بے ضرورت بات بات ميں قسم کھانا برى بات ہے اس ميں اللہ تعالى کے نام کى بڑى بے تعظيمى اور بيحرمتى ہوتى ہے جہاں تک ہو سکے سچ بات پر بھى قسم نہ کھانا چاہيے۔1. جس نے اللہ تعالى کى قسم کھائى اور يوں کہا اللہ قسم خدا قسم خدا کى عزت و جلال کى قسم خدا کى بزرگى اور بڑائى کى قسم تو قسم ہو گئى اب اس کے خلاف کرنا درست نہيں۔ اگر خدا کا نام نہى ليا فقط اتنا کہہ ديا ميں قسم کھاتى ہوں کہ فلاں کام نہ کروں گى بھى قسم ہوگئى۔2. اگر يوں کہا خدا گواہ ہے خدا کو گواہ کر کے کہتى ہوں خدا کو حاضر و ناظر جان کے کہتى ہوں تب بھى قسم ہوگئى۔3. قرآن کى قسم کلام اللہ کى قسم کلام مجيد کى قسم کھا کر کوئى بات کہى تو قسم ہوگئى اور اگر کلام مجيد کو ہاتھ ميں لے کر آيا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئى بات کہى ليکن قسم نہيں کھائى تو قسم نہيں ہوئى۔4. يوں کہا اگر فلانا کام کروں تو بے ايمان ہو کر مروں مرتے وقت ايمان نہ نصيب ہو بے ايمان ہو جاؤں يا اس طرح کہا اگر فلانا کام کروں تو ميں مسلمان نہيں تو قسم ہو گئى اس کے خلاف کرنے سے کفارہ دينا پڑے گا اور ايمان نہ جائے گا۔5. اگر فلاناکام کروں تو ہاٹھ ٹوٹيں ديدے پھوٹيں کوڑھى ہو جائے بدن پھوٹ نکلے خدا کا غضب ٹوٹے آسمان پھٹ پڑے دانے دانے کى محتاج ہو جائے خدا کى مار پڑے خدا کى پھٹکار پڑے اگر فلانا کام کروں تو سور کھاؤں مرتے وقت کلمہ نہ نصيب ہو قيامت کے دن خدا اور رسول کے سامنے زرد رو ہوں ان باتوں سے قسم نہيں ہوتى اس کے خلاف کرنے سے کفارہ نہ دينا پڑے گا۔خدا کے سوا اور کسى کى قسم کھانے سے قسم نہيں ہوتى جيسے رسول اللہ کى قسم کعبہ کى قسم اپنى آنکھوں کى قسم اپنى جوانى کى قسم اپنے ہاتھ پيروں کى قسم اپنے باپ کى قسم اپنے بچے کى قسم اپنے پياروں کى قسم تمہارے سر کى قسم تمہارى جان کى قسم تمہارى قسم اپنى قسم اس طرح قسم کھاکے پھر اس کے خلاف کرے تو کفارہ نہ دينا پڑے گا۔ ليکن اللہ تعالى کے سوا کسى اور کى قسم کھانا بڑا گناہ ہے۔ حديث شريف ميں اس کى بڑى ممانعت آئى ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر اور کسى کى قسم کھانا شرک کى بات ہے اس سے بہت بچنا چاہيے۔• کسى نے کہا تيرے گھر کا کھانا مجھ پر حرام ہے يا يوں کہا فلانى چيز ميں نے اپنے اوپر حرام کر لى تو اس کہنے سے وہ چيز حرام نہيں ہوئى ليکن يہ قسم ہو گئى اب اگر کھائے گى تو کفارہ دينا پڑے گا۔• کسى دوسرے کى قسم دلانے سے قسم نہيں ہوتى جيسے کسى نے تم سے کہا تمہيں خدا کى قسم يہ کام ضرور کرو تو يہ قسم نہيں ہوئى اس کے خلاف کرنا درست ہے۔• قسم کھا کر اس کے ساتھ ہى انشاء اللہ کا لفظ کہہ ديا جيسے کوئى اس طرح کہے خدا کى قسم فلانا کام انشاء اللہ نہ کروں گى تو قسم نہيں ہوئى۔• جو بات ہو چکى ہے اس پر جھوٹى قسم کھانا بڑا گناہ ہے جيسے کسى نے نماز نہيں پڑھى اور جب کسى نے پوچھا تو کہہ ديا خدا کى قسم ميں نماز پڑھ چکى يا کسى سے گلاس ٹوٹ گيا اور جب پوچھا گيا تو کہہ ديا خدا کى قسم ميں نے نہيں توڑا جان بوجھ کر جھوٹى قسم کھا لى تو اس کے گناہ کى کوئى حد نہيں اور اس کا کوئى کفارہ نہيں۔ بس دن رات اللہ سے توبہ و استغفار کر کے اپنا گناہ معاف کرائے سوائے اس کے اور کچھ نہيں ہو سکتا اور اگر غلطى اور دھوکہ ميں جھوٹى قسم کھا لى جيسے کسى نے کہا خدا کى قسم ابھى فلانا آدمى نہيں آيا اور اپنے دل ميں يقين کے ساتھ يہى سمجھتى ہے کہ سچى قسم کھا رہى ہوں پھر معلوم ہوا کہ اس وقت گيا تھا تو معاف ہے اس ميں گناہ نہ ہوگا اور کچھ کفارہ بھى نہيں۔• اگر ايسى بات پر قسم کھائى جو ابھى نہيں ہوئى بلکہ آئندہ ہوگى جيسے کوئى کہے خدا کى قسم آج پانى برسے گا خدا کى قسم آج ميرا بھائى آئے گا پھر وہ نہيں آيا اور پانى نہيں برسا تو کفارہ دينا پڑے گا۔• کسى نے قسم کھائى خدا قسم آج قرآن ضرور پڑھوں گى تو اب قرآن پڑھنا واجب ہو گيا نہ پڑھے گى تو گناہ ہوگا اور کفارہ دينا پڑے گا اور کسى نے قسم کھائى خدا کى قسم آج فلانا کام نہ کروں گى تو وہ کام کرنا درست نہيں اگر کرے گى تو قسم توڑنے کا کفارہ دينا پڑے گا۔• کسى نے گناہ کرنے کى قسم کھائى کہ خدا قسم آج فلانے کى چيز چراؤں گى خدا قسم آج نماز نہ پڑھوں گى۔ خدا قسم اپنے ماں باپ سے کبھى نہ بولوں گى تو ايسے وقت قسم کا توڑ دينا واجب ہے توڑ کے کفارہ ديدے نہيں تو گناہ ہوگا۔• کسى نے قسم کھائى کہ آج ميں فلانى چيز نہ کھاؤں گى پھر بھولے سے کھا لى اور قسم ياد نہيں رہى يا کسى نے زبرستى منہ چير کر کھلا دى تب بھى کفارہ دے۔• غصہ ميں قسم کھائى کہ تجھ کو کبھى ايک کوڑى نہ دوں گى پھر ايک پيسہ يا ايک روپيہ دے ديا تب بھى قسم ٹوٹ گئى کفارہ دے۔ (بہشتی زیور سے ماخوذ)
Post A Comment: