے ہے تو لو پھر یہ زہر کی پڑیا پھانک کر دکھائو‘‘۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ زہر کی پڑیا پادری کے ہاتھوں سے لے لی اور یہ دعا بسم اللہ وہ باللہ رب الأرض و رب السماء الذی لا یضر مع اسمعہ داء پڑھ کروہ زہر کی پڑیا پھانک لی اور اوپر سے پانی پی لیا۔ بوڑھے پادری کو مکمل یقین تھا کہ یہ چند لمحوں میں آپ ؓ موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے اور قلعہ کا محاصرہ ختم کر دیا جائے گامگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چند منٹ تک آپ کے بدن پر پسینہ نمودار ہوتا رہا اور اللہ نے آپ کو زہر کی ہلاکت سے محفوظ رکھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پادری سے مخاطب ہو کر فرمایا’’دیکھ لو ، اگر موت نہ آئی ہو تو زہر بھی کچھ نہیں بگاڑ پاتا‘‘۔ پادری کوئی جواب دئیے بغیر آپ کے پاس سے اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا اور قلعہ میں جا کر اپنی قوم سے کہا’’اے لوگو! میں ایسی قوم سے مل کر آیا ہوں خدا تعالیٰ کی قسم! اسے مرنا تو آتا ہی نہیں، وہ صرف مارنا ہی جانتے ہیں۔ جتنا زہر ان کے ایک آدمی نے کھا لیا، اگر اتنا پانی میں ملا کر ہم تمام اہل قلعہ کھاتے تو یقیناََ مر جاتے مگر اس آدمی کا مرنا تو درکنار ، وہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔ میری مانو تو قلعہ اس کے حوالے کر دو اور ان سے لڑائی نہ کرو۔‘‘چنانچہ وہ قلعہ بغیر لڑائی کے صرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قوت ایمانی سے فتح ہو گیا۔

ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﻴْﻢِ
ﺳﻤﻨﺪﺭﮐِﻨﺎﺭﮮﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﮧ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﺴﻼ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ
ﭼﻠﯽ ﺗﻮ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﮔﯿﺎ ﭼﮍﯾﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﮔﯿﻠﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍ ﮔﺌﯽ ....
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﮩﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﭽﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﻨﮏ ﺩﮮ ﻣﮕﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ
ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﭼﮍﯾﺎﺑﻮﻟﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﺟﺎﻭُﮞ ﮔﯽ ﺗﺠﮭﮯ
ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﻭﻧﮕﯽ ... ﺳﻤﻨﺪﺭﺍﭘﻨﮯ ﻏﺮﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺟﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﭼﮍﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﻮﮞ
ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻏﺮﻕ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟
ﭼﮍﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺳُﻨﺎ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻞ ﭘﮭﺮﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎ ﺍﺳﯽ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ
ﺍُﺱ ﻧﮯﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺑﮭﺮﺍ ﺍُﻭﺭﺍﮌ ﮐﮯﺩﺭﺧﺖ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﭘﮭﺮﺁﺋﯽ ﮔﮭﻮﻧﭧ
ﺑﮭﺮﺍﭘﮭﺮﺩﺭﺧﺖ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﻋﻤﻞ ﺍُﺱ ﻧﮯ 8-7 ﺑﺎﺭ ﺩُﮬﺮﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮔﮭﺒﺮﺍ
ﮐﮯ ﺑﻮﻻ : ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯﻟﮕﯽ ﮨﮯ ؟ ﻣﮕﺮﭼﮍﯾﺎﺍﭘﻨﯽ
ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺩُﮬﺮﺍﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ 25-22 ﺑﺎﺭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
ﺳﻤﻨﺪﺭﻧﮯﺍﯾﮏ ﺯﻭﺭ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﻣﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭﭼﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ ...
ﺩﺭﺧﺖ ﺟﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭﺳﮯﺑﻮﻻ ﺍﮮ ﻃﺎﻗﺖ
ﮐﮯﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭ
ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺳﮯﮈﺭﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ؟
ﺳﻤﻨﺪﺭﺑﻮﻻ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺳﺠﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺠﮭﮯﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺍُﮐﮭﺎﮌ ﺳﮑﺘﺎﮨﻮﮞ ﺍﮎ
ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺩُﻧﯿﺎ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎﺳﮯ ﮈﺭﻭﻧﮕﺎ؟
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﺳﮯﮈﺭﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﺎﮞ ﮐﮯﺟﺬﺑﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﮨﻮﮞ ﺍﮎ ﻣﺎﮞ
ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮﻋﺮﺵ ﮨﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ .. ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ
ﻣﺠﮭﮯﭘﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﮨﯽ ﺩﮮ ﮔﯽ , ﻣﺎﮞ
" ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽ " ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ .. ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﺮﯾﮟ
.. ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻓﺮﻣﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ
ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺻﺤﺖ ﮐﺎﻣﻠﮧ ﻋﺎﺟﻠﮧ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ
ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﻨﺎ ,
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ
ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ , ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ
ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ , ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ
ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎ . ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺳﺨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﮍ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ,
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﺸﺮ ﮐﯽ ﺫﻟﺖ ﻭ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ , ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ,ﺍﻥ
ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯿﺎﮞ ﮐﻮﺗﺎﮨﯿﺎﮞ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺍﻟﻔﺮﺩﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﻣﻘﺎﻡ
ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ , ﯾﺎ ﺫﻭﺍﻟﺠﻼﻝ ﻭﺍﻻﮐﺮﺍﻡ ﯾﺎﺍﻟﻠﻪ ! ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺎﻥ ﮐﮯ
ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ, ﺑِﺮَﺣْﻤَﺘِﻚَ ﻳَﺂ ﺃَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺣِﻤِﻴﻦَ ﺁﻣِﻴّﻦْ ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴْﻦ

ﺫﻭﺍﻟﻘﺮﻧﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﻮ ﺩﯾﻮﺍﺭ
ﺑﻨﺎﺋﯽ ﻭﮦ ﮐﺲ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﺟﮕﮧ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﮯ : ؟
ﺟﻮ ﮐﮧ ﻟﻮﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮕﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺎﻧﺒﮯ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺩﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ
ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﯾﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ
ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﺫﻭﺍﻟﻘﺮﻧﯿﻦ ﯾﺎﺟﻮﺝ
ﻣﺎﺟﻮﺝ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮍ ﮮ ﻓﺴﺎﺩﯼ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ
ﺧﺮﭺ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ؟ ‏) ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﮐﮧ‏( ﺁﭖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ
ﺍﯾﮏ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ
ﺟﻮﺩﮮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﻭﮨﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺻﺮﻑ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺭﻭﮎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﻻ ﺩﻭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﮯ
ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﺰ ﺁﮒ ﺟﻼﺅ ﺟﺐ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ
ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﺁﮒ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﭘﮕﮭﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﺎﻧﺒﺎ ﻻﺅ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ
ﮈﺍﻝ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ
ﮨﯽ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ‏) ﺫﻭﺍﻟﻘﺮﻧﯿﻦ ‏( ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﯾﮧ
ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﮯﮨﺎﮞ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ
ﺯﻣﯿﻦ ﺑﻮﺱ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﺳﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻖ ﮨﮯ
‏( ﺍﻟﮑﮭﻒ / 93 ۔ 98 ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﮐﯽ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺫﯾﻞ
ﺻﺤﯿﺢ ﺣﺪﯾﺚ ﮨﮯﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ
ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ﺣﻀﺮﺕ
ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮞﮑﮧ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﯿﺸﮏ ﯾﺎﺟﻮﺝ ﻣﺎﺟﻮﺝ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﮭﻮﺩﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ
ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺥ ﺳﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﻮ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﻞ ﮐﮭﻮﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ
ﺳﺨﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ
ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮﯾﮟ
ﮔﮯﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺳﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ
ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﻮ ﺗﻢ ﺑﺎﻗﯽ ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻞ ﮐﮭﻮﺩﻭ ﮔﮯ
ﺗﻮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ
ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺟﺬﺏ ﺍﻭﺭ ﺧﺸﮏ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ
ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﻠﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﻠﻊ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﯿﺮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﭼﻼﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﯿﺮ ﺧﻮﻥ ﺁﻟﻮﺩ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﮧ
ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ
ﺑﮭﯽ ﻏﻠﺒﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﮍﺍ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺂﺋﮯ ﮔﺎ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
:ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ ﺑﯿﺸﮏ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ
ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻣﻮﭨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ‏) ﯾﻌﻨﯽ ﭼﺮﺑﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﮔﮯ ‏( ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺷﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻡ ﺣﺒﯿﺒﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺑﯽ
ﺳﻔﯿﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺯﯾﻨﺖ ﺟﺤﺶ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﮭﺒﺮﺍﮨﭧ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﺭ
ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺮ ﺳﮯ ﮨﻼﮐﺖ ﮨﻮ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﮔﯿﺎ
ﮨﮯﺁﺝ ﯾﺎﺟﻮﺝ ﻣﺎﺟﻮﺝ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﺎ ﺣﻠﻘﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺯﯾﻨﺐ ﺑﻨﺖ ﺟﺤﺶ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻼﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺻﺎﻟﺢ ﻟﻮﮒ
ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﺎﮞ ﺟﺐ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﮔﯽ۔ﺍﻥ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﻟﻮ ﮒ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺎ ﺟﻮﺝ
ﻣﺎﺟﻮﺝ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﻮ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﺁﺝ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ؟ ﺗﻮ
ﺯﻣﯿﻨﯽ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﺍﻥ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ
ﻣﻠﮏ ﻓﺎﺭﺱ ﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻋﻼﻗﮯ ﺁﺝ ﮐﮯ ﻭﺳﻄﯽ ﺍﯾﺸﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ
ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

بادشاہ نے بہت ہی عالیشان محل تعمیر کیا جو دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا محل نہیں تھا جنت کا ٹُکڑا تھا غرضیکہ جو بھی آتا دیکھتا اور ششدر رہ جاتا مگر بادشاہ نے عجیب شرط رکھ دی جو شخص محل کو ایک متعین وقت میں دیکھے گا پورا محل اُسے دے دیا جائے گا لیکن جو شخص اُس متعین وقت میں نہیں دیکھ پائے گا اُس کا سر قلم کردیا جائے گابہت سارے سر پھرے نوجوان منع کرنے کے باوجود جان گنوا بیٹھے جو بھی جاتا پورا کیاآدھامحل بھی نہ دیکھ پاتا کے وقت پورا ہوجاتا اور اجل کا پیغام لیکر ہی آتا اس بات کا شہرہ بہت دُور تک پہنچ گیا ایک نوجوان دیہاتی کے کانوں تک بھی یہ خبر اُڑتی اُڑتی پہنچ گئی نوجوان نے جب پوری بات سُنی تصدیق کی اور بادشاہ کے محل پہنچ گیا درباری وزیروں مشیروں اور جلادوں نے بھی منع کیا مگر وہ دُھن کا پکا نکلا اجازت لی اور متعین وقت دیدیا گیا نوجوان محل میں پہنچا دیا گیا نوجوان نے ایک سرے لیکر دوسرے سرے تک در و دیوار کمرے راہداریاں فانوس قمقمے قالین صوفے تالاب حوض باغ پگڈنڈیاں الغرض ایک ایک چیز کڑے پہرے میں دیکھ لی اور وقت ختم ہونے سے پہلے بادشاہ کے روبرو پیش کردیا گیا بادشاہ اور تمام درباری گویا سناٹے میں آگئے بادشاہ نے کہا نوجوان میں اپنی شرط پر قائم ہوں محل اب تیرا ہے مگر یہ بات سمجھ نہیں آئی وقت ختم ہونے سے پہلے طے شدہ وقت میں اتنا خوبصورت جسکے درودیوار کیاریاں باغات حوض تالاب کمرے رہائشیں اتنی خوبصورت ہیں تم سے پہلے جو گیا کوئی باغ مین پہنچ کر باغ کے خوبصورتی میں کھو گیا کوئی کیاریاں کوئی قمقے کوئی درودیوار کے نقش ونگار میں کھوگیا اور وقت ختم کردیا اور جان گنوا بیٹھاتم نے پورا وقت بھی نہیں لگایا اور محل بھی دیکھ لیا نوجوان نے بادشاہ کی بات سُن کر بھرپور قہقہ لگایا اور کہا بادشاہ سلامت مجھ سے پہلے جتنے لوگ بھی محل دیکھنے آئے سب کے سب پرلے درجے کے بے وقوف تھے جو محلکی خوبصورتی میں کھو گئے اور جانیں گنواتے رہے بادشاہ سلامت محل کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی میں نے اپنی آنکھیں نیم وا کرلی تھیں اور پورا محل آنکھیں بند کر کے دیکھ آیا میں اتنا بے وقوف نہیں جو محل کی خوبصورتی میں کھو کر اپنی جان گنوا دیتا بادشاہ سلامت اب محل میری ملکیت ہے میں اُسے جی بھر کر دیکھتا رہونگا صاحبو " وہ محل دُنیا ہے بادشاہ سلامت وہ کریم ذات ہے اور محل کے خوبصورتی میں کھو جانے والے ہم انسان ہیں اور نیم وا آنکھ والے وہ دانا اور کامیاب انسان ہیں جو اس دُنیا کی خوبصورتی میں کھو نہیں جاتے بلکہ بامقصد زندگی گزار کر اللہ کے حضور پہنچ جاتے ہیں.

🌷1 *اول وقت یعنی اذان هوتے هی نماز پڑهنا* .
🌷2 *وضو کرنے جاتے وقت خود سے کهنا که اپنے گناه دهونے جارهی هوں* .
🌷3 *وضو کے بعد وضو کی مسنون دعائیں پڑهنا . جن میں ایک دعا دوسراکلمه بهی هے*
*اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد عبده ورسوله*.
🌷 4 *اپنی جسمانی ، ذهنی اور نماز والی جگه کی صفائی ، که فرشتے بدبو سے دور بهاگ جاتے هیں* .
🌷 5 *جاۓ نماز کو کچه عرصے کے بعد دهوتے رهنا. اور سجدے والی جگه پر پرفیوم کا چهڑکاؤ که بدبو نه آۓ* .
🌷 6 *نماز شروع کرنے سے پهلے نماز کی چهوٹی سی ٹوکری اپنے پاس رکهیں . جس میں فرض پڑهنے کے بعد کی مسنون دعائیں، عینک ، تسبیح وغیره موجود هو* .
🌷 7 *نماز شروع کرنے سے پهلے دوپٹه اور باقی لباس اچهی طرح سیٹ کر لینا که بار بار اس کو ٹهیک نه کرتے رهیں ، نماز کے دوران.*
🌷 8 *نماز کا ترجمه ذهن میں لانا ، نماز کے دوران* .
🌷 9 *سوره فاتحه کے بعد چهوٹی قرآنی سورتیں بدل بدل کر پڑهنا.*
🌷 10 *رکوع اور سجدے کی تسبیحات تین سے زیاده یعنی 5 یا 7 یا 9 بار پڑهنا.*
🌷 11 *نماز کے دوران جسم کے کسی بهی حصے پر خارش نه کرنا، نه هی ٹانگیں هلانا، نه هی کبهی دائیں اور کبهی بائیں ٹانگ پر وزن رکهنا.*
🌷12 *قیام یعنی سوره فاتحه اور قرآن کا کچه حصه پڑهتے وقت اور رکوع سے اٹهتے وقت سجدے والی جگه پر ، اور التحیات یعنی تشهد اور نماز کے آخر تک شهادت،کی هلتی هوئی انگلی پر نظر کو فوکسڈ رکهنا.*
🌷 13 *هر نماز سے پهلے کے ماحول سے نماز کے خشوع کا براه راست تعلق هے ، مثلا" گانے، بجانے، ڈرامے وغیره جیسے لغو کاموں سے اٹه کر نماز کی طرف جانے اور دوسری طرف قرآن سے تعلق کے بعد اٹه کر جانے میں نماز کے خشوع اور دهیان میں زمین آسمان کا فرق آۓ گا*.
🌷 14 *اگر نماز لیٹ هو جاۓ تو فور"ا ادا کریں، اگلے دن کی نماز کے ساته ملانے کی کوشش میں دیر نه کریں، که زندگی کا کیا بهروسه؟*
🌷15 *سنت طریقه سے نماز کو سیکهیں، اس گناه کے احساس سے نکلیں که آپ کو تو نماز صحیح آتی هی نهیں، تو پڑهنے کا کیا فائده؟*
🌷16 *اگر ساری کوشش کے بعد بهی نماز میں دهیان ادهر ادهر هوتو شعوری طور پر خود کو احساس دلا کر واپس نماز ک طرف لائیں ، یه نهیں که خیالات کی رو میں آگے سے آگے بڑهتے هی جائیں هم .*
🌷 17 *هر نماز کو اپنی آخری نماز جان کر پڑهیں* .
🌷 18 *هر ایک کے سامنے رونا نه روئیں که میرا تو نماز میں دل هی نهیں لگتا، دهیان هی نهیں دے پاتی، خود پر ترس کهانا چهوڑ دیں* .
🌷 19 *کسی نه کسی زیاده جاننے والے کو نماز سنتے سناتے بهی رهیں زندگی میں، یه نهیں که ایک بار جو بچپن میں سیکه لی ، سو سیکه لی*.
🌷 20 *الله سے خوب خوب رو رو کر دعائیں کریں، اپنی اور بچوں کی نماز کو صحیح سنت کے مطابق کرنے کے لۓ*.
🌷 21 *درست نماز سیکهنے کے لۓ نماز نبوی کتاب کا مطالعه کریں .*
🌷 22 *پچهلی زندگی کی جو نمازیں چهوٹ گئیں، ان پر هر وقت افسوس کی بجاۓ اپنی آج کی نمازوں کی فکر کریں، زیاده صدقه خیرات ، نوافل اور سنتوں کا اهتمام کریں ، رو رو کر الله سے پچهلی غفلت بهری زندگی کے لۓ دعائیں مانگیں* .
🌷 23 *نماز کے دوران آنکهیں بند نه کریں، ورنه آپ کهیں اور کهو جائیں گے*
*نماز میں سکون، اطمینان، دهیان ، ٹهراؤ، جماؤ، توجه اور خوشی لانے کی ان عملی تدابیر کو خود بهی اپنائیں اور دوسروں کو بهی بتائیں، صدقه جاریه کے لۓ*.

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
(ترجمہ):"میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ آپ ﷺ مسکرا پڑے۔ہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول  کون سی بات آپ ﷺ کے مسکرانے کی وجہ بنی؟
تو آپ ﷺ نے فرمایا:بیماری کی وجہ سے مومن کے رونے دھونے پر تعجب ہوتا ہے،حالانکہ اگر اسے معلوم ہو جائے کہ اس بیماری پر اسے کس قدر اجر ثواب ملے گا تو وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ مرتے دم تک بیماری میں مبتلا رہے۔
پھر آپ ﷺ دوسری مرتبہ مسکرائے اور اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اُٹھایا۔
ہم عرض گذار ہوئے: اے اللہ کے رسول ﷺ!اب آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟
اور آپﷺ نے اپنا سر مبارک بھی آسمان کی طرف اُٹھایا ہے( اس کی کیا وجہ ہے؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا:مجھے وہ دو فرشتے بہت بھلے لگے جو آسمان سے اترےاور ایک مومن بندے کو اس کی نماز والی جگہ تلاش کرنے لگے،جہاں وہ نماز پڑھتا تھا، لیکن انہیں وہ نہیں ملا۔چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف( آسمان میں )چڑھ گئے اور انہوں نے جا کر کہا:اے پروردگار! تیرا جو فلاں بندہ ہے، ہم اس کو روز و شب کے اتنے اتنے اعمال لکھا کرتے ہیں۔لیکن آج ہم نے اسے دیکھا کہ تو نے اسے (بیمار کر کے) اپنے جال میں بند کردیا،لہٰذا ہم اس کا کوئی عمل لکھ نہ پائے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میرے بندے کے وہ اعمال لکھتے رہو جو وہ شب و روز میں کیا کرتا تھا اور اس کا کوئی بھی اجر کم نہ کرنا۔جو میں نے اسے( بیماری کی وجہ سے) روک رکھا ہے؛ اس کا اجر دینا میرے ذمے ہے۔اور جو وہ عمل کیا کرتا تھا؛ اس کے اجر کا بھی وہ حق دار ہے"۔
( رجالہ رجال الصحیح)۔مسند احمد: 2/۔ 159۔ سنن الدارمی۔2770۔المستدرک للحاکم:1/۔499۔ مجمع الزوائد للھیثمی:2/۔303).

*#حدیث_نمبر1*
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتےہیں کہ ایک نابینا شخص کی ام ولد باندی تھی جونبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوگالیاں دیتی تھی وہ نابینا اسکو روکتاتھامگروہ باز نہ آتی تھی وہ اسے ڈانٹتا مگریہ نہ مانتی، پھرایک رات جب اس نے نبی کریم علیہ السلام کی شان میں گستاخی ودشنام طرازی کی تواس نابینانےخنجر لیا اوراس سےاسکا پیٹ چاک کردیا۔سب کچھ خون آلودہ ہوگیا۔جب صبح ہوئی تویہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں زکرکیاگیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگوں کو جمع کیاپھرفرمایا اس آدمی کومیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نےیہ فعل کیامیرا اس پر حق ہےوہ کھڑا ہوجائےتووہ نابینافوراً کھڑاہوگیا لوگوں کو پھلانگتا ہوااس حالت میں آگےبڑھاکہ وہ کانپ رہاتھا حتی کہ حضور علیہ السلام کےسامنےبیٹھ گیا اور عرض کی" یارسول اللہ صلی اللہ علیہ میں نےاسےماراہے یہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اورآپ کی شان میں گستاخی کرتی تھی میں اسےروکتاتھامگریہ نہ رکتی میں دھمکاتاتھامگروہ باز نہ آتی تھی اس سےمیرے دوبچےہیں جوموتیوں کی طرح ہیں اوروہ مجھ پہ مہربان بھی تھی لیکن آج رات جب اس نےآپ کو گالیاں دینی شروع کیں تومیں نےخنجر نکال کراسکا پیٹ چاک کردیا-
فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ألااشهدوان دمها هدرٌ
پس نبی کریم علیہ السلام نےفرمایا لوگوگواہ رہو کہ اسکاخون بےبدلہ(یعنی رائیگاں) ہے۔
(ابوداؤدشریف ص600 نسائی شریف ج2ص151 کنزالعمال ج7ص304)

*#حدیث_نمبر2*
کعب بن اشرف یہودیوں کےقبیلہ بنوقریظہ سےتعلق رکھتاتھا اس قبیلہ کاسردار تھا شعروشاعری کرتاتھااپنےاشعار میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ ہجوکرتاتھا،اورمسلمان کےدشمنوں کی مالی مدد بھی کرتاتھا،اور سرکار علیہ السلام کی دل آزاری کاکوئی موقع ہاتھ سےنہ جانے دیتاتھا،
امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتےہیں۔
لانه نقض عهد النبي عليه السلام وهجاه وسبه
(شرح صحیح مسلم للنووی ض2ص110)
اس لیے کعب بن اشرف یہودی کوقتل کرنےکاحکم صادر کیاگیا کہ اس ملعون نےعہد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوتوڑڈالاتھا وہ آپ علیہ السلام کی توہین کاارتکاب کرتاتھا اورآپ علیہ السلام کی ذات اقدس کےبارےمیں نازیبا کلمات کہتاتھا-(نعاذباللہ)
لعنة الله عليكم دشمنان مصطفيٰ
سرکار دوعالم نے ارشاد فرمایا
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من لکعب ابن الاشرف فانہ قداذي الله ورسوله (مسلم شریف ج2ص110،بخاری شریف ص576)
نبی علیہ السلام نےفرمایاکون ہےجوکعب بن اشرف کوقتل کرے؟ کیونکہ اس نےاللہ اوررسول کواذیت پہنچائی
اس پر حضرت سیدنامحمدبن مسلمہ کھڑے ہوئےاورفرمایا یارسول اللہ علیہ السلام کیاآپ چاہتےہیں میں اسکو قتل کردوں؟ آپ علیہ السلام نےفرمایا ہاں
پھر رسول اللہ سےاجازت لےکر کعب بن اشرف کے پاس آئے اورقرضہ طلب کیا،کعب بن اشرف نےکہاہاں قرض لےلومگرمیرےپاس کچھ رہن رکھو،ابن مسلمہ اورانکے ساتھیوں نے کہا ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ سکتےہیں اس سےدوسری مرتبہ آنےکاوعدہ کرکےرخصت ہوگئےاور رات کو تشریف لےگئےاسکو آواز دی کعب مکان کی بالائی چھت سےاترنےلگابیوی نےمنع کرنا چاہا کہ اس آواز سےمجھے تیری موت کی بوآتی ہےمگروہ نہ رکا جونہی کعب بن اشرف کپڑا اوڑھے ہوئےانکےقریب آیا تو حضرت محمد بن مسلمہ نےکہاآج تک اتنی زبردست خوشبو نہیں سونگھی کعب بن اشرف نےکہا ہاں مستورات عرب کی سردار میرے پاس ہے،محمد بن مسلمہ فرمانے لگےکیا میں تمہارا سر سونگھ سکتاہوں؟ اس نےکہاہاں سونگھ لو،آپ نے ساتھیوں کوبھی دعوت دی پھرایک باردوبارہ خواہش ظاہر کی اس نےاجازت دےدی
فلمااستمكن منه قال دونكم فقتلوه ثم اتواالنبي فاخبروه
(صحیح بخاری،کتاب المغازی،صحیح مسلم کتاب الجھاد والیسر)
جب بالوں سے پکڑ کرمحمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نےاچھی طرح اسکوقابوکرلیاتوساتھیوں سےکہا قریب آجاؤاوراسےقتل کردوانہوں نےایسا ہی کیا پھروہ رسول اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئےاورواقعہ کی اطلاع دی-

*#حدیث_نمبر3*
حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں
بعث رسول اللہ علیہ السلام الي ابي رافع اليهودي رجالامن الانصاروامر عليهم عبدالله بن عتيك وكان ابورافع يوذي رسول الله ويعين عليه(بخاري ج2ص577)
رسول اللہ علیہ السلام نےابورافع یہودی کی طرف انصارکےچند آدمی بھیجے،عبداللہ بن عتیک کوان کاامیرمقرر کیا ابورافع رسول اللہ علیہ السلام الصلوۃ والسلام کواذیت پہنچایاکرتاتھااورآپ کےمقابلےمیں قبیلہ غطفان کےکفار کی مددکیاکرتاتھا.
اس بدبخت کاپورانام ابورافع عبداللہ بن ابی الحقیق تھا، یہ بڑامالداراورتونگرتھا یہ بدبخت رسول اللہ کی گستاخی واہانت کاارتکاب بھی کرتاتھا،حضرت عبداللہ اپنےساتھیوں کےہمراہ قلعےکےقریب آئےتوسورج غروب ہورہاتھا،آپ ساتھیوں سمیت قلعےکےاندرروپوش ہوگئے چوکیدار سےبہانے سےبات چیت کرکے چابیوں تک رسائی حاصل کی اوردروازہ کھول دیا حسب معمول جب قصہ گوچلےگئےتو عبداللہ بن عتیک نےبالاخانےکی طرف قصد کیا ابورافع اپنےاہل عیال کےدرمیان تاریک کمرےمیں سورہاتھا یہ پتانہ لگتاتھاکہ وہ کس جگہ سویاہےتومیں نےآواز دی اےابورافع اس نےجواب دیاتو میں نےتلوارسےوار کیا پہلا وار خالی گیا اورکمرےمیں چیخ پکار مچ گیا،میں باہرآیا تھوڑے توقف کےبعدپھراندرگیاآواز بدل کربولااےابورافع اس نے کہا تیری ماں تجھے روئےابھی ایک شخص مجھ پہ وار کرکےگیا عبداللہ بن عتیک فرماتےہیں میں پھرتلوار ماری تووہ شدید زخمی ہوگیامگرقتل ناہوا۔
ثم وضعت خبيب السيف في بطنه حتي اخذفي ظهره فعرفت اني قتلته
پھرمیں نےتلوار اسکےپیٹ پررکھ کراسےزورسےدبایا وہ پیٹھ سےنکل گئی اب یقین ہوگیا کہ وہ قتل ہوچکاہے۔
(صحیح بخاری،کتاب المغازی ج2ص577)

*#حدیث4*
عن علي ان يهوديه كانت تشتم النبي وتقع فيه فخنقها رجل حتي ماتت فابطل رسول الله دمها
(سنن ابی داؤد ج2 ص244،مشکوۃ الصابیح ص308)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سےمروی ہےکہ ایک یہودیہ حضور علیہ السلام کی شان میں ہجو اورطعن کرتی تھی اس پر ایک شخص نےاس کا گلا گھونٹایہاں تک کہ وہ مرگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کاخون رائیگاں قراردیا۔

*#حدیث_نمبر5*
فتح مکہ کےموقع پرعام معافی کااعلان فرمایا تواس عام اعلان سےچارمردوں اوردوعورتوں کومستثنی قراردیا۔کیونکہ انہوں نےسرکاردوعالم کی گستاخی کی تھی، ان چارمردوں میں
عکرمہ بن ابوجہل
عبداللہ بن خطل
مقیس بن صبابہ
عبداللہ بن ابی السراح
اور عورتوں میں مؤخرالذکر کی دولونڈیاں شامل تھیں۔سیدعالم نےان گستاخوں کاخون مباح قرار دیتےہوئے اہل ایمان کوبڑاواضح ارشادفرمایا:کہ جس کےبعد کوئی مومن گستاخ رسول کی شرعی سزا کےبارے میں شک بھی نہیں کرسکتا-
اقتلوھم وان وجدتموھم متعلقین باستارالکعبۃ(سنن نسائی ج2ص169)
انہیں قتل کردواگرکعبہ شریف کےپردوں سےچمٹےہوئےپاؤ(اسی لیے گستاخوں کےلیے دارالامان میں بھی امان نہیں ہے)
ان گستاخوں میں سےعبداللہ بن خطل کےبارےمیں حدیث شریف میں یوں ذکر آیاہے
"عبداللہ بن خطل کعبہ شریف کےپردوں سے چمٹا ہوا پایا گیا، اسے قتل کرنے کے لیے حضرت سعیدبن حارث اورعماربن یاسردوڑےحضرت سعیدحضرت عمار سےزیادہ جوان تھےآپ نےآگے بڑھ کراسےواصل جہنم کردیا-
*#حدیث_نمبر6*
" اس حدیث پہ غامدی اور اسکےحواریوں کےاعتراض کابھی جواب ہے-"
ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺣﺎﺗﻢؒ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﺩﻭﯾﮧؒ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻖ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺣﺎﺗﻢؒ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ :
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻷﻋﻠﻰ ﻗﺮﺍﺀﺓ، ﺃﻧﺒﺄ ﺍﺑﻦ ﻭﻫﺐ، ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻟﻬﻴﻌﺔ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻷﺳﻮﺩ ﻗﺎﻝ : ﺍﺧﺘﺼﻢ ﺭﺟﻼﻥ ﺇﻟﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﻀﻰ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ، ﻓﻘﺎﻝ ﺍﻟﺬﻱ ﻗﻀﻰ ﻋﻠﻴﻪ : ﺭﺩﻧﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : ﻧﻌﻢ، ﺍﻧﻄﻠﻘﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ، ﻓﻠﻤﺎ ﺃﺗﻴﺎ ﻋﻤﺮ ﻗﺎﻝ ﺍﻟﺮﺟﻞ : ﻳﺎ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﻗﻀﻰ ﻟﻲ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻠﻰ ﻫﺬﺍ، ﻓﻘﺎﻝ : ﺭﺩﻧﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ ﺣﺘﻰ ﺃﺧﺮﺝ ﺇﻟﻴﻜﻤﺎ ﻓﺄﻗﻀﻲ ﺑﻴﻨﻜﻤﺎ، ﻓﺨﺮﺝ ﺇﻟﻴﻬﻤﺎ، ﻣﺸﺘﻤﻼ ﻋﻠﻰ ﺳﻴﻔﻪ ﻓﻀﺮﺏ ﺍﻟﺬﻱ ﻗﺎﻝ : ﺭﺩﻧﺎ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺮ ﻓﻘﺘﻠﻪ، ﻭﺃﺩﺑﺮ ﺍﻵﺧﺮ ﻓﺎﺭﺍ ﺇﻟﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﺎﻝ : ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ، ﻗﺘﻞ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺻﺎﺣﺒﻲ ﻭﻟﻮ ﻣﺎ ﺃﻧﻲ ﺃﻋﺠﺰﺗﻪ ﻟﻘﺘﻠﻨﻲ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : ﻣﺎ ﻛﻨﺖ ﺃﻇﻦ ﺃﻥ ﻳﺠﺘﺮﺉ ﻋﻤﺮ ﻋﻠﻰ ﻗﺘﻞ ﻣﺆﻣﻨﻴﻦ، ﻓﺄﻧﺰﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻓﻼ ﻭﺭﺑﻚ ﻻ ﻳﺆﻣﻨﻮﻥ ﺣﺘﻰ ﻳﺤﻜﻤﻮﻙ ﻓﻴﻤﺎ ﺷﺠﺮ ﺑﻴﻨﻬﻢ ﺛﻢ ﻻ ﻳﺠﺪﻭﺍ ﻓﻲ ﺃﻧﻔﺴﻬﻢ ﺣﺮﺟﺎ ﻣﻤﺎ ﻗﻀﻴﺖ ﻭﻳﺴﻠﻤﻮﺍ ﺗﺴﻠﻴﻤﺎ ﻓﻬﺪﺭ ﺩﻡ ﺫﻟﻚ ﺍﻟﺮﺟﻞ ﻭﺑﺮﺉ ﻋﻤﺮ ﻣﻦ ﻗﺘﻠﻪ، ﻓﻜﺮﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﺃﻥ ﻳﺴﻦ ﺫﻟﻚ ﺑﻌﺪ، ﻓﻘﺎﻝ : « ﻭﻟﻮ ﺃﻧﺎ ﻛﺘﺒﻨﺎ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﺃﻥ ﺍﻗﺘﻠﻮﺍ ﺃﻧﻔﺴﻜﻢ ﺃﻭ ﺍﺧﺮﺟﻮﺍ ﻣﻦ ﺩﻳﺎﺭﻛﻢ ﻣﺎ ﻓﻌﻠﻮﻩ ﺇﻻ ﻗﻠﻴﻞ ﻣﻨﻬﻢ » ﺇﻟﻰ ﻗﻮﻟﻪ : ﻭﺃﺷﺪ ﺗﺜﺒﻴﺘﺎ
ﯾﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻻﻋﻠﯽٰ ﻋﺒﺪﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻭﮬﺐ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﮩﯿﻌﮧ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺍﻻﺳﻮﺩ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ : ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﺎﮞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ؟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻋﻤﺮ ؓﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭼﻠﮯ ﺟﺐ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﺍﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻢ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮔﺌﮯ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ( ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﮯ ) ﮐﮩﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﺎﮞ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﮨﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺅﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻭﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﮧ ﻋﻤﺮ ؓ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺟﺮﺍﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﺗﺮﯼ ﻟﻔﻆ ﺁﯾﺖ ’’ ﻓﻼ ﻭﺭﺑﮏ ﻻ ﯾﺆﻣﻨﻮﻥ ‘‘ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺑﺎﻃﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮ ؓ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻔﻆ ﺁﯾﺖ ’’ ﻭﻟﻮ ﺍﻧﺎ ﮐﺘﺒﻨﺎ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻥ ﺍﻗﺘﻠﻮﺍ ﺍﻧﻔﺴﮑﻢ ‘‘ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ’’ ﻭﺍﺷﺪ ﺗﺜﺒﯿﺘﺎ ‘‘ ﺗﮏ ( ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ ﺁﯾﺖ ٦٦)
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﭘﺮ ﻏﺎﻣﺪﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺍﺑﻦ ﻣﺮﺩﻭﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺣﺎﺗﻢ ﮐﯽ ﺳﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﺭﺍﻭﯼ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﺿﻌﯿﻒ ﮨﮯ۔
*#اعتراض_کاجواب*
ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺑﻞ ﻏﻮﺭ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺿﻌﻒ ﺳﻮﺀ ﺣﻔﻆ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺿﻌﯿﻒ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮ ﻋﮑﺲ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻭﮬﺐؒ، ﻗﺘﯿﺒﮧ ﺑﻦ ﺳﻌﯿﺪ ؒﺳﻤﯿﺖ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﺌﯽ ﺭﺍﻭﯼ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺮ ﺑﺤﺚ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻭﮬﺐ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﺳﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﻟﮩﯿﻌﮧ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﻌﻒ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔

*#حدیث_نمبر7*
ایک شخص حضور علیہ السلام کوبرابھلاکہتاتھا آپ علیہ السلام نےارشاد فرمایاکون ہے جومیرے دشمن سےبدلہ لے؟
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نےعرض کی" میں تیار ہوں" چنانچہ نبی کریم علیہ السلام نےانہیں اس کام کےلیےبھیجاتوانہوں نےاس گستاخ کوواصل جہنم کردیا-
(مصنف عبدالرزاق،شفاءجلد2ص240،دلائل النبوۃ ج4ص59)
امام عبدالرزاق نےاورامام قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہمانےروایت نقل کی ہے-

*#حدیث_نمبر8*
ان النبی سبه رجل فقال من يكفيني عدوي فقال الزبير انا فبازره فقتله الزبير
(مصنف عبدالرزاق جلد5 ص307،شفاءجلد2ص240)
ایک آدمی نےحضور علیہ السلام کوسب وشتم کیا آپ علیہ السلام نےفرمایا کون ہےجومیرےدشمن کا بدلہ لے؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نےعرض کی میں حاضرہوں پھرآپ نےگستاخ سےمقابلہ کیااوراس کوقتل کردیا-
یہی دونوں بزرگ یہ روایت بھی نقل کرتےہیں-
جذاک اللہ