بلال ابن رباح (عربی: بلال بن رباح الحبشي) المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے۔

بلال بن رباح
حضرت بلال حبشی

خطاطی نام بلال بن رباح
اہم معلومات
پورا نام بلال بن رباح
نسب حبشی
لقب ابو عبد الله، مؤذن رسول
تاريخ ولات
مقام ولادت حبشہ
تاريخ وفات 20ھ
مقام وفات شام
مقام دفن دمشق
پیشہ اذان
اسلام میں
جنگیں تمام غزوات میں
اہم واقعات اذان
فرمان نبوی رجل من أهل الجنة
بلال لا يكذب
خصوصیت موذن رسول
اسلام کے پہلے مؤذن
نام،نسب

بلال نام ،ابوعبداللہ کنیت،والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا،یہ حبشی نژاد غلام تھے ؛لیکن مکہ ہی میں پیدا ہوئے،بنی جمح ان کے آقا تھے۔

اسلام

بلال نے اس وقت اسلام کا اعلان کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے مصائب اورطرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی،تپتی ہوئی ریت ،جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے، مشرکین کے لڑکوں نے گلے مبارک میں رسیاں ڈال کر کرکھینچا ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھ دیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا،بلال اب بھی محمد کے خدا سے بازآ،لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی احد احد نکلتا۔

آزادی

بلال ایک روز حسبِ معمول مشقِ ستم بنائے جارہے تھے،ابوبکر صدیق اس طرف سے گذرے تو یہ درد ناک منظر دیکھ کر دل بھر آیا اورایک گرانقدر رقم معاوضہ دے کر آزاد کردیا، آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا،ابوبکر تم مجھے اس میں شریک کرلو، عرض کیا یا رسول اللہ میں آزاد کراچکا ہوں۔

مؤذن رسول

اسلام کے پہلے مُؤذن تھے۔ اعلان عام کے لیے اذان کا طریقہ اپنایا کیا گیا، بلال سب سے پہلے وہ بزرگ ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عمر کے اصرار پر صرف ایک دفعہ اذان کہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی،ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی،مرد اپنا کاروبار،عورتیں شبستان حرم اوربچے کھیل کود چھوڑ کروالہانہ وارفتگی کے ساتھ مسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح، الصلوۃ یا رسول اللہ! یعنی یارسول اللہ نماز تیار ہے،غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔

غزوات

بلال تمام مشہور غزوات میں شریک تھے،غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ بن خلف کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

ہجرت

وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو سعد بن خثیمہ کے مہمان ہوئے ابوردیحہ عبداللہ بن عبدالرحمن خثعمی سے مواخات ہوئی،ان دونوں میں نہایت شدید محبت پیدا ہوگئی تھی، عہدِ فاروق میں بلال نے شامی مہم میں شرکت کا ارادہ کیا تو عمرنے پوچھا، بلال تمہارا وظیفہ کون وصول کرے گا؟ عرض کیا"ابوردیحہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں میں جو برادرانہ تعلق پیدا کردیا ہے وہ کبھی منقطع نہیں ہوسکتا۔

وفات

20ھ میں دنیائے فانی کو خیرباد کہا،کم وبیش ساٹھ برس کی عمر پائی، دمشق میں باب الصغیر کے قریب مدفون ہوئے

ازواج

بلال نے متعدد شادیاں کیں، ان کی بعض بیویاں عرب کے نہایت شریف ومعزز گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں، ابوبکر کی صاحبزادی سے خود رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرادیا تھا، بنو زہرہ اور ابودرداء کے خاندان میں بھی رشتہ مصاہرت قائم ہواتھا، لیکن کسی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
پ کے والد کا نام ’’رباح‘‘ اور والدہ محترمہ ’’حمامہ‘‘ تھیں۔ ان کے والدین بنیادی طور پر افریقہ کے خطے حبشہ جسے آج کل ’’ایتھوپیا‘‘ کا ملک کہا جاتا ہے وہاں کے رہنے والے تھے۔ حضرت بلال کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہی ہوئی۔ امت مسلمہ میں ’’موذن نبوی‘‘ ان کی اول و آخر شناخت ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خرید کر آزاد کیا اور پھر ساری عمر جوار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بسر کی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر قرب میسر آیا کہ جملہ ضروریات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی ہی ذمہ داری تھی۔ آپ کا شمار اصحاب صفہ میں بھی ہوتا ہے، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو اولین موذن اسلام بنایا، انہیں اذان سکھائی، الفاظ و حروف کی صحیح ادائیگی کا طریقہ سمجھایا اور پھر انہیں ’’سیر الموذنین‘‘ کا لقب بھی مرحمت فرمایا۔

