ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﺅ۔ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﭘﮩﻼ ﺑﯿﭩﺎ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺧﺰﺍﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺳﺐ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻔﺮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﭘﮩﻼ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، اس ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ، ﺟُﮭﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﭨﯿﮍﮬﺎ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺮﮮ ﮨﺮﮮ ﭘﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻣﻨﻈﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ﺑﮍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﭘﮭﻞ ﺳﮯ ﻟﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﭘﮭﻞ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳُﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ :’’ ﺗﻢ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﯿﮟ ‘‘ ۔ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ : ’’ ﺗﻢ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺳﻢ ﯾﺎ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻭﻗﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺲ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺭﻭﻧﻖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮭﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑُﺮﺍ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﭻ ﻧﮧ ﻟﻮ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍُﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﺮﮐﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻮﺳﻢ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﯽ ﮨﺮﯾﺎﻟﯽ، ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ .. ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩُﮐﮫ، ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺍﺅ ﭘﺮ ﻣﺖ ﻟﮕﺎﺅ، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑُﺮﮮ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﻨﺎ ﮐﺮﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﺖ ﭘﺮﮐﮭﻮ ‘
جزاك الله خیر .
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘🌠
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔🌠
میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘🌠
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-🌠
ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔🌠
ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘🌠
مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘🌠
مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘🌠
مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے🌠
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں-🌠
سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘🌠
مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘🌠
سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں 🌠
جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔🌠
ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘🌠
صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ 🌠
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘🌠
ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘ 🌠
دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘🌠
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘🌠
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘🌠
آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘ 🌠
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘🌠
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘🌠
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘🌠
قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘🌠
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘🌠
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘ 🌠
شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں🌠
اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘🌠
منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔🌠
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ 🌠
ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں 🌠
تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘🌠
ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔🌠
اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں.....🌠
اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے.
حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں''میں نے ایک سال حج کا عزم کیا۔جب اونٹنی پر سوار ہوا تو اس کا رُخ کعبہ کی طرف ہی تھا لیکن جب میں نے اُس کی گردن پر ہاتھ مارا تووہ قُسطُنطُنیہ(اِستنبول) کی طرف مُڑگئی ۔میں نے کئی مرتبہ اس کا رُخ موڑا مگروہ قبلہ کی طرف نہ مڑی،میں نے اپنے دل میں کہا:''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اس میں ضرورکوئی راز پوشیدہ ہے۔''میں نے اُس کی مرضی کے مطابقاُسے جانے دیا اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : ''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اگر تو مجھے اپنے گھر نہ جانے دے تو میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں،تمام معاملہ تیرے ہی پاس ہے ۔''فرماتے ہیں کہاونٹنی تیزی سے چلتی ہوئی قسطنطنیہ میں داخل ہوگئی۔ جب میں شہر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ فتنہ وفساد میں مبتلاہیں۔میں نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اس کا سبب کیا ہے؟ تواس نے بتایا:''بادشاہ کی بیٹی کی عقل زائل ہو گئی ہے اور لوگ کوئی ایساطبیب تلاش کر رہے ہیں جو اس کا علاج کرسکے۔''میں نے دل میں کہا: ''میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت کی قسم! اسی کام کے لئے میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے اس سال حج سے روک دیا ہے۔''میں نے ان لوگوں کو بتایا:''میں طبیب ہوں۔''انہوں نے پوچھا''کیاآپ علاج کریں گے؟''میں نے کہا : ''ہاں! اِنْ شَآءَ اللہ عزَّوَجَلَّ۔''لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ اس نے اپنی بیٹی کا علاج میرے ذمے لگا دیا۔ میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کی اور کمرے میں داخل ہوگیا، میں نے وہاں لوہے کی کَھْنَک سنی اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا:''اے جنید ( رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )!اونٹنی نے تجھے ہماری طرف لانے کی کتنی کوشش کی جبکہ تواسے کعبہ مشرَّفہ کی طرف پھیرتا رہا۔''اس کلام سے میری عقل کھو گئیپھر میں اندر داخل ہوا تو ایسی لڑکی دیکھی کہ دیکھنے والوں نے اس سےزیادہ حسین لڑکی نہ دیکھی ہوگی،وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی،میں نے اس سے پوچھا:'' یہ کیسی حالت ہے؟''تواس نے جواب دیا:''اے دلوں کے طبیب ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس سے میں غم سےنجات پا جاؤں ۔''میں نے اُسے کہا:''لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )پڑھ۔''اس نے بلند آواز سے کلمہ پڑھاتوہتھکڑیاں اور بیڑیاں کُھل گئیں۔جب اس کے باپ نے دیکھا تو کہنے لگا:''آپ کتنے اچھے طبیب ہیں اور آپ کی دوا کتنی اچھی ہے۔ میر ا علاج بھی اِسی دوا سے کر دیجئے جس سے اس کا علاج کیا ہے ۔''تومیں نے کہا:''تم بھی پڑھو: ''لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )''پھر اس کی ماں آئی ،وہ بھی دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور مسلمان ہو گئی۔ پھر اس شہر میں رہنے والے سب لوگ مسلمان ہو گئے۔اس پر میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی حمد کی اور روانگی کاارادہ کیا تو وہ لڑکی کہنے لگی:''اے جنید ( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! جانے کی جلدی نہ کیجئے، میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی ہے کہ آپ کی موجودگی میں میرا ا نتقال ہو، آپ میری نمازِ جنازہ پڑھائیں اور دفن کریں ۔'' پھر اس نے کلمۂ شہادت پڑھ کر موت کا جامنوش کرلیا۔
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﮯﯾﮩﺎﮞ ﭘﺎﻧﭻ
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ______________۔ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ
ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺑﻼ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ”ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﺿﻊ
ﮐﯿﻠﺌﮯﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ﮨﯽ?“
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ
ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺳﮯﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ? ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺣﺼﮯﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﮨﯽ ﺁﺋﮯﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﮯﭘﺎﺱ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯﺁﺋﯿﮟ۔
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﮔﺰﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﻧﮯﺩﺭ ﭘﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯼ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ
ﺩﮮﺩﻭ ﺟﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮﮐﮯﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﯽ۔ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﮯﺣﮑﻢ ﮐﯽ
ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻣﺼﺮﻭﻑ
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ۔ ” ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ
ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ “
”ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ?“ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺧﺎﺩﻣﮧ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ
ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯﮨﻤﺎﺭﮮﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﯽ۔ “ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺍﻃﻼﻉ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ
ﺁﯾﺎ ﮨﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺟﻮﺍﺑﺎً ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔
” ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻﻧﮯﻭﺍﻟﮯﺳﮯﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯﮐﮩﮧ ﺩﻭ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯽ۔“
ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻣﺴﺮﺕ
ﮐﮯﻟﮩﺠﮯﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ”ﮨﺎﮞ ! ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﯽ۔ ﺍﺳﮯﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ “
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﻣﻨﮯﺳﺠﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﭼﮑﮯﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﺋﯽ۔ ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ
ﺗﯿﺴﺮﮮﺷﺨﺺ ﮐﮯﻻﺋﮯﮨﻮﺋﮯﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎﺭﺍﺯ
ﮨﯽ؟
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯﮨﻮﺋﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔”ﺣﻖ
ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﺩﺱ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﺮ
ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺩﻭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﻮ
ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ
ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮﮐﺮ ﺭﺯﺍﻕ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮔﯿﺎﺭﮦ
ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮐﺴﯽ ﺗﺮﺩﺩ ﮐﮯﺑﻐﯿﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﯿﻦ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯﻭﺍﻟﮯﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺭﺯﺍﻗﯽ ﮐﻮ
ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺩﺱ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯﻭﮦ ﺑﮭﯽ
ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ “
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﯽ ﺻﺒﺮﻭﻗﻨﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔۔
"ﮔﻠﺪﺳﺘﮧﺀﺍﻭﻟﯿﺎﺀ"
