اسلام نے جو عزت و احترام اور حقوق عورت کو عطاء کیے ہیں وہ کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیے. عورت کے ماں کے روپ میں جنت اس کے قدموں میں رکھ دی, بہن کی صورت میں بھائیوں کا مان بنادیا اور بیٹی کی تصویر میں ماں باپ کا پیار اور لاڈ اس پر لٹا دیا. ہمارے پیارے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اور اچھی تربیت کی وہ اورمیں جنت میں اس طرح سے اکٹھے ہوں گے جس طرح سے ہاتھ کی یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں. اسلام نے عورت کی اچھی تعلیم و تربیت کا حکم دیا. اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا. آج یورپ اور دیگر کی مثالیں دینے والے ذرا بتائیں تو سہی کہ وہاں کا معاشرہ عورت کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟؟ اس معاشرے نے عورت کو ایک مشینی پرزہ بنا کر رکھ دیا ہے اور عورت کے نام پر ہی عورت کا استحصال کیا جاتا ہے. لیکن اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو عورت کو گھر میں رکھ کر باہر کی ذمہ داریاں مرد پر ڈال کر عورت کو عزت سے جینے کا حق دیتا ہے افسوس کہ یہ عورت اپنے مقام و مرتبہ کو پہچان نہ سکی یورپ کی نقالی میں گھر کی چادر چار دیواری سے باہر نکل کر کر شمع محفل بن گئی اور اس کو مختلف طریقوں سے ذلیل کیا جاتا ہے حتی کہ یہ ٹرینڈ بنادیا کہ عورت کی نیم عریاں تصویر کے بغیر کوئی پراڈکٹ نہیں بک سکتی جو عزت و احترام کے لائق تھی اس کو بازار کی جنس بنا کر رکھ دیا. اب جمہوریت کے نام پر گھر سے نکال کر جلسہ جلوسوں کی رونق بنادیا گیا. حالانکہ اللہ تعالی نے حکم دیا تھا کہ وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی و اقمن الصلوۃ ( سورۃ الاحزاب) ترجمہ :- اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو اور نماز قائم کرو. اللہ تعالی نے عورت کو گھر کے اندر رہ کر عبادت کرنے اور اپنے گھر کی ذمہ داریاں نبھانے کا حکم دیا ہے. اس معاشرے نے عورت کو گھر سے باہر نکال کر لوگوں کی ہوس نظر کا نشانہ بنادیا ہے اور اب تو جلسوں کے لیے بھی عورتوں کا ناچنا, گانا اور مخلوط مجمع میں شریک ہونا لازمی قرار دے دیا ہے اگر یہ عورت شریک نہ ہوگی تو گویا وہ جلسہ ہی ناکام تصور ہوگا. انا للہ وانا الیہ راجعون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : عورت پردہ ہے جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے. ( ترمذی) آپ نے فرمایا کہ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی کمرے میں ہو. ( ابوداود) عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے. اب آپ ہمین کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجایدین کی فضیلت کو پاسکیں. آپ نے فرمایا کہ تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضلیت پالے گی. ( مسند ابو یعلی و صحیح ابن حبان )جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے. ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے. دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانون کے زیور دوسروں کو نظر آئیں یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے آیت میں روکا گیا ہے. ( تفسیر ابن کثیر )جو عورتیں بن سنور کر گھر سے باہر نکلتی ہیں انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذہن میں رکھیں اور اپنی عاقبت کے بارے سوچیں. آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس سے گذرے وہ زانیہ ہے. ( ترمذی)آیت کریمہ میں لفظ تبرج استعمال ہوا ہے. عورت کےلیے جب جب لفظ تبرج استعمال کیا جائے تو اس کے تین مطلب ہوں گے 1 وہ اپنے چہرے اور جسم کا حسن لوگوں کو دکھائے. 2 وہ اپنے لباس اور زیور کی شان دوسروں کے سامنے نمایاں کرے. 3 وہ اپنی چال ڈھال اور چٹک مٹک سے اپنے آپ کو نمایاں کرے. یہی اس لفظ کی اکابر اہل لغت اور اکابر مفسرین نے کی ہے. اس آیت میں اللہ تعالی جس طرز عمل سے لوگوں کو روکنا چاہتا ہے وہ ان کا اپنے حسن کی نمائش کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلنا ہے وہ ان کو ھدایت فرماتا ہے کہ اپنے گھرون میں ٹک کر رہو. کیونکہ تمہارا اصل کام گھر میں ہے نہ کہ اس سے باہر. لیکن اگر باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو اس شان کے ساتھ نہ نکلو جس کے ساتھ سابق دور جاہلیت میں عورتیں نکلا کرتی تھیں. بن ٹھن کر نکلنا, چہرے اور جسم کے حسن کو زیب و زینت اور چست لباسوں یا عریاں لباسوں سے نمایاں کرنا, اور ناز و ادا سے چلنا ایک مسلم معاشرے کی عورت کا کام نہیں ہے. یہ جاہلیت کے طور طریقے ہیں جو اسلام میں نہیں چل سکتے. اب ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ جو ثقافت ہمارے ہاں رائج کی جارہی ہے وہ اسلام کی ثقافت ہے یا جاہلیت کی ثقافت ؟؟ ( تفہیم القرآن)اے مسلمان عورت!!! میری ماں میری بہن میری بیٹی ذرا اپنی قدر و منزلت کو پہچان, تیری شان کیا تھی اور تو کیا بننے جارہی ہے؟ تیرا کام اور مقام گھر کی چار دیواری میں رہ کر ایک نسل کی تربیت کرنا تھا نہ کہ بازار اور اشتہار کی زینت بن کر لوگوں کی ہوس کا نشانہ بننا تھا. تو تو چراغ خانہ تھی نہ کہ زینت محفل, بازار اور منڈی کی جنس نہیں ہے اور نہ ہی اپنی اداؤں اور آواز سے غیر مردوں کا دل بہلانا تھا. اپنی تاریخ کو دیکھ تیرا تعلق کن عالی مرتبت خواتین سے تھا
.
Back To Top
Post A Comment: