Articles by "nimaz"
Showing posts with label nimaz. Show all posts
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے دوران جہنم کے داروغہ مالک کو دیکھا۔ وہ انتہائی سخت طبیعت کا فرشتہ ہے۔ اس کے چہرہ پر غصہ اور غضب رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کیا۔ داروغہ نے سلام کا جواب دیا۔ خوش آمدید بھی کہا،لیکن مسکرایا نہیں۔ اس پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا؛
"یہ کیا بات ہے کہ میں آسمان والوں میں سے جس سے بھی ملا،اس نے مسکرا کر میرا استقبال کیا، مگر داروغہ جہنم نے مسکرا کر بات نہیں کی۔"
اس پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا:
"یہ جہنم کا داروغہ ہے،جب سے پیدا ہوا ہے،آج تک کبھی نہیں ہنسا، اگر یہ ہنس سکتا تو صرف آپ ہی کے لیے ہنستا۔"
یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جاگنے کی حالت میں جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوئی....بعض لوگ معراج کو صرف ایک خواب کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف روح گئی تھی جسم ساتھ نہیں گیا تھا.... اگر یہ دونوں باتیں ہوتیں تو پھر معراج کے واقعے کی بھلا کیا خصوصیت تھی۔خواب میں تو عام آدمی بھی بہت کچھ دیکھ لیتا ہے....معراج کی اصل خصوصیت ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جسم سمیت آسمانوں پر تشریف لے گئے....لہذا گمراہ لوگوں کے بہکاوے میں مت آئیں۔اور پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر یہ صرف خواب ہوتا، یا معراج صرف روح کو ہوتی تو مشرکین مکہ مزاق نہ اڑاتے۔جب کہ انہوں نے ماننے سے انکار کیا اور مزاق بھی اڑایا۔خواب میں دیکھے کسی واقعے پر بھلا کوئی کیوں مزاق اڑاتا۔
معراج کے بارے میں اس مسئلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا یا نہیں۔۔۔۔اس بارے میں دونوں طرح کی احادیث موجود ہیں۔اس معاملے میں بہتر یہ ہے کہ ہم خاموشی اختیار کریں،کیونکہ یہ ہمارے اعتقاد کا مسئلہ نہیں ہے، نہ ہم سے قیامت کے دن یہ سوال پوچھا جائے گا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے بعد آسمانوں سے واپس زمین پر تشریف لے آئے۔جب اپنے بستر پر پہنچے تو وہ اسی طرح گرم تھا جس طرح چھوڑ کر گئے تھے۔ یعنی معراج کا یہ عجیب واقعہ اور اتنا طویل سفر صرف ایک لمحے میں پورا ہوگیا، یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دوران کائنات کے وقت کی رفتار کو روک دیا جس کے باعث یہ معجزہ نہایت تھوڑے وقت میں مکمل ہوگیا۔
معراج کی رات کے بعد جب صبح ہوئی اور سورج ڈھل گیا تو جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے۔انہوں نے امامت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی تاکہ آپ کو نمازوں کے اوقات اور نمازوں کی کیفیت معلوم ہوجائے۔معراج سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح شام دو دو رکعت نماز ادا کرتے تھے اور رات میں قیام کرتے تھے،لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ فرض نمازوں کی کیفیت اس وقت تک معلوم نہیں تھی۔
جبرئیل علیہ السلام کی آمد پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ سب لوگ جمع ہوجائیں..... چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کی امامت میں نماز ادا کی اور صحابہ کرام رضی الله عنہم نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی۔
یہ ظہر کی نماز تھی....اسی روز اس کا نام ظہر رکھا گیا۔اس لیے کہ یہ پہلی نماز تھی جس کی کیفیت ظاہر کی گئی تھی-چونکہ دوپہر کو عربی میں ظہیرہ کہتے ہیں اس لیے یہ بھی ہو سکتا ہے یہ نام اس بنیاد پر رکھا گیا ہو،کیونکہ یہ نماز دوپہر کو پڑھی جاتی ہے-اس نماز میں آپ نے چار رکعت پڑھائی اور قرآن کریم آواز سے نہیں پڑھا - 
