ایک بار حضرت موسٰی علیہ السلام کوہ طور پر اللہ سے ملاقات کرنے جا رھے تھے کہ راستے میں ایک بکریاں چرانے والے چرواہے کو دیکھا جو نھایت ھی سادہ اور خلوص اور محبت بھرے انداز میں کہہ رھا تھا کہ اے اللہ اگر تو میرے پاس ھوتا تجھے نہلاتا تیرے سر پر تیل لگاتا تیری کنگھی کرتا تیرے سر سے جوئیں نکالتا تجھے اچھے اچھے کپڑے پہناتا تجھے پیار کرتا ابھی وہ یہ الفاظ کہہ ھی رھا تھا کہ موسٰی بولے او چرواہے تو شرک کر رھا ھے اللہ ایسی علتوں سے پاک ھے وہ وہ ان  سے بالاتر ھے یہ توکیسی باتیں کر رھا ھے کفر کر رھا ھے جب موسٰی نے یہ الفاظ بولے تو چرواھا رونے لگ پڑا کہ شاھد میں نے اللہ کو ناراض کر دیا ھے میں نے کفر کر دیا ھے روتا ھوا روانہ ھو گیا
ادھر موسٰی کوہ طور پر حاضر ھوۓ کلام کرنے تو اللہ نے فرمایا موسٰی میں ہرگز کلام نہیں کروں گا تجھ سے تو نے میرے بہت پارے بندے کو ناراض کر دیا ھے
موسٰی بولے یا اللہ کون بندہ
فرمایا وہی جو بول رھا تھا اللہ تیری کنگھی کروں گا تیل لگاٶں گا جوئیں نکالوں گا
یا اللہ وہ ایسی باتیں کر رھا تھا جن سے تو پاک ھے  تب میں نے اسے منع کیا ھے
مجھے پتا ھے موسیٰ لیکن اسکی ان باتوں میں وہ سادگی اور اخلاص تھا وہ محبت تھی کہ مجھے اسکی باتوں سے لطف آرھا تھا اگرچہ وہ ایسی بات کر رھا تھا لیکن اسے شھور جو نہیں تھا تو پہلے جا اسے راضی کر اسے بول وہی باتیں پھر کرے تب میں تجھ سے کلام کروں گا
موسٰی علیہ السلام چرواہے کو ڈھونڈنے لگے جب دیکھا کہ وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھا رو رھا ھے موسٰی بولے تیری وجہ سے اللہ مجھ سے ناراض ھو گیا ھے تو پھر سے وہی باتیں کر جو پہلے کر رھا تھا
وہ بولا نہیں نہیں اے اللہ کے نبی جب آپ یھاں سے چلے گے تو اللہ نے مجھے ھدایت کی روشنی نصیب فرما دی تھی اور مجھے اسکی معرفت حاصل ھو گی اب میں نے توبہ کر لی ھے اب میں ایسے الفاظ کبھی بھی ادا نہیں کروں گا اب مجھے اسکی ذات کا شھور حاصل ھے یہ آپکی برکت کی وجہ سے ھوا ھے
حاصل کلام یہ ھے کہ نیک لوگوں کی صحبت ایک ھزار رکعت نماز سے افضل ھے ھو سکتا ھے ایک ھزار رکعت نماز آپکو تکبر میں مبتلا کر دے اور یہ آپکی ہلاکت کا باعث بن جاۓ لیکن اللہ کے نیک بندوں کی صحبت کا ایک لمحے سے آپکو ھدایت کا ایک ایسہ نکتہ مل جاۓ جو پوری زندگی کے لیے ھدایت بن جاۓ اور اخلاص کا ایک سجدہ ساری زندگی کے سجدوں سے بھاری ھے ریاکاری کی عبادت سواۓ زمین پر ٹکر مارنے مارنےکے علاوہ کچھ نہیں..!!
Share To:

Post A Comment: