رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛
"بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوکر چمکے، جمعے کا دن ہے- اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گۓ، اسی دن جنت میں داخل کیے گۓ، اسی دن جنت سے نکالے گۓ اور قیامت بھی جمعے کے دن قائم ہوگی-"
.
(صحیح مسلم:854)
جمعہ کی فرضیت.
ارشاد باری تعالی ھے:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
"اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو"
)سورة -الجمعة :9(
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص سستی کی وجہ سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ھے-"
)حسن( ]سنن ابی داؤد: 1052[
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وه غافل ھوجائیں گے-"
)صحیح مسلم:865(
جیسے انسان ایک نافرمانی کرتا ھے تو توبہ نہیں کرتا دوسری کرتا توبہ نہیں کرتا اسی طرح پلٹتا ھی نھیں تو اللہ تعالی توفیق چھین لیتا ھے ..استغفر اللہ..
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے گھروں کو جو )بلاعذر( جمعے سے پیچھے رھتے ھیں، جلا دینے کا قصد)اراده( کیا-"
)صحیح مسلم-652(
معلوم ھوا کہ جمعہ چھوڑنا بہت بڑا گناه ھے، اس پر شدید وعید آئ ھے،
لہذا ہر مسلمان پر جمعہ پڑھنا فرض ھے . اس میں ھرگز سستی نہیں کرنی چاھیۓ-
جب خطیب منبر پر چڑھے اور اذان ھوجاۓ تو سارے کام کاروبار حرام ھوجاتے ھیں....★
Post A Comment:
0 comments so far,add yours