اسی طرح عصر کا وقت ہوا تو عصر کی نماز ادا کی گئی-سورج غروب ہوا تو مغرب کی نماز پڑھی گئی-یہ تین رکعت کی نماز تھی، اس میں پہلی دو رکعتوں میں آواز سے قرأت کی گئی-آخری رکعت میں قرأت بلند آواز سے نہیں کی گئی-اس نماز میں بھی ظہر اور عصر کی طرح حضرت جبریل علیہ السلام آگے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی امامت میں نماز ادا کررہے تھے اور صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں- اس کا مطلب ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مقتدی بھی تھے اور امام بھی- 
رہا یہ سوال کہ یہ نماز کہاں پڑھی گئیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں پڑھی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا، کیونکہ اس وقت قبلہ بیت المقدس تھا-حضور صلی اللّہ علیہ وسلم جب تک مکہ معظمہ میں رہے اسی کی سمت منہ کرکے نماز ادا کرتے رہے- 
جبرائیل علیہ سلام نے پہلے دن نمازوں کے اول وقت میں یہ نماز پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں تاکہ معلوم ہوجائے،نمازوں کے اوقات کہاں سے کہاں تک ہیں- 
اس طرح یہ پانچ نمازیں فرض ہوئیں اور ان کے پڑھنے کا طریقہ بھی آسمان سے نازل ہوا-آج کچھ لوگ کہتے نظر آتے ہیں... نماز کا کوئی طریقہ قرآن سے ثابت نہیں...لہٰذا نماز کسی بھی طریقے سے پڑھی جاسکتی ہے...ہم تو بس قرآن کو مانتے ہیں...ایسے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں...نماز کا طریقہ بھی آسمان سے ہی نازل ہوا اور ہمیں نماز اسی طرح پڑھنا ہوں گی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم پڑھتے رہے-یہ بھی ثابت ہوگیا کہ فرض نمازیں پانچ ہیں،حدیث کے منکر پانچ نمازوں کا انکار کرتے ہیں وہ صرف تین فرض نمازوں کے قائل ہیں- لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں صرف تین نمازوں کا ذکر آیا ہے-حالانکہ اول تو ان کی یہ بات ہے ہی جھوٹ دوسرے یہ کہ جب احادیث سے پانچ نمازیں ثابت ہیں تو کسی مسلمان کے لیے ان سے انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی- 
پانچ نمازوں کی حکمت کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے پانچ حواس یعنی پانچ حسیں رکھیں ہیں-انسان گناہ بھی انہی حسوں کے ذریعے سے کرتا ہے-(یعنی آنکھ، کان، ناک، منہ، اعضاء و جوارح یعنی ہاتھ پاؤں) لہٰذا نمازیں بھی پانچ مقرر کی گئیں تاکہ ان پانچوں حواسوں کے ذریعے دن اور رات میں جو گناہ انسان سے ہوجائیں، وہ ان پانچوں نمازوں کے ذریعے دھل جائیں اس کے علاوہ بھی بے شمار حکمتیں ہیں-
یہ بھی یاد رکھیں کہ معراج کے واقعے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر جانا ثابت کرتا ہے کہ آسمان حقیقت میں موجود ہیں- 
موجودہ ترقی یافتہ سائنس کا یہ نظریہ ہے کہ آسمان کا کوئی وجود نہیں بلکہ یہ کائنات ایک عظیم خلا ہے-انسانی نگاہ جہاں تک جاکر رک جاتی ہے، وہاں اس خلا کی مختلف روشنیوں کے پیچھے ایک نیلگوں حد نظر آتی ہے-اسی نیلگوں حد کو انسان آسمان کہتا ہے- 
لیکن اسلامی تعلیم نے ہمیں بتایا ہے کہ آسمان موجود ہیں اور آسمان اسی ترتیب سے موجود ہیں،جو قرآن اور حدیث نے بتائی ہے-قرآن مجید کی بہت سی آیات میں آسمان کا ذکر ہے بعض آیات میں ساتوں آسمان کا ذکر ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان ایک اٹل حقیقت ہے نہ کہ نظر کا دھوکہ-
ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا ’’نماز میں مقیم کی نماز کا بھی ذکر ہے اور خوف کی نماز کا بھی لیکن کہیں بھی مسافر کی نماز کا ذکر نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا ’’برادر زادہ: اللہ جل شانہ نے حضورﷺ کو نبی بنا کر بھیجا ہم لوگ انجان تھے کچھ نہیں جانتے تھے بس جو ہم نے ان کو کرتے دیکھا وہ کریں گے‘‘. حضرت ابن عمرؓ کے اس کلام کا منشا یہ تھا کہ ہر مسئلہ کا صراحتہً قرآن مجید میں ہونا ضروری نہیں. عمل کے لئے حضور اقدسﷺ سے ثابت ہو جانا کافی ہے… مُرشد کی صحبت ما دیت پرستی میں غرق مو جودہ نام نہا د پڑھے لکھے مشینی انسان کے سامنے جب مرشد کا ذکر کیا جا ئے تو اعتراض کر تا ہے کہ جب اسلام کی تمام تعلیمات قرآن وحدیث میں واضح بیان کردی گئیں ہیں تو پھر کسی انسان کی ضرورت کیوں اور نہ ہی کسی مرشد کی ضرورت ہے
ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ بہت سارے لوگ بہت زیا دہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن اُنہیں حقیقی ہدا یت پھر بھی نصیب نہیں ہو تی وہ قرآن مجید پڑھنے کے با وجود بھی منزل مقصود نہیں پا تے بلکہ گمراہی میں الجھ جاتے ہیں اُن کی سوچ کا رخ صراط مستقیم کی بجا ئے غلط راہوں کی طرف ہو جا تا ہے وہ حق کی بجا ئے با طل کے مسافر بن جاتے ہیں کو ئی حدیثوں کو خوب رٹ کر کہتے ہیں کہ ہم نے بہت ساری احا دیث کا مطالعہ کیا ہے ہم حقیقت پا گئے ہیں جب کہ حقیقت میں وہ بھی گمراہی کا شکا ر نظر آتے ہیں جبکہ قرآن مجید نے اِس کا بھی حل واضح کر دیا ہے اُن لو گوں کے لیے صراط مستقیم ہے جو انعام یا فتہ ہیں انعام یا فتہ بندوں کے دامن سے منسلک ہو نے کی خیرات ‘طلب کر نے کی بات ہے اگر انعام یا فتہ لوگوں سے تعلق منقطع ہو گیاتو پھر جتنی بھی کو ششیں کرلو سیدھا راستہ نہیں پا سکتے بلکہ ہمیشہ بہک جانے کے امکا نات زیاد ہ ہو تے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ انعام یا فتہ لوگ کون ہیں تو ارشاد با ری تعالی ہے تر جمہ : اور جو اﷲ اور اسکے رسول کا حکم مانیں تو ان کا ساتھ ملے گا جن پر اﷲ نے فضل کیا یعنی انبیا اور صدیق اور نیک لو گ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں . صحابہ کرام کے سامنے قرآن مجید نا زل ہوا اور انہوں نے الحمد سے والناس تک پڑھا اور اس کے احکا مات کوسید دو عالم ﷺ کی زبان فیض سے سنا اور سمجھالیکن سب کچھ دیکھنے سننے کے با وجود نماز پڑھنے کا کامل طریقہ میسر نہ آسکا انہوں نے با رگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی کہ سب کچھ سنااور پڑھا لیکن نماز کا کامل طریقہ پڑھنے اور سننے سے میسر نہ آسکا .
اب کیا کریں تو نبی رحمت ﷺ نے فرمایا . جس طرح میں پڑھتا ہوں اِسی طرح مجھے دیکھ کر پڑھ لیا کرو ، اس حدیث مبا رکہ سے یہ واضح ہو جا تا ہے کہ فقط قیل و قال سے نہیں صاحب حال کے حال کو دیکھنے سے آتا ہے محبوب خدا ﷺ نے اسی لیے سننے اور پڑھنے کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ حال کو دیکھنے کی تعلیم بھی فرمائی اب معاملہ یہ ہے کہ قرآن حکیم کے احکا مات تو ہم تک پہنچ گئے اور سرورکا ئنات ﷺ کی نسبت اور حدیث کا بیان بھی صحابہ کرام نے روایات کے ذریعے ہم تک پہنچا دیا تو قرآن و حدیث اور صحا بہ کرام کے ا قوال کی مو جو دگی میں ہمیں مرشد کامل کی ضرورت کیوں ہے تو جا ننا چاہیے کہ خالق کا ئنات لوگوں کو صرف تعلیما ت ہی بیان نہیں کر تا بلکہ کامل شخصیتوں کوبھیج کر ان کے عملی نمونوں کو دکھا کر سمجھاتاہے حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی کریم ﷺ تک جتنے بھی انبیا تشریف لا ئے اوروہ کتب و صحا ئف سما ویہ جو انبیاء کو عطا کیے گئے اگر رب قدوس چاہتا تو انبیا ء کی بجا ئے براہ راست بندوں کی طرف بھیج دیتا تو حید اور ہدا یت کی جملہ کلیا ت و جزئیات سے آگا ہ فرما دیتالیکن اﷲ نے ایسا نہیں کیا بلکہ کامل شخصیتوں کو لوگوں کے اندر مبعوث فرمایا انہوں نے اپنی زندگی کے ماہ و سال ان کے اندر بسرکئے زبان سے اﷲ تعالی کے احکامات کو بیان فرمایا اور اپنے عمل سے تشریح فرما ئی اپنے احوال اعمال کو لوگوں کے سامنے رکھا نبی دو جہاں ﷺ اگر چاہتے تو اپنی تعلیمات احکامات کی لاکھوں کاپیاں اور نقلیں کروا دیتے اور حکم فرماتے کہ یہ ہے قرآن مجید یہ میر ی سنت اور تفصیلات انہیں پڑھو سمجھو اور اِن پر عمل کرو لیکن سرور کو نین ﷺ نے ایسا نہیں کیا بلکہ شخصیات کو تیا ر کیا اپنی صحبت اثر بار سے صدیق ؓ فاروق ؓ عثمان ؓ اور علی ؓ کو خلافت کا امین بنا یا کسی کو مفسر قرآن کسی کو محدث کسی کو قاری اور کسی کو فقہی بنا یا سلمان ؓ اور بلال ؓ پر اﷲ کارنگ چڑھا معاذ بن جبل ؓ اور دیگر غلاموں کو تیار کر کے اطراف و عرب بھیجا اور لوگوں سے فرمایالوگو اِن سے قرآن پڑھو اور سنت کا مطا لعہ کرو تو جس طرح نبی دو جہا ں ﷺ کے عمل کو دیکھے بغیر صحابہ کرام ؓ کو قرآن سمجھ نہیں آسکتا تھا اسی طرح اب صحابہ کرام ؓ کے عمل کو دیکھے بغیر تا بعین کوقرآن کا فہم کیسے نصیب ہو سکتا تھا صحابہ کرام ؓ سرور کا ئنات ﷺ کے زمانہ مبا رک میں مو جود تھے قرآن مجید اُن کے پاس آیا اور سنت عمل کے طور پر اُن کے سامنے مو جود تھی تو سنت ان کے لیے عمل نہیں عمل کا مشاہدہ تھا آقا ئے دو جہاں ﷺ کے دنیا سے جانے کے بعد جنہوں نے اس نورانی روئے زیبا کا دیدار نہ کیا ان کے لیے قیا مت تک آنے والی نسلوں کے لیے قرآن علم ہے اِس طرح حدیث بھی علم ہے عمل نہیں آقا ئے دو جہاں ﷺ اب نظروں کے سامنے نہیں ہیں اب ان کا مل ہستیوں کی ضرورت تھی جو قرآن و سنت کا عملی نمو نہ ہمارے سامنے پیش کریں تو نبی رحمت ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو تیا ر کیا صحابہ کرام نے تبع تا بعین کو تیا ر کیا اِسطرح وقت کا پہیہ چلتا آیا بز م جہاں کے رنگ بدلتے رہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کامل شخصیات نسل کے بعد نسل قرآن و سنت کے علم کو عملی جا مہ پہنا کر اُمتِ مسلمہ کے سامنے پیش کر تی رہیں اور کر تی رہیں گی ثابت یہ ہوا کہ جب تک عملی نمو نہ نظروں کے سامنے نہ ہو تو علم پر عمل کر نا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہے بلکہ یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کسی مرشد پیر ھادی راہنما کا وجود اور اس کی اطا عت حق کے طلب گار کے لیے بہت ضروری ہے ایسا مرشد جواپنے طالب کو نفس شیطان و دنیا کے چنگل بہکا وے و فریب سے بچا کر با رگاہ الٰہی میں کھڑا کر دے جہاں بندے کو معرفت ِ الٰہی کا جام نصیب ہو . مرشد کا مل کی صحبت تلقین اور تا ثیر محبت سے سالک کے دل میں جذبہ محبت پیدا ہو تا ہے اور پھر طلب حق میں اس کے لیے عزت و آبرو آرام و آسائش اور جان کی با زی لگا نا آسان ہو جا تا ہے رازِ حقیقت اور تصوف کی پر خا ر وادی سے گزرنے کے لیے سالک کو سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے پے در پے امتحان دینا پڑتے ہیں سالک جب تلاش حق کے لیے با طن کے اندھیروں میں جھا نکنے کی کو شش کر تا ہے تو اُسے کسی راہبر کی شدت سے ضرورت ہو تی ہے جو اُس کے با طن کی تبدیلیوں میں اُس کی راہنما ئی کر تا ہے مشا ہدات کے دوران حق و با طل کی نشاندہی کر کے با طل کی بجا ئے مشاہدہ حق کی طرف لے جاتا ہے یہ مرشد ہی ہو تا ہے جو سالک کے کمزور پہلو ؤں کو دور کر کے اُسے کامل انسان بنا کر دربا ر حق میں کھڑا کر تا ہے مرشد کی صحبت سالوں کا فاصلہ لمحوں میں طے کرا دیتی ہے