قریش کا ایک نامور سردار امیہ بن خلف اسلام کا بدترین دشمن تھا، اس کے غلاموں میں سے حضرت بلال بن رباح نے جب اسلام کی تعلیمات سے آگاہی حاصل کی اور ملاقات نبوی سے بہرہ مند ہوئے تو دولت ایمان سے قلب مبارک منور ہوگیا تا ہم ایک مختصر مدت تک اپنے ایمان کو پردہ اخفا میں رکھا، لیکن آخر کب تک؟؟ نور ایمان کی چند ھیانی ہوئی روشنی نے ان کے آقا امیہ بن خلف کی آنکھوں کو اندھا کردیا اور مصائب و آلام اور ابتلاء و آزمائش کا ایک پہاڑ ان پر ٹوٹ گرا۔ صحرائے عرب کی تپتی ریت روزانہ کی بنیاد پر ان کی میزبان تھی، عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھر پور سینے پر بھاری بھر کم پتھر کا وزن اس آزمائش کی بھٹی میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کندن بناتا تھا اور زنجیروں میں جکڑی ہوئی رات ’احد، احد‘ کے سبق کو پختہ تر کرتی چلی جاتی تھی۔ کوڑے مارنے والے تھک جاتے اور باریاں بدل لیتے تھے، کبھی امیہ بن خلف اور ابوجہل اور پھر کوئی اور لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پشت سے دروں کی آشنائی دم توڑنے والے نہ تھی، خون اور پسینہ باہم اختلاط سے جذب ریگزار ہوتے گئے یہاں تک کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی مہربان نے داستان عزم و ہمت و صبر و استقامت روایت کرڈالی۔ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، انہوں نے امیہ بن خلف کو شرم دلانے کی ناکام کوشش کی اور پھر ایک مشرک حبشی لیکن صحت مند غلام کے عوض حضرت بلال کو خرید کر آزاد کردیا۔
مدنی زندگی کے آغاز میں ہی جب ایک موذن کی ضرورت پیش آئی تو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ انتخاب سیاہ رنگت کی حامل اس ہستی پر پڑی جس کے چہرے سے پھوٹنے والی حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کرنوں سے آفتاب بھی ماند پڑجاتا تھا۔ حضرت بلال فجر کی اذان سے پہلے ہی مسجد نبوی کے پڑوسی مکان، جو بنی نجار کی ایک خاتون کی ملکیت تھا، اس کی چھت پر بیٹھ جاتے اور وقت کے آغاز پر اذان دیتے، جس کے بعد سب مسلمان مسجد میں جمع ہوجاتے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا سارا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی گزرتا تھا، خاص طور پر جب مسجد قبا جانا ہوتا تو وہاں بھی حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہی اذان دیتے جس قبا کے مکینوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع ہوجاتی تھی۔ قربت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خازن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنادیا تھا چنانچہ جب کبھی کوئی سائل دست سوال دراز کرتا تو اس کو موذن اسلام کی طرف بھیج دیا جاتا اور حضرت بلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایما پر حسب ضرورت و حسب توفیق سائل کی معاونت فرمادیتے تھے۔ کچھ لوگوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے تلفظ پر اعتراض کیا کہ وہ ’’شین‘‘ کو ’’سین‘‘ کہ کر ادا کرتے ہیں لیکن ان کا اعتراض بارگاہ رسالت کے جانب سے مسترد کردیا گیا۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’بلال ایسا کیا عمل کرتے ہو کہ میں نے جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ سنی ہے؟؟‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب بھی وضو کرتا ہوں دو رکعت تحیۃ الوضو کے ضرور پڑھ لیتا ہوں۔ ہجرت کے بعد حضرت بلال نے رفاقت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا کیا اور ہر غزوہ میں شامل رہے خاص طور پر غزوہ بدر میں اپنے سابق آقا امیہ بن خلف کو قتل کیا۔ دربار رسالت میں اس سے بڑھ کر اور کیا پذیرائی ہوسکتی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر کبار اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سرداران قریش کے درمیان سے آپ کو ہی حکم اذان ملا اور آپ، حضرت بلال، نے خانہ کعبہ کی چت پر چڑھ کر اذان دی جو اس شہر اور اس گھر میں طلوع اسلام کے بعد پہلی اذان ہی نہ تھی بلکہ اعلان فتح تھا۔ ایک پسے ہوئے طبقے کے فرد کی محض تقوی کی بنیاد پر اس قدر عزت افزائی صرف دین اسلام کا ہی خاصہ ہے۔
وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا سانحہ کل اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بالعموم جبکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے لیے بالخصوص جاں بہ لب تھا۔ مدینہ شہر کا گوشہ گوشہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد لاتا تھا چنانچہ آپ لشکر اسامہ بن زید کے ساتھ ملک شام کی طرف سدھار گئے اور اذان دینا بند کردی۔ ایک بار جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا تو ساتھیوں کے بے حد اسرار پر امیرالمومنین نے حضرت بلال سے اذان کی درخواست کی جس کو آپ نے قبول فرمایا۔ ایک بار آپ دمشق میں محو استراحت تھے کہ خواب میں زیارت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہوئی، استفسار کیا کہ بلال ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے!!! بیدار ہوتے ہی آقائے دو جہاں کے شہر کا قصد کیا اور روضہ رسول کی زیارت کی۔ مدینہ طیبہ میں حسنین کریمین شفیقتین سے ملاقات ہوئی تو انہیں بے حد پیار کیا اور ان کی بلائیں لیں۔ شہزادوں نے اذان کی فرمائش کی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آقا کے نور نظر لخت جگر کی فرمائش کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے محبان رسول پوری نہ کرتے۔ جب اذان کی دوسری شہادت پر پہنچے اور حسب عادت ممبر کی طرف نظر اٹھائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنقا تھے، روتے روتے بے ہوش ہوگئے۔ دوسری جانب جس جس کے کانوں میں صدائے بلالی پہنچی دور نبوت کے مناظر تازہ ہوتے گئے اور مرد و زن اپنے گھروں سے نکل نکل کر آنسؤں کی لڑیوں کے ساتھ مسجد کی طرف ایسے کھچے چلے آئے چلے مقناطیس کی طرف لوہے کے ذرات چلے آتے ہیں۔ یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو زندگی کی آخری اذان تھی۔
20 محرم، ہجرت کے بیسویں سال ماہتاب عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم زوال پذیر ہوگیا، اناللہ و اناالیہ راجعون۔
دمشق کے محلہ باب الصغیر میں آپ نے وفات پائی، اس وقت عمر عزیز، بمطابق سنت، خاص تریسٹھ برس تھی۔ دو مزارات آپ سے منسوب ہیں، ایک تو دمشق میں ہے اور ایک اردن کے ’’بدر‘‘ نامی گاؤں میں ہے۔ اعلان نبوت کے وقت حضرت بلال تیس برس کے تھے، بقیہ تینتیس برس کچھ نہ کیا سوائے صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے رہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے جاتے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر بیٹھ جاتے۔ انتظار کے لمحات طویل ہوتے یا مختصر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر نکلتے تو حضرت بلال آپ کی معیت میں پھر پیچھے پیچھے چل پڑتے۔ یہ ساتھ، روز حشر بھی قائم رہے گا اور جنت الفردوس کے دروازے پر جب اگلی پچھی امتوں کے افراد منتظر ہوں گے کہ کب خاتم النبیین تشریف لائیں اور سب سے پہلے انہیں کے لیے جنت کے اس خوبصورت ترین حصے کا دروازہ کھولا جائے، تو میدان حشر سے سب سے آخر میں روانہ ہونے والے خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم جب جنت الفردوس کے دروازے پر پہنچیں گے تو اپنی اونٹنی قصوی پر تشریف رکھے ہوئے ہوں گے اور انٹنی کی نکیل حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تھامی ہوگی، جتنی کی حیثیت سے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی جنت الفردوس میں سب سے پہلے داخل ہوں گے لیکن عملا حضرت بلال قصوی کی نکیل تھامے وہ اولین فرد ہوں گے جنہیں جنت کے اس اعلی ترین درجے میں سب سے پہلے داخلے کا شرف حاصل ہوگا۔ جبکہ جنت کی حوروں میں سے بھی سب زیادہ حسین و جمیل حور آپ کی قسمت میں لکھی گئی ہے..!!

Share To:

Post A Comment:

0 comments so far,add yours