Articles by "maulana tariq jameel"
Showing posts with label maulana tariq jameel. Show all posts

۱- دن کا آغاز نماز فجر، اذکاراور توکل علی الله سے

۲- گناھوں سے مسلسل معافی مانگتے رھیں، گناہ بھی معاف، رزق میں بھی اضافہ ان شاء الله

۳- دعا نہ چھوڑیں، یہ کامیابی کی کنجی ھے

۴- یاد رکھیں زبان سے نکلے کلمات لکھے جارھے ھیں

۵- سخت آندھیوں میں بھی امید کا دامن نہ چھوٹے

۶- انگلیوں کی خوبصورتی انکے ذریعہ تسبیح کرنے میں ھے

۷- افکار اور غم کی کثرت میں کہیں *لا اله الا الله*

۸- روپے پیسے دے کر فقیروں اور مسکینوں کی دعا خرید لیں

۹۔ خشوع اور اطمینان سے کیا گیا سجدہ زمین بھر سونے سے بھی بہتر ھے، اسکی قدر کریں

۱۰- زبان سے کوئی لفظ نکالتے ہوئے سوچیں اسکے اثرات کیا ہونگے، ایک لفظ بعض اوقات مہلک ہو جاتا ھے

۱۱- مظلوم کی *بدعا* اور محروم کی *آہ* سے بچیں

۱۲- اخبار و رسائل بینی سے پہلے کچھ تلاوتِ قرآن کرلیں

۱۳- آپ اپنی اصلاح کی فکر کریں آپکا گھرانہ بھی آپکے راستہ پر چلے گا

۱۴- آپکا نفس برائی کی طرف بلاتا ھے، اسکو نیکی میں لگا کر مقابلہ کریں

۱۵- والدین کی قدر کیجئے انکو نعمت عظمی سمجھیں، رضائے الہی کا قریبی سبب ھے

۱۶- آپکے پرانے کپڑے غریبوں کے لیے نئے ہیں

۱۷- زندگی انتہائی مختصر ہے غصہ نہ کریں، کسی سے بغض نہ رکھیں، رشتہ داریوں اور تعلقات کو خراب نہ کریں

۱۸- آپکو سب سے زیادہ طاقت والے اور سب سے بڑے مالدار کا ساتھ حاصل ہے (یعنی الله سبحانہ و تعالی کا) اسپر اعتماد کریں اور خوش رہیں

۱۹- گناہوں سے اپنے لیے دعا کی قبولیت کا دروازہ بند نہ کریں

۲۰- مصیبتوں، مشقتوں حتٰی کے ذمہ داریوں کے نبھانے میں نماز آپکی مددگار ہے، اسکا سہارہ لیں

۲۱- بدگمانی سے بچیں، دوسروں کو بھی راحت پہنچائیں اور خود بھی راحت میں رہیں

۲۲- تمام فکروں اور غموں کا سبب اپنے رب سے دوری ہے، اس دوری کو ختم کردیں

۲۳- نماز کا اھتمام کریں، قبر میں یہی ساتھ جائیگی

۲۴- غیبت کریں نہ سنیں، کوئی کررھا ہو تو اسکو بھی روکیں

۲۵- سورۃ الملک کی تلاوت نجات کا باعث ھے

۲۶- خشوع سے خالی نماز، آنسو سے خالی آنکھیں محرومی ھے، اس محرومی سے نکلیں

۲۷۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے بہت بچیں

۲۹- تمام تر محبت الله ﷻ اور رسول الله ﷺ  کے لیے
اور مخلوق کے لیے اچھا اخلاق

۳۰- جو آپکی غیبت کرے اسکو معاف کر دیں وہ تو خود اپنی نیکیاں آپکی نذر کر رھا ھے

۳۱- نماز، تلاوت اور ذکر چہرے کا نور، دل کا چین اور مزید نیک اعمال کی توفیق کا ذریعہ ھے

۳۲- جو جہنم کی آگ یاد رکھے، گناہ سے بچنا اسکے لیے آسان ہو جائے گا

۳۳- جب رات ھمیشہ نہیں رھتی تو غم پریشانی کے بادل بھی چھٹ جائیں گےاور تنگی آسانی سے بدل جائیگی

۳۴- بحث مباحثہ چھوڑیئے
بڑے بڑے کام کرنے کو پڑے ھیں

۳۵- نماز اطمینان سے ادا کریں باقی سارے کام اس سے بہت کم اہمیت کے ہیں

۳۶- قرآن تک ہر وقت رسائی رکھیں، ایک آیت کی تلاوت بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ھے

۳۷- زندگی کی خوبصورتی ایمان کے بغیر نہیں

آخر مردہ یہ تمنا کیوں کریگا کہ وہ واپس آکر صدقہ کرے اس لیے کہ وہ صدقہ کا فائدہ دیکھ لیگا۔ صدقہ کریں، مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ھوگا۔

ایک نوجوان صحابی جسے لوگ "ماغر" کے نام سے جانتے تھے،اس کی شادی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔ایک دن شیطان نے اسے پھسلایا، اسے انصاری کی لونڈی پر مائل کر دیا اور راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کی، ماغر شیطان کے جال میں پھنسا اور اس لونڈی کو تنہائی میں لے گیا، اب یہ دونوں تھے اور تیسرا ان میں شیطان تھا، وہ برائی کو ان دونوں کے لیے نہایت خوبصورت اور پرکشش بنا کر پیش کر رہا تھا،وہ دونوں بہک گئے اور جوانی کی طغیانی کا شکار ہو گئے۔
جب ماغر اپنے جرم سے فارغ ہوا تو شیطان نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا،اب وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا اور اپنے نفس کا محاسبہ کرنے لگا، گناہ کی آگ اس کے دل کو جلانے لگی،وہ بے قرار ہو کر روحانی طبیب ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہو گیا،احساسِ گناہ اسے تڑپانے لگا،کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی الله علیه وسلم زنا ہو گیا ہے ,
مجھے پاک کر دیجیے، نبی کریم ﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا.....وہ دوسری جانب آگیا، بولا: اے اللہ کے رسول!ﷺ میں شیطان کے جھانسے میں آگیا۔ زنا کر بیٹھا، مجھے پاک کر دیجیے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے، واپس چلا جا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگ اور توبہ کر لے۔ وہ تھوڑی دیر بعد پھر آگیا،گناہ کی آگ نے اس کا آرام چھین لیا، وہ صبر نہ کر سکا۔
نبی کریم ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے یہاں سے نکال دو، اسے نکال دیا گیا،وہ چوتھی مرتبہ پھر چلا ایا، نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ دیوانہ ہے؟لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول!ﷺہم نے اس میں ایسا کوئی مرض نہیں پاتے، آپ ﷺ نے فرمایا:شاید اس نے شراب پی ہوئی ہے۔اس لیے ایسی حرکتیں کر رہا ہے۔ ایک آدمی کھرا ہوا۔اس نے ماغر کا منہ سونگھا، اسے شراب کی بو محسوس نہیں ہوئی۔نبی کریم ﷺ نے پوچھا: تجھے پتا ہے،زنا کسے کہتے ہیں؟ اس نے کہا:جی ہاں! میں ایک عورت کے ساتھ اس طرح حرام کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں جیسے ایک آدمی حلال طریقے سے اپنی بیوی کے پاس آتا ہے۔
آپ ﷺ نے پوچھا:اب اس بات سے تمہارا کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا: مجھے پاک کر دیجیے۔نبی کریم ﷺ ے مکمل تفتیش کرائی۔ جرم ثابت ہونے پر حد جاری فرمائی۔ آپ ﷺ ے حکم دیا اور اسے سنگسار کر دیا گیا۔
جب اس کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کر دیا گیا تو نبی ﷺ دو آدمیوں کے پاس سے گزرے، وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ دیکھو! اس آدمی پر اللہ نے پردہ ڈالا تھا لیکن اس نے اپنے آپ کو خود ہی ہلاکت میں ڈال لیا۔حتیٰ کہ اسے پتھر مار مار کر یوں ہلاک کر دیا گیا جیسے کتے مار دیے جاتے ہیں۔نبی کریم ﷺ خاموش ہو گئے۔ پھر تھوڑا چلے، آگے ایک مردہ گدھا پڑا ہوا تھا، اسے دھوپ نے جلا دیا تھا اور وہ پھول گیا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس گدھے کو دیکھا تو پوچھا: فلاں فلاں آدمی کدھر ہیں؟وہ دونوں بولے:اللہ کے رسول!ﷺ ہم یہاں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ،وہ حیران ہو کر بولے: اللہ کے نبی! بھلا اسے کون کھا سکتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:ابھی ابھی جو تم اپنے بھائی کی عزت پامال کر رہے تھے، وہ اس گدھے کو کھانے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ماغر نے ایسی سچی توبہ کی ہے اگر یہ اُمت کے مابین تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو جائے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔
خوش خبری ہے ماغر بن مالک کے لیے! وہ جوانی کی بھول کا شکار ہوا، اور اپنے اور اپنے رب کے درمیان پرے ہوئے پردے کو پامال کیا،گناہ نے اسے چین سے بیٹھنے نہ دیا تو اس نے ایسی توبہ کی کہ اگر اُمت کے درمیان تقسیم کر دی جاتی تو تمام لوگوں کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جاتی....
( دیکھیے: صحیح بخاری، الحدود،حدیث 6820
۔صحیح مسلم: الحدود، حدیث 1695
۔وسنن ابی داؤد،الحدود،ح

بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ، ایک کوڑھی ، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا ، الله تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے-"
چنانچہ الله تعالیٰ نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا ۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے ؟
"اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ اوراچھی چمڑی کیونکہ مجھ سے لوگ پرہیز کرتے ہیں ۔ بیان کیا کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کا رنگ بھی خوبصورت ہو گیا اور چمڑی بھی اچھی ہو گئی ۔ "
فرشتے نے پوچھا کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرو گے ؟
"اس نے کہا کہ اونٹ ! یا اس نے گائے کہی ، اسحاق بن عبد الله کو اس سلسلے میں شک تھا کہ کوڑھی اور گنجے دونوں میں سے ایک نے اونٹ کی خواہش کی تھی اور دوسرے نے گائے کی ۔ چنانچہ اسے حاملہ اونٹنی دی گئی اور کہا گیا کہ الله تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا....."
پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے ؟
"اس نے کہا کہ عمدہ بال اور موجودہ عیب میرا ختم ہو جائے کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے مجھ سے پرہیز کرتے ہیں ۔"
"بیان کیا کہ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے بجائے عمدہ بال آ گئے ۔ فرشتے نے پوچھا ، کس طرح کا مال پسند کرو گے ؟ اس نے کہا کہ گائے ! بیان کیا کہ فرشتے نے اسے حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ الله تعالیٰ اس میں برکت دے گا ۔"
پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے ؟
"اس نے کہا کہ الله تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دیدے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں ۔"
بیان کیا کہ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور الله تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی ۔ پھر پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کرو گے ؟ اس نے کہا کہ بکریاں ! فرشتے نے اسے حاملہ بکری دے دی ۔ پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے ، یہاں تک کہ کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی ، گنجے کی گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی ....."
پھر دوبارہ فرشتہ اپنی اسی پہلی شکل میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا کہ ...!
"میں ایک نہایت مسکین و فقیر آدمی ہوں ، سفر کا تمام سامان و اسباب ختم ہو چکا ہے اور الله تعالیٰ کے سوا اور کسی سے حاجت پوری ہونے کی امید نہیں ، لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا ، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے سفر کو پورا کر سکوں ۔ "
"اس نے فرشتے سے کہا کہ میرے ذمہ حقوق اور بہت سے ہیں ۔"
فرشتہ نے کہا :"غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں ، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کھاتے تھے ۔ تم ایک فقیر اور قلاش تھے ۔ پھر تمہیں الله تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں ؟"
"اس نے کہا کہ یہ ساری دولت تو میرے باپ دادا سے چلی آ رہی ہے"
"فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو الله تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے........"
پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی اسی پہلی صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا ......
"فرشتے نے کہا: کہ اگر تم جھوٹے ہو تو الله تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے....."
اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا ، اپنی اسی پہلی صورت میں اور کہا کہ....!
" میں ایک مسکین آدمی ہوں ، سفر کے تمام سامان ختم ہو چکے ہیں اور سوا الله تعالیٰ کے کسی سے حاجت پوری ہونے کی توقع نہیں ۔ میں تم سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے ، ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں ۔"
"اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور الله تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر و محتاج تھا اور الله تعالیٰ نے مجھے مالدار بنایا ۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو -"
الله کی قسم ! "جب تم نے الله کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے جاؤ ، میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا ۔"
فرشتے نے کہا: کہ......." تم اپنا مال اپنے پاس رکھو ، یہ تو صرف امتحان تھا اور الله تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے ۔"
-----------]رواہ: ابو ھرہرہ رضی اللہ عنہ[ -----------
--------------------------------------------
صحیح البخاری- )حديث نمبر- 3464( جلد-4
---
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں کسی آزمائش میں نہ ڈالے کیونکہ ہم بہت ہی زیادہ کمزور ہیں اور اگر اُس کی رضا کا تقاضا ہو تو پھر ہمیں ہر امتحان میں اپنی رحمت سے سرخرو فرما دے آمین۔ یارب العالمین۔


ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺎﻭﺍﺕ، ﻋﺪﻝ ﻭ ﺍﻧﺼﺎﻑ، ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﻭﺍﺩﺍﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺀ ﭘﺮ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺣﺎﻧﯿﺖ، ﺯﮨﺪ ﻭ ﻭﺭﻉ، ﺗﻘﻮﯼٰ ﺍﻭﺭ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﻤﺎﻝ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ۔ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺛﺎﻧﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﻋﺪﻝ ﻭ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍٓﭖؓ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻠﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﻭ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺧﻼﻓﺖ ﺭﺍﺷﺪﮦ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮ ﮮ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺍﻭﻟﻮﺍﻟﻌﺰﻡ، ﻋﺒﻘﺮﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ،ﺧُﺴﺮ ﺭﺳﻮﻝ ۖ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻤﺮﺗﻀﯽٰ ، ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﻓﯿﻖ ، ﺧﻼﻓﺖ ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﮐﮯ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ﺛﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﮨﺠﺮﺕ ﻧﺒﻮﯼ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﺲ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﻼﻧﯿﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﻮ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﯽ ، ﺁﭖؓ ﻧﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﺰﻭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﮧ ﻟﯿﺎ۔ 634 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﮯ ﻣﻨﺼﺐ ﭘﮧ ﻓﺎﺋﺰﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ۔ 644 ﺀ ﺗﮏ ﺍﺱ ﻋﮩﺪﮦ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ۔
#ﺣﻀﺮﺕ_ﻋﻤﺮ_ﻓﺎﺭﻭﻕ_ﺭﺿﯽ_ﺍﻟﻠﮧ_ﺗﻌﺎﻟﯽٰ_ﻋﻨﮩﮧ_ﮐﺎﻗﺒﻮﻝﺍﺳﻼﻡ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﺍﺳﻼﻡ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﯿﮟ، ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻭ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯽ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻭ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﻭﺩﯾﻌﺖ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ ،
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏؓ ﻭﮦ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺧﺪﺍۖ ﻧﮯ ﻏﻼﻑ ﮐﻌﺒﮧ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺩُﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﯾﺎ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﮨﺸﺎﻡ، ﺩﻋﺎﺋﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺭﺳﻮﻝﷺ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺖ ﺑﺴﺘﮧ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ۖ ﻋﻤﺮ ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﺩﻭ ۔ﻧﯿّﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﻭﺭﻧﮧ ﺍﺳﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﺟﺐ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺳﺖ ﺭﺳﻮﻝ ۖ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﻮ ﻓﻠﮏ ﺷﮕﺎﻑ ﻧﻌﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﻌﺮﮦ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺑﺦِِ ﺑﺦِِ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﯿﮟ ﺟﺲ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻣﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺭُﻋﺐ ﺍﻭﺭ ﺩﺏ ﺩﺑﮧ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻨﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﺎﺧﺘﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﮯ ﺷﮏ ﯾﮧ ﻣﺮﺩ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﮐﮭﻠﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺗﻠﮯ ﺗﻦ ﺗﻨﮩﺎ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﮌﺍ ﻟﭩﮑﺎ ﮐﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﺮﺍٔ ﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺎ ﮐﻮﮌﺍ ﯾﺎ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺍُﭨﮭﺎﺗﺎ ۔
ﺍﺳﯽ ﺑﻨﺎﺀ ﭘﺮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻗﻠﺐ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﻣﺼﺪﺭ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﻭ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﻮ ﻗﯿﺼﺮ ﻭ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﮯ ﺍﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ۔
#ﻟﻘﺐ_ﻓﺎﺭﻭﻕ_ﮐﯿﺴﮯ_ﻣﻼ:-
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ’ ﻓﺮﻕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﺍﻻ ‘ ، ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻔﺮ ﻭ ﻧﻔﺎﻕ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺟﻼﻝ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻔﺎﺭ ﻭ ﻣﻨﺎﻓﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﻧﻔﺮﺕ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻭ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻧﻮﺭﷺ ﻧﮯ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖؓ ﺳﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﺎ ۔ ﺁﭖؓ ﮐﻮ ﺟﺐ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﺒﯽﷺ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺒﯽﷺ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﮯ۔ﮐﺌﯽ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﭘﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢﷺ ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖؓ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﻣﻼ ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕؓ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺍﺷﺪ ﮨﯿﮟ ، ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖؓ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖؓ ﮐﺎ ﺭﺗﺒﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﮯ، ﺁﭖؓ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻋﻤﺮ ﮨﻮﺗﺎ ‏( ﺗﺮﻣﺬﯼ ‏) ۔
ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺣﻖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ‏( ﺑﯿﮩﻘﯽ ‏) ۔
ﺟﺲ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭﻣﺴﻠﻢ ‏) ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﻭﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺍﻗﺘﺪﺍﺀ ﮐﺮﻧﺎ ‏( ﻣﺸﮑٰﻮۃ ‏) ۔
#ﺩﻭﺭ_ﺧﻼﻓﺖ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯِﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﻮﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎﮐﮧ
ﺍﮔﺮ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ 10 ﺳﺎﻝ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﺘﮯ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﮐﻔﺮ ﮐﺎﻧﺎﻡ ﻭﻧﺸﺎﻥ ﻣﭧ ﺟﺎﺗﺎ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﮐﺎﺯﻣﺎﻧﮧ ﺧﻼﻓﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﺎ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﮍﯼ ﻃﺎﻗﺘﻮﮞ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻭﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﮮ ﮐﺮﺍﯾﺮﺍﻥ ﻋﺮﺍﻕ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺳﻠﻄﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ، ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺁﭖ ﺧﻮﺩﻭﮨﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﻗﺒﻮﻝ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﮩﺪ ﻧﺒﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺩﻭﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻗﺮﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺍ ﺑﻠﮑﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻣﺸﺎﻭﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ۔ ﻏﺰﻭﺍﺕ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ، ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕؓ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺍﮔﺮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﮐُﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﻑ ﺧﺪﺍ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﮒ ﮐﺮ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺋﮧ ﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻣﺪ ﭘﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﺘﯿﻢ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﮨﻮ ، ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﮨﻮ ، ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﺟﮭﮑﺎﻧﺎ ﮨﻮ ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﻮﺭﮔُﻢ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﮨﻮ ،ﺁﺋﮯ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ۖ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺍﻋﻼﻧﯿﮧ ﺍﺫﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ۔
#ﺣﻀﺮﺕ_ﻋﻤﺮ_ﮐﮯ_ﺩﻭﺭ_ﻣﯿﮟ_ﻓﺘﺢ_ﮐﺌﮯ_ﮔﺌﮯ_ﻋﻼﻗﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ؓ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺍﻕ، ﺷﺎﻡ، ﺩﻣﺸﻖ، ﺣﻤﺲ، ﯾﺮﻣﻮﮎ، ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ، ﮐﺴﺎﺭﯾﮧ، ﺗﮑﺮﯾﺖ ، ﺧﻮﺯﺳﺘﺎﻥ، ﺁﺫﺭ ﺑﺎﺋﯿﺠﺎﻥ، ﺗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ، ﺁﺭﻣﯿﻨﯿﮧ، ﻓﺎﺭﺱ، ﮐﺮﻣﺎﻥ، ﺳﯿﺴﺘﺎﻥ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ،ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ، ﻣﺼﺮ، ﺳﮑﻨﺪﺭﯾﮧ ﺳﻤﯿﺖ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﭘﺮﭼﻢ ﺳﺮﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ ۔
