حضرت سلمان فارسیؓ ایک صحابی ہیں، وہ ایران میں رہتے تھے، آتش پرست تھے۔ ان کے والد کا ایک ہی کام تھا کہ وہ ہر وقت آگ جلائے رکھتے تھے وہ آگ کو بجھنے نہیں دیتے تھے۔ ان بے چاروں کا خدا کہیں بجھ نہ جائے لہٰذا اس کو لکڑیاں دینی پڑتی ہیں۔اس نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا کہ بیٹا! آپ کا بھی ایک ہی کام ہے کہ آگ جلتی رہنی چاہیے یہ اچھے بھلے بڑی عمر کے ہو گئے مگر ان کو باہر کی دنیا کا پتہ ہی نہیں تھا۔
ایک مرتبہ ان کا والد بیمار ہو گیا۔ اس نے ان کو بھیجا کہ زمینوں پر جاؤ، وہاں سے پیسے لے کر آنے ہیں لیکن یاد رکھنا کہ سیدھا جانا اور سیدھا آنا، وقت ضائع نہ کرنا۔ انہوں نے پہلے کبھی باہر نکل کر نہیں دیکھا تھا۔ اب ان کو باہر نکلنے کا موقع ملا۔ چنانچہ جب باہر نکل کر جا رہے تھے تو ایک راہب (عیسائیوں کا عالم) ان کو مل گیا۔ انہوں نے اس راہب سے راستہ پوچھا، ان کی آپس میں بات چیت ہونے لگی۔ راہب نے ان سے پوچھا کہ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے بتا دیا۔ اس طرح بات چیت سے ان کو راہب کے ساتھ ایک تعلق ہو گیا۔ اس نے کہا کہ یہاں قریب ہی ایک چرچ ہے، میں وہاں پر ہوتا ہوں، تجھے جب موقع ملے میرے پاس سے ہو کرجایا کرو۔ چنانچہ وہ جب بھی ادھر آتے جاتے وہ اس کو مل کر جاتے۔راہب نے ان کے سامنے عیسائیت کی تعلیمات پیش کیں۔ اس وقت عیسائی مذہب سچا مذہب تھا۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ یہ مذہب بالکل ٹھیک ہے لہٰذا میں یہ مذہب اختیار کروں گا۔ یہ اس سے پوچھنے لگے کہ کیا میں یہ تعلیم حاصل کر سکتا ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں مگر بڑے عالم فلاں شہر میں رہتے ہیں، اگر آپ نے علم حاصل کرنا ہے تو ان کے پاس چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے پاس کیسے جاؤں گا؟ راہب نے کہا کہ وہاں قافلے جاتے ہیں، جب اگلا قافلہ جائے گا تو میں آپ کو اس قافلے والوں کے ساتھ بھیج دوں گا۔ وہ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے بس مجھے اطلاع دے دینا، میں گھر سے آجاؤں گا، کیونکہ اگر میں یہاں رہا تو ابو مجھے آگ جلانے پر ہی رکھیں گے اور اس کی وجہ سے میری زندگی بھی نہیں سنورے گی، لہٰذا بہتر ہے کہ میں وہاں جا کر علم حاصل کر لوں۔جب ایک قافلہ جانے لگا تو اس راہب نے ان کو اطلاع دی اور یہ قافلے کے ساتھ وہاں چلے گئے۔ جس کے پاس گئے وہ بڑی عمر کا عالم تھا۔ انہوں نے اس عالم سے تقریباً ایک سال تک پڑھا اور اس کے بعد وہ فوت ہو گئے،
حضرت سلمان فارسیؓ بڑے پریشان ہوئے کہ میں ان سے پڑھنے آیا تھا اور یہ فوت ہو گئے ہیں۔پھر وہ ان سے بھی بڑے عالم کے پاس گئے، وہ بھی بوڑھے ہو چکے تھے۔ ان کے پاس کچھ عرصہ پڑھا ہی تھا کہ وہ بھی بیمار ہو گئے، لہٰذا انہیں پھر پریشانی ہوئی۔ اسی پریشانی کے عالم میں ان سے پوچھا کہ اب میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں، آپ میرے بعد فلاں سے علم حاصل کر لینا،
چنانچہ جب وہ عالم فوت ہوئے تو وہ تیسرے کے پاس چلے گئے۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ تیسرا بھی بوڑھا تھا وہ بیمار ہو گیا۔ اب تو حضرت سلمان فارسیؓ رونے لگے کہ پتہ نہیں یہ کیا معاملہ ہے کہ میں جدھر بھی جاتا ہوں ادھر استاد مجھے داغ مفارقت دے جاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟ اس نے کہاکہ اب وہ وقت آ گیا ہے جس میں نبی آخر الزماںؐ نے تشریف لانا ہے،
میں نشانیاں بتا دیتا ہوں لہٰذا آپ کوشش کرکے اس علاقے میں چلے جائیں، جہاں انہوں نے آنا ہے، وہاں جا کر ان سے تعلیم حاصل کرنا یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ چنانچہ اس نے انہیں وہ نشانیاں بتا دیں اور ایک قافلہ والوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ بھی کر دیا۔ اس زمانے میں مدینہ کو یثرب کہا جاتا تھا۔قافلہ والوں نے درمیان میں بدعہدی کی کہ یہ بچہ ہے اور اس کا کوئی والی وارث نہیں،
انہوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر انہیں ایک غلام کی حیثیت سے بیچ دیا۔ اور انہیں ایک یہودی نے خرید لیا۔ ان کا وہاں کوئی واقف نہ تھا۔ البتہ انہوں نے جب یہ علاقہ دیکھا اور ان نشانیوں کو دیکھا جو ان کے استاد نے انہیں بتائی تھیں تو ان کو تسلی ہو گئی کہ یہ علاقہ وہی ہے جہاں نبی آخر الزماںؐ نے تشریف لانا ہے۔ چنانچہ دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب میں یہیں رہوں گا۔اس یہودی کا کھجوروں کا ایک باغ تھا۔
انہوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر انہیں ایک غلام کی حیثیت سے بیچ دیا۔ اور انہیں ایک یہودی نے خرید لیا۔ ان کا وہاں کوئی واقف نہ تھا۔ البتہ انہوں نے جب یہ علاقہ دیکھا اور ان نشانیوں کو دیکھا جو ان کے استاد نے انہیں بتائی تھیں تو ان کو تسلی ہو گئی کہ یہ علاقہ وہی ہے جہاں نبی آخر الزماںؐ نے تشریف لانا ہے۔ چنانچہ دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب میں یہیں رہوں گا۔اس یہودی کا کھجوروں کا ایک باغ تھا۔
وہ سارا دن اس میں کام کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ کھجور کے ایک درخت پر چڑھ کر کھجور اتار رہے تھے کہ اس یہودی کا ایک دوست اسے ملنے آیا۔ وہ اس یہودی کے ساتھ مل کر باتیں کرنے لگا۔ باتوں ہی باتوں میں وہ کہنے لگا کہ مکہ سے ایک آدمی یہاں آئے ہیں اور وہ نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے نبوت کے یہ الفاظ سنے تو انہوں نے شوق میں اوپر سے نیچے چھلانگ لگا دی کیوں کہ وہ پہلے ہی
ایسی خبر پانے کے منتظر تھے۔ ماشاء اللہ! بچوں کا کام ایسا ہی ہوتا ہے۔ آ کر اس یہودی سے پوچھنے لگے کہ جی! وہ کون سے نبی تشریف لائے ہیں۔ یہودی نے جب یہ سنا تو اس نے انہیں زور سے ایک تھپڑ لگایا اور کہا کہ جا تو اپنا کام کر۔ ان کو چھلانگ لگانے سے پاؤں میں تکلیف ہو رہی تھی، ساتھ ہی تھپڑ کی تکلیف بھی برداشت کرنا پڑی۔ پھر جا کر خاموشی سے کام کرنے لگے پھراس سوچ میں پڑ گئے کہ اب میں کیا کروں۔
بالآخر ان کے دل میں یہ بات آئی کہ مجھے ہفتہ میں ایک دن چھٹی ہوتی ہے۔ میں اس دن جا کر بستی والوں سے پوچھوں گا کہ کون آئے ہیں۔ چنانچہ وہ چھٹی کے دن بستی میں پہنچے اور پوچھتے پوچھتے وہ نبی کریمؐ کی خدمت میں پہنچ گئے اور زیارت کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی۔ان کو استاد نے نبی آخر الزماںؐ کی دو نشانیاں بتائی ہوئی تھیں ایک نشانی تو یہ کہ وہ ہدیہ قبول کر لیں گے اور دوسری نشانی یہ کہ وہ صدقہ کا
بالآخر ان کے دل میں یہ بات آئی کہ مجھے ہفتہ میں ایک دن چھٹی ہوتی ہے۔ میں اس دن جا کر بستی والوں سے پوچھوں گا کہ کون آئے ہیں۔ چنانچہ وہ چھٹی کے دن بستی میں پہنچے اور پوچھتے پوچھتے وہ نبی کریمؐ کی خدمت میں پہنچ گئے اور زیارت کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی۔ان کو استاد نے نبی آخر الزماںؐ کی دو نشانیاں بتائی ہوئی تھیں ایک نشانی تو یہ کہ وہ ہدیہ قبول کر لیں گے اور دوسری نشانی یہ کہ وہ صدقہ کا
مال قبول نہیں فرمائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے کچھ ہدیہ لا کر نبی کریمؐ کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ صدقہ کے پیسے ہیں آپ قبول فرما لیجئے۔ اللہ کے محبوبؐ نے ارشاد فرمایا، نہیں ہم تو صدقہ نہیں لیتے۔ ایک نشانی پوری ہو گئی۔ پھر کسی دوسرے موقع پر عرض کیا، جی یہ ہدیہ قبول فرما لیجئے۔ آپؐ نے وہ ہدیہ قبول فرما لیا۔اس طرح دوسری نشانی بھی پوری ہو گئی۔ ماشاء اللہ اب ان کے دل کو تسلی ہو گئی اور کلمہ پڑھ کر
آپؐ کے غلاموں میں شامل ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نبی کریمؐ کی خدمت میں اپنی کیفیت بیان کی۔ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم آتے رہا کرو۔ چنانچہ شروع میں انہوں نے اپنے ایمان کو چھپایا۔ وہ چھٹی کے دن محبوبؐ کی خدمت میں آ جاتے اور دن گزار کر چلے جاتے۔کچھ عرصہ بعد نبی کریمؐ کی محبت نے اتنا جوش مارا کہ کہنے لگے کہ اب تو مجھ سے جدا نہیں رہا جا سکتا۔ اللہ کے محبوبؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم اس یہودی
سے جا کر طے کر لو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر اسے کہا کہ جی آپ مجھے آزاد کر دیں، اس کے بدلے آپ جو رقم کہیں وہ ادا کر دوں گا یا جو کام کہیں گے وہ کر دوں گا۔وہ یہودی بڑا تیز تھا۔ اس نے کہا کہ میں دو شرطوں پر آپ کو آزاد کرتا ہوں۔ ایک شرط تو یہ ہے کہ کھجوروں کے تین سو درخت لگاؤ، جب وہ پھل دینا شروع کر دیں گے تب پہلی شرط پوری ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر آج درخت لگائیں تو پھل لگانے میں کئی سال
لگ جائیں گے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ تم تین اوقیہ سونا مجھے دینا۔ اس کا خیال تھا کہ اتنے سونے میں تو پچاس غلام آ جاتے ہیں۔ یہ کہاں سے اتنا دے سکے گا۔انہوں نے اس کی یہ شرطیں قبول فرما لیں۔ اور آ کر نبی کریمؐ کی خدمت میں بھی بتا دیا۔ وہ ابھی ادھر ہی بیٹھے تھے کہ ایک آدمی نے سونے کا ایک ڈلا نبی کریمؐ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔ نبی کریمؐ نے وہ سونا ان کو دے دیا اور فرمایا، سلمان! اللہ تعالیٰ نے تیرا
کام آسان کر دیا ہے، جاؤ اور اسے یہ دے دو۔ اب یہ لے گئے اور اس یہودی کو جا کر وہ سونا دے دیا۔ سونے کا وہ ڈلا دیکھنے میں تو چھوٹا سا لگتا تھا لیکن جب اس نے وزن کیا تو بالکل پورا نکلا وہ بڑا حیران ہوا۔ اس نے سوچا کہ شاید ترازو میں کوئی خرابی ہو۔ چنانچہ اس نے ترازو کو ٹھیک کیا اور پھر تولا۔ پھر وہ وزن پورا نکلا۔ اس طرح اس نے کئی بار وزن کیا اور ہر بار وزن برابر نکلا۔ بالآخر وہ حیران ہو کر کہنے لگا، چلو ٹھیک ہے۔ اب کھجوروں کا باغ لگاؤ۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے پھر نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم زمین تیار کرو اور ہمارا انتظار کرنا۔ ہم آ کر تمہارے ساتھ کھجوریں لگوائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اللہ کے محبوبؐ نے آ کر ان کے ساتھ کھجوریں لگوائیں اور ان کھجوروں نے اسی سال پھل اٹھایا۔ اللہ اکبر! جب دونوں شرطیں پوری ہو گئیں تو اسے آزاد کرنا پڑا۔آزاد ہو کر وہ نبی کریمؐ کی
خدمت میں آ گئے اور عرض کیاض اے اللہ کے نبیؐ میں حاضر ہوں، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا، اب تم اصحاب صفہ میں شامل ہو جاؤ۔ جو فقراء مکہ مکرمہ، حبشہ اور دوسری جگہوں سے ہجرت کرکے آئے ہوئے تھے۔ ان کے لیے ایک چبوترہ سا بنا ہوا تھا۔ اس پر وہ رہتے تھے، ان کو اصحاب صفہ (چبوترہ والے) کہا جاتا تھا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی انہی میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ بھی اصحاب صفہ
میں شامل ہو گئے اور ان کے مانیٹر بن گئے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا قدر دانی کا معاملہ فرمایا۔اپنا گھر کس لیے چھوڑا تھا؟۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے رشتہ داروں کو کس لیے چھوڑا تھا؟ اللہ تعالیٰ کے لیے تو جس نے اپنا گھر بار اور اپنے رشتہ دار اللہ کی رضا کے لیے چھوڑے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی اتنی قدردانی فرمائی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’سلمان تو ہمارے اہل بیت میں سے ہے۔‘‘تو اللہ کے محبوبؐ نے حضرت سلمان فارسیؓ کو اپنے اہل بیت میں شامل فرما لیا، اللہ اکبر! رشتہ داروں کو چھوڑا تو اللہ رب العزت نے ان کی نسبت کن کے ساتھ کر دی؟ اہل بیت کے ساتھ۔“
Post A Comment:
0 comments so far,add yours