ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﺅ۔ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﭘﮩﻼ ﺑﯿﭩﺎ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺧﺰﺍﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺳﺐ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻔﺮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﭘﮩﻼ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، اس ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ، ﺟُﮭﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﭨﯿﮍﮬﺎ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺮﮮ ﮨﺮﮮ ﭘﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻣﻨﻈﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ﺑﮍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﭘﮭﻞ ﺳﮯ ﻟﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﭘﮭﻞ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳُﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ :’’ ﺗﻢ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﯿﮟ ‘‘ ۔ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ : ’’ ﺗﻢ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺳﻢ ﯾﺎ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻭﻗﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺲ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺭﻭﻧﻖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮭﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑُﺮﺍ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﭻ ﻧﮧ ﻟﻮ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍُﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﺮﮐﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻮﺳﻢ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﯽ ﮨﺮﯾﺎﻟﯽ، ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ .. ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩُﮐﮫ، ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺍﺅ ﭘﺮ ﻣﺖ ﻟﮕﺎﺅ، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑُﺮﮮ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﻨﺎ ﮐﺮﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﺖ ﭘﺮﮐﮭﻮ ‘
جزاك الله خیر .
حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں''میں نے ایک سال حج کا عزم کیا۔جب اونٹنی پر سوار ہوا تو اس کا رُخ کعبہ کی طرف ہی تھا لیکن جب میں نے اُس کی گردن پر ہاتھ مارا تووہ قُسطُنطُنیہ(اِستنبول) کی طرف مُڑگئی ۔میں نے کئی مرتبہ اس کا رُخ موڑا مگروہ قبلہ کی طرف نہ مڑی،میں نے اپنے دل میں کہا:''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اس میں ضرورکوئی راز پوشیدہ ہے۔''میں نے اُس کی مرضی کے مطابقاُسے جانے دیا اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : ''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اگر تو مجھے اپنے گھر نہ جانے دے تو میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں،تمام معاملہ تیرے ہی پاس ہے ۔''فرماتے ہیں کہاونٹنی تیزی سے چلتی ہوئی قسطنطنیہ میں داخل ہوگئی۔ جب میں شہر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ فتنہ وفساد میں مبتلاہیں۔میں نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اس کا سبب کیا ہے؟ تواس نے بتایا:''بادشاہ کی بیٹی کی عقل زائل ہو گئی ہے اور لوگ کوئی ایساطبیب تلاش کر رہے ہیں جو اس کا علاج کرسکے۔''میں نے دل میں کہا: ''میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت کی قسم! اسی کام کے لئے میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے اس سال حج سے روک دیا ہے۔''میں نے ان لوگوں کو بتایا:''میں طبیب ہوں۔''انہوں نے پوچھا''کیاآپ علاج کریں گے؟''میں نے کہا : ''ہاں! اِنْ شَآءَ اللہ عزَّوَجَلَّ۔''لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ اس نے اپنی بیٹی کا علاج میرے ذمے لگا دیا۔ میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کی اور کمرے میں داخل ہوگیا، میں نے وہاں لوہے کی کَھْنَک سنی اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا:''اے جنید ( رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )!اونٹنی نے تجھے ہماری طرف لانے کی کتنی کوشش کی جبکہ تواسے کعبہ مشرَّفہ کی طرف پھیرتا رہا۔''اس کلام سے میری عقل کھو گئیپھر میں اندر داخل ہوا تو ایسی لڑکی دیکھی کہ دیکھنے والوں نے اس سےزیادہ حسین لڑکی نہ دیکھی ہوگی،وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی،میں نے اس سے پوچھا:'' یہ کیسی حالت ہے؟''تواس نے جواب دیا:''اے دلوں کے طبیب ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس سے میں غم سےنجات پا جاؤں ۔''میں نے اُسے کہا:''لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )پڑھ۔''اس نے بلند آواز سے کلمہ پڑھاتوہتھکڑیاں اور بیڑیاں کُھل گئیں۔جب اس کے باپ نے دیکھا تو کہنے لگا:''آپ کتنے اچھے طبیب ہیں اور آپ کی دوا کتنی اچھی ہے۔ میر ا علاج بھی اِسی دوا سے کر دیجئے جس سے اس کا علاج کیا ہے ۔''تومیں نے کہا:''تم بھی پڑھو: ''لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )''پھر اس کی ماں آئی ،وہ بھی دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور مسلمان ہو گئی۔ پھر اس شہر میں رہنے والے سب لوگ مسلمان ہو گئے۔اس پر میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی حمد کی اور روانگی کاارادہ کیا تو وہ لڑکی کہنے لگی:''اے جنید ( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! جانے کی جلدی نہ کیجئے، میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی ہے کہ آپ کی موجودگی میں میرا ا نتقال ہو، آپ میری نمازِ جنازہ پڑھائیں اور دفن کریں ۔'' پھر اس نے کلمۂ شہادت پڑھ کر موت کا جامنوش کرلیا۔