#ﺣﻀﺮﺕ_ﻋﻤﺮ ؓ #ﮐﮯ_ﺩﻭﺭ_ﻣﯿﮟ_ﻗﺎﺋﻢ_ﮨﻮﻧﮯ_ﻭﺍﻟﮯ_ﻣﺤﮑﻤﮯ:-
ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻓﻮﺝ، ﭘﻮﻟﯿﺲ، ﮈﺍﮎ، ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺎﻝ، ﻣﺤﺎﺻﻞ، ﺟﯿﻞ، ﺯﺭﺍﻋﺖ، ﺁﺑﭙﺎﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺟﺎﺕ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﯾﮧ ﻣﺤﮑﻤﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﻣﺤﮑﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺮ ﻧﻈﺎﻡ ﺧﻼﻓﺖ، ﻧﻈﺎﻡ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺤﮑﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯽ ﮔﺌﯿﮟ۔
۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ۔
۔ ﺍٓﭖؓ ﻧﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺷﻌﺒﮧ ﻓﻌﺎﻝ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺎﺗﺐ ﻭ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ
۔ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﻮ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺿﻠﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﻋﺸﺮﮦ ﺧﺮﺍﺝ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﯿﺎ ۔
۔ ﻣﺮﺩﻡ ﺷﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮈﺍﻟﯽ، ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺿﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻄﯿﺮ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮐﯿﮟ۔
۔ ﺍﺣﺪﺍﺙ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ، ﺟﯿﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﻭﺿﻊ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺟﻼﻭﻃﻨﯽ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﯽ۔
۔ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ، ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ، ﻣﺤﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻟﮕﺎﻥ ،
۔ ﺯﺭﺍﻋﺖ ﮐﮯ ﻓﺮﻭﻍ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﮐﮭﺪﻭﺍﺋﯿﮟ، ﻧﮩﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺯﺭﻋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺪﯾﺪ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ
۔ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺷﻌﺒﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﺎ
۔ ﺣﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﮐﯽ ﺗﻮﺳﯿﻊ، ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ، ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﺧﯿﺮ ﻣﻦ ﺍﻟﻨﻮﻡ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ۔
۔ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺟﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻓﺎﺗﺮ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ، ﻧﺌﮯ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ
۔ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺯﮐﻮٰۃ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍﺀ۔ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ
۔ ﺣﺮﺑﯽ ﺗﺎﺟﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ، ﻣﻔﻠﻮﮎ ﺍﻟﺤﺎﻝ، ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ
۔ ﻣﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ،
۔ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺎ ﺍﺻﻮﻝ ﺭﺍﺋﺞ ﮐﯿﺎ، ﻓﺮﺍﺋﺾ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﯿﺎ
۔ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺫﻥ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯽ، ﻣﺴﺎﺟﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﻋﻆ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ
ﺷﮩﺎﺩﺕ
ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﭙﻮﺕ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺳﮯ ﺍﮨﻞ ﺑﺎﻃﻞ ﺍﺗﻨﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺯﺷﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺎﺋﯿﺲ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺮﺍﻧﯽ ﻣﺠﻮﺳﯽ ﺍﺑﻮﻟﻮﻟﻮ ﻓﯿﺮﻭﺯ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯِ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺧﻨﺠﺮ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﯾﮑﻢ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ 23 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﺪﻝ ﻭ ﺣﺮﯾﺖ ، ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺍﺷﺪ،ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ، ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ، ﻓﺎﺗﺢ ﻋﺮﺏ ﻭﻋﺠﻢ، ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﯾﺴﭩﮫ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺭﺗﺒﮯ ﭘﺮﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺋﮯ، ﺁﭖ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝﷺ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺤﻀﺮﺕﷺ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﻓﻦ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﺑﻨﻮﺳُﻠَﯿﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺿﻌﯿﻒ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺍ،
ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﻭﻣﺴﺎﺋﻞ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ؟ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺑﻨﯽ ﺳُﻠَﯿﻢ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﻭﺭﻓﻘﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔“ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:”ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺍﺱ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔“ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺩﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭﮐﮩﺎ:
ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ! ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔“ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ”ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﻥ
ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮﮈﮬﺎﻧﮏ ﺩﮮ۔“ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﻣﺮﺗﻀﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ
ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﺎ ﻋﻤﺎﻣﮧ ﺍﺗﺎﺭﮐﺮﺍ ﺱ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﮯ ﺳﺮﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ”ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﮮ؟“
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮑﻠﮯ۔ﭼﻨﺪ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﻣﻼ۔ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺍﻟﺘﺠﺎﮐﯽ ﮐﮧ ”ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﭽﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﺱ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﯿﺠﯿﮯ۔“ﺳﯿﺪﮦ ﻋَﺎﻟَﻢ ﻧﮯ ﺁﺑﺪﯾﺪﮦ ﮨﻮﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:”ﺍﮮ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺁﺝ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻓﺎﻗﮧ ﮨﮯ۔ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺳﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟﻟﯿﮑﻦ ﺳﺎﺋﻞ ﮐﻮﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ۔ﺟﺎﺅ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﺩﺭﺷﻤﻌﻮﻥ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭﮐﮩﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﻣﺤﻤﺪ (ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ) ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﺎﺩﺭ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺩﮮ ﺩﻭ۔“ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﮑﺎﺭ ﺍﭨﮭﺎ
”ﺍﮮ ﺳﻠﻤﺎﻥ !ﺧﺪ ﺍﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺗﻮﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ( ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ )ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﯾﺎ۔“ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﭽﮫ ﻏﻠّﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭﭼﺎﺩﺭ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯼ،ﻭﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ ۔ﺳﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺍﻧﺎﺝ ﭘﯿﺴﺎ ﺍﻭﺭﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﭘﮑﺎﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺩﯼ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ”ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺠﯿﮯ “۔ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ”ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﭼﮑﯽ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ۔“ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺭﻭﭨﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ ۔ﺣﻀﻮﺭ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭﻓﺎﻃﻤﮧ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ۔ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺳﺖِ ﺷﻔﻘﺖ ﭘﮭﯿﺮﺍ‘ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﮐﯽ: ”ﺑﺎﺭِ ﺍﻟٰﮩﺎ ﻓﺎﻃﻤﮧ (ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ )ﺗﯿﺮﯼ ﮐﻨﯿﺰ ﮨﮯ ،ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﻨﺎ۔

"ﺗﺬﮐﺎﺭِ ﺻﺤﺎﺑﯿﺎﺕ"