آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس اِنتہائی نرم اور ملائم تھے، شبنم کے قطروں سے بھی نازک، پھولوں کا گداز بھی اس کے آگے پانی پانی ہو جائے، دستِ اقدس سے ہمہ وقت خوشبوئیں لپٹی رہتیں، مصافحہ کرنے والا ٹھنڈک محسوس کرتا، اَنگشت مبارک قدرے لمبی تھیں، چاند کی طرف اُٹھتیں تو وہ بھی دولخت ہو جاتا۔
6ھ میں حدیبیہ کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جاں نثاروں کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں، کفار و مشرکینِ مکہ آمادۂ فتنہ و شر ہیں۔ سفراء کا تبادلہ جاری ہے اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سفیرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہو تے ہیں۔ دوسری طرف بیعتِ رضوان کا موقع آتا تو اللہ رب العزت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیتا ہے :

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًاO

القرآن، الفتح، 48 : 10
’’(اے رسول!) بلاشبہ جو لوگ آپ سے (آپ کے ہاتھ پر) بیعت کرتے ہیں فی الحقیقت وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، (گویا) اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں پر ہے، پھر جو کوئی عہد کو توڑے تو عہد کے توڑنے کا نقصان اُسی کو ہو گا اور جو اللہ سے اپنا اِقرار پورا کرے (اور مرتے دم تک قائم رہے) تو اللہ تعالیٰ عنقریب اُسے بڑا اجر دے گا (اپنے دیدار سے سرفراز فرمائے گا )o‘‘
ایک دوسرے مقام پر ارشادِ خُداوندی ہے :
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـكِنَّ اللّهَ رَمٰی.
’’اور (اے حبیبِ محتشم) جب آپ نے (اُن پر سنگریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ تعالیٰ نے مارے تھے۔‘‘
القرآن، الانفال، 8 : 17
Share To:

Post A Comment: