جب ہم کسی چیز کا نام لیتے ہیں تو اس کی تصویر دماغ میں آ جاتی ہے۔ مثلاََ، میں اگر ’’اونٹ‘‘ لکھوں تو آپ کے ذہن میں فوراََ اصل اونٹ کا تصور آ جائے گا۔ میں اگر پانچ حروف پر مشتمل لفظ ’’سمندر‘‘ لکھوں تو آپ کے دماغ کی چھوٹی سی اسکرین پر ایک وسیع و عریض چیز آ جائے گی۔
آپ نے یہ بھی تجربہ کیا ہے کہ آپ کے کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر مختلف گیمز یا ایپس کے ’’آئکن‘‘ رکھے ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں تو وہ بہت چھوٹے سے ہوتے ہیں مگر جب ان پر کلک کیا جاتا ہے تو آپ ایک وسیع دنیا میں پنہچ جاتے ہیں۔ مائکروسافٹ ورڈ ہی کو دیکھ لیں۔ جب اس پر کلک کرکےکھولتے ہیں تو کتنے ہزاروں لاکھوں صفحات پر مشتمل ڈاکومنٹ کھل کر آپ کے سامنے آ جاتی ہے جسے پڑھنے میں بھی شاید آپ کو کئی ماہ لگ جائیں۔
۔
اسی طرح آپ کی حقیقی زندگی میں میں، آپ کے گھر کی الماری یا ٹیبل پر ایک آئکن رکھا ہوا ہے جس کے اوپر ’’قرآن‘‘ لکھا ہوگا۔ اٹھیے اور ہاتھ منہ دھو کر ایک بار اس پر کلک کر کے اس کو کھولیے، آپ ایک وسیع و عریض دنیا میں پنہچ جائیں گے۔ جہاں آپ کو زمین و آسمان کی ایسی حقیقتوں کی سیر کروائی جائے گی کہ جسم کا رواں رواں جاگ اٹھے گا۔ یہاں آپ کو گزری اقوام کے عبرت انگیز قصے ملیں گے، مستقبل کے احوال ملیں گے، کامیابی و ناکامی کے اصول ملیں گے، ربّ کا عرفان ملے گا، دین کی پہچان ملے گی، حضورﷺ کی جیتی جاگتی تصویر ملے گی۔ آپ اپنے ربّ کی آواز سن سکیں گے، اس کے موڈ کو سمجھ سکیں گے کہ وہ آپ کے کن کاموں سے خوش ہوگا اور کن باتوں سے ناراض ہوگا۔
صاحبو! ’’قرآن‘‘ نامی یہ چھوٹا سا آئکن آپ کی توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں جیسی کہ دنیا کی دیگر کتب ہوتی ہیں، بلکہ یہ آپ کے دل کا زنگ اتارنے کا ایک سامان ہے۔ اسے مت چھوڑیے، اسے پسِ پشت مت ڈالیے، اسے مت بھولیے ورنہ یہ آپ کو بھول جائے گا اور روزِ قیامت اللہ کے یہاں فریادی ہوگا کہ اے میرے مالک! یہ ہے وہ بدبخت جس نے مجھے دنیا میں چھوڑ دیا تھا، تیری نہیں سنتا تھا، اپنی چلاتا تھا۔ اب تو بھی اسے بھول جا، جیسے یہ مجھے اور تجھے بھول گیا تھا!
انفرادی طور پر اللہ کے کلام کو چھوڑنے کی سزا یہ ہوگی کہ اس کی قبر اندھیر ہوگی، محشر میں بے یارو مددگار ہوگا۔ اور اجتماعی طور پر اس کے احکام کو چھوڑنے کی سزا وہ ہے جو ہم آج بھگت رہے ہیں۔ اقوامِ عالم کی نظر میں ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ ہر جگہ مار کھا رہے ہیں، لٹ رہے ہیں پٹ رہے ہیں، گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں۔ اور یہ سب تب تک چلتا رہے گا جب تک ہم اپنی روش نہیں بدلیں گے۔
جس کو آپ اپنی فکر نہیں، فکر بھلا اس کی یزداں کیوں کرے؟
آپ نے یہ بھی تجربہ کیا ہے کہ آپ کے کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر مختلف گیمز یا ایپس کے ’’آئکن‘‘ رکھے ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں تو وہ بہت چھوٹے سے ہوتے ہیں مگر جب ان پر کلک کیا جاتا ہے تو آپ ایک وسیع دنیا میں پنہچ جاتے ہیں۔ مائکروسافٹ ورڈ ہی کو دیکھ لیں۔ جب اس پر کلک کرکےکھولتے ہیں تو کتنے ہزاروں لاکھوں صفحات پر مشتمل ڈاکومنٹ کھل کر آپ کے سامنے آ جاتی ہے جسے پڑھنے میں بھی شاید آپ کو کئی ماہ لگ جائیں۔
۔
اسی طرح آپ کی حقیقی زندگی میں میں، آپ کے گھر کی الماری یا ٹیبل پر ایک آئکن رکھا ہوا ہے جس کے اوپر ’’قرآن‘‘ لکھا ہوگا۔ اٹھیے اور ہاتھ منہ دھو کر ایک بار اس پر کلک کر کے اس کو کھولیے، آپ ایک وسیع و عریض دنیا میں پنہچ جائیں گے۔ جہاں آپ کو زمین و آسمان کی ایسی حقیقتوں کی سیر کروائی جائے گی کہ جسم کا رواں رواں جاگ اٹھے گا۔ یہاں آپ کو گزری اقوام کے عبرت انگیز قصے ملیں گے، مستقبل کے احوال ملیں گے، کامیابی و ناکامی کے اصول ملیں گے، ربّ کا عرفان ملے گا، دین کی پہچان ملے گی، حضورﷺ کی جیتی جاگتی تصویر ملے گی۔ آپ اپنے ربّ کی آواز سن سکیں گے، اس کے موڈ کو سمجھ سکیں گے کہ وہ آپ کے کن کاموں سے خوش ہوگا اور کن باتوں سے ناراض ہوگا۔
صاحبو! ’’قرآن‘‘ نامی یہ چھوٹا سا آئکن آپ کی توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں جیسی کہ دنیا کی دیگر کتب ہوتی ہیں، بلکہ یہ آپ کے دل کا زنگ اتارنے کا ایک سامان ہے۔ اسے مت چھوڑیے، اسے پسِ پشت مت ڈالیے، اسے مت بھولیے ورنہ یہ آپ کو بھول جائے گا اور روزِ قیامت اللہ کے یہاں فریادی ہوگا کہ اے میرے مالک! یہ ہے وہ بدبخت جس نے مجھے دنیا میں چھوڑ دیا تھا، تیری نہیں سنتا تھا، اپنی چلاتا تھا۔ اب تو بھی اسے بھول جا، جیسے یہ مجھے اور تجھے بھول گیا تھا!
انفرادی طور پر اللہ کے کلام کو چھوڑنے کی سزا یہ ہوگی کہ اس کی قبر اندھیر ہوگی، محشر میں بے یارو مددگار ہوگا۔ اور اجتماعی طور پر اس کے احکام کو چھوڑنے کی سزا وہ ہے جو ہم آج بھگت رہے ہیں۔ اقوامِ عالم کی نظر میں ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ ہر جگہ مار کھا رہے ہیں، لٹ رہے ہیں پٹ رہے ہیں، گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں۔ اور یہ سب تب تک چلتا رہے گا جب تک ہم اپنی روش نہیں بدلیں گے۔
جس کو آپ اپنی فکر نہیں، فکر بھلا اس کی یزداں کیوں کرے؟
Post A Comment: