Articles by "islami waqiat"
Showing posts with label islami waqiat. Show all posts

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد، حضرت سارہؑ سے ہوئی، لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ایک دن حضرت سارہؑ نے اُن سے فرمایا’’ آپؑ، ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ تعالیٰ اُن کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘ دراصل، یہ سب کچھ مِن جانب اللہ ہی تھا۔ چناں چہ، آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ 86سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور’’ اسماعیل‘‘ نام رکھنے کو کہا۔ حضرت اسماعیلؑ اٹھارہ سو قبلِ مسیح میں پیدا ہوئے۔

ایک نئی آزمائش

حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ اُنھیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ بہ حکمِ الہٰی نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دُور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا، نہ چرند پرند۔اور آدم تھا، نہ آدم زاد۔

بے آب و گیاہ ویرانے میں

وادیٔ فاران کے سنگلاخ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا کے ایک بوڑھے درخت کے نیچے، اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ چند روز سے قیام پزیر ہیں۔ جو زادِ راہ ساتھ تھا، ختم ہو چُکا۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں کو اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری اَمر ہے، لیکن اس لق و دق صحرا میں پانی کہاں…؟جوں جوں لختِ جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں قریب واقع پہاڑی،’’صفا‘‘پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔ تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی’’مروہ‘‘پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔

آبِ زَم زَم کا جاری ہونا

ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت جبرائیل امینؑ کے ذریعے شیر خوار اسماعیلؑ کے قدموں تلے دنیا کے سب سے متبرّک اور پاکیزہ پانی کا چشمہ جاری کر کے رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام دے دیا کہ اللہ پر توکّل کرنے والے صابر و شاکر بندوں کو ایسے ہی بیش قیمت انعامات سے نوازا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ’’ اللہ پاک، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی والدہ پر رحمت فرمائے، اگر وہ پانی سے چُلّو نہ بھرتیں اور اُسے رُکنے کا نہ کہتیں، تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔‘‘ آبِ زَم زَم غذا بھی ہے اور شفا بھی۔ دوا ہے اور دُعا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ماں، بیٹے کے لیے بہترین غذا کا بندوبست کیا، بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے فیض یاب ہونے کا وسیلہ بنا دیا۔

مقدّس ترین شہر

حضرت ہاجرہؑ اپنے صاحب زادے کے ساتھ وہیں رہ رہی تھیں کہ ایک روز عرب کے قبیلے، بنو جرہم کے کچھ لوگ پانی کی تلاش میں وہاں پہنچے اور حضرت ہاجرہؑ کی اجازت سے وہاں رہائش اختیار کر لی۔ پھر دوسرے قبائل بھی وہاں آ آ کر آباد ہوئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ سُنسان صحرا دنیا کے سب سے مقدّس و متبرّک اور عظیم شہر، مکّہ مکرّمہ میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ہاجرہؑ نے بیٹے کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر خصوصی توجّہ دی۔

سِکھائے کس نے آدابِ فرزندی

تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پَلک جھپکتے گزر گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام مکّے کی مقدّس فضائوں میں آبِ زَم زَم پی کر اور صبر و شُکر کی پیکر، عظیم ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے مالک، خُوب صورت نوجوان کا رُوپ دھار چُکے تھے کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السّلام تشریف لائے اور فرمایا’’اے بیٹا!مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمھیں ذبح کر رہا ہوں، تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟(فرماں بردار بیٹے نے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہوئے فرمایا)،ابّا جان! آپؑ کو جو حکم ہوا ہے، وہی کیجیے۔اللہ نے چاہا، تو آپؑ مجھے صابرین میں پائیں گے۔‘‘(سورۃ الصٰفٰت102:37) حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا؎ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔

مِنیٰ کی جانب سفر اور شیطان کی چالیں

حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کا جواب سُنا، تو اُنہیں سینے سے لگایا اور حضرت ہاجرہؑ کے پاس لے آئے۔ فرمایا’’ اے ہاجرہؑ!آج ہمارے نورِ نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجیے۔‘‘ممتا کے مقدّس، شیریں اور اَن مول جذبوں میں ڈوبی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک پہنائی۔ آنکھوں میں سُرمہ، سَر میں تیل لگایا اور خُوش بُو میں رچا بسا کر باپ کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار کر دیا۔اسی اثنا میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی ایک تیز دھار چُھری کا بندوبست کر چُکے تھے۔ پھر بیٹے کو ساتھ لے کر مکّے سے باہر مِنیٰ کی جانب چل دیئے۔شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی۔ جب اُس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہو گیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ چناں چہ’’ جمرہ عقبیٰ‘‘ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ’’ جمرہ وسطیٰ‘‘ کے مقام پر پھر وَرغلانے کے لیے آ موجود ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے دوبارہ کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ’’ جمرہ اولیٰ‘‘ کے مقام پر پھر موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو ابراہیم خلیل اللہؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔“
ﺁﺝ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﭩﮭﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﻼ ﯾﮧ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺧﻄﺎ ﮐﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ۔
ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﻭ ﯾﻮﻡ ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﻃﻠﺐ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﺩﮮ ﺩﯼ۔ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮦ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺟﺘﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﻼ ﻭﮦ ﮐﺴﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺎﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻭﺍﺩﯾﺘﺎ۔ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮑﺘﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ، ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻧﮑﺘﮯ ﮐﻮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﺎ ﻻﺋﺤﮧ ﻋﻤﻞ ﻃﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺩﻭ ﺩﻥ ﺟﮭﭧ ﭘﭧ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﭘﺎﻧﭻ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺏ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﺭﺳﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯾﺪﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﯿﮏ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺧﺮ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻮﺗﻮﺍﻝ ﻧﮯ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﮯ، ﺍﻥ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻢ ﻏﻔﯿﺮ ﺍﻣﮉ ﺁﯾﺎ۔ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺸﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﺷﺎﮨﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﺠﻮﻡ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﺮﺍﺟﻤﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻋﺎﻟﻢ ﭘﻨﺎﮦ، ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺷﯿﺎﺀﻣﯿﮟ ﻣﻼﻭﭦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻟﺤﻈﮧ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺖ ﻧﺌﮯ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﺍ ﮨﮯ، ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﮌﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﻮﭦ ﺩﯾﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻧﻮﭦ ﮨﯽ ﻧﻮﭦ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﺳﮯ ﻣﻼﻭﭦ ﻭﺍﻻ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻋﺎﻟﻢ ﭘﻨﺎﮦ، ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻏﯿﺒﺖ، ﭼﻐﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﺮﯼ ﮨﮯ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ، ﺗﺮﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺯﺑﺎﻥ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﭘﮭﯿﻼﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺳﺮﺥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺟﺎﺅ ﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﻭ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮏ ﺑﮏ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻞ ﺳﮑﮯ۔ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ، ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ، ﯾﮧ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺭﺍﺷﯽ ﮨﮯ، ﺣﺎﻻﮞ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﮭﻠﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪﮮ ﺳﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﭩﻮﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﭘﺎﺭﮦ ﭼﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﻭﯾﮧ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻧﻮﭦ ﮔﻨﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﻮﭦ ﮔﻨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺿﺮﺏ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﮭﮑﺎﺩﻭ ﮐﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺟﺎﺋﺰ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﭘﯿﺴﮧ ﻧﮧ ﭘﮑﮍﺳﮑﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺍﺏ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﮔﺌﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﯾﮧ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﮯ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺑﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﮭﯿﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﺨﺖ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ۔ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺳﮯ ﺟﯿﻞ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺳﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ، ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﻏﻢ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔
ﭘﺎﻧﭽﻮﺍﮞﮕﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﯽ ﺟﺎﮦ ﻭ ﺟﻼﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻋﺰﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﺠﺮﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮒ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ، ﯾﮧ ﭘﺎﻧﭽﻮﺍﮞ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ ﮨﮯ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﻮﺩ ﺻﺎﻑ ﺳﺘﮭﺮﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ، ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺮﻋﻮﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺣﻀﻮﺭ ! ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﻗﺎﺋﮯ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺠﺮﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻗﻮﻡ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ، ﺟﻮﺍ، ﺷﺮﺍﺏ، ﭼﻮﺭﯼ، ﺑﺪﻣﻌﺎﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﻋﺘﻨﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺗﺒﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻗﻮﻝ ﻭ ﻓﻌﻞ ﮐﮯ ﺗﻀﺎﺩ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﻗﮩﺮ ﺁﻟﻮﺩ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺳﮑﯿﮟ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﭘﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﭘﺮ ﺳﮑﺘﮧ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻭ ﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺯﺭﺩ ﭘﮍﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ ﺭﺣﻢ، ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺳﺰﺍ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻧﮧ ﻻﮔﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﭨﺲ ﺳﮯ ﻣﺲ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺟﺎﮦ ﻭ ﺟﻼﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ، ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻗﺎﺿﯽ ﺑﻮﻝ ﭘﮍﺍ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺻﺎﺩﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮐﻮ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺑﮯ ﻋﻤﻠﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ﺧﻄﺎﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺳﺰﺍ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺛﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﻥ ﺗﮭﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﻭ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺳﮑﮯ۔
ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﻧﮩﯿﮟ ﻃﺮﺯ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻓﮑﺮ ﮐﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺁﻗﺎﺋﮯ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯﮎ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﺣﮑﯿﻢ ﮨﮯ۔ 

اسلام نے جو عزت و احترام اور حقوق عورت کو عطاء کیے ہیں وہ کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیے. عورت کے ماں کے روپ میں جنت اس کے قدموں میں رکھ دی, بہن کی صورت میں بھائیوں کا مان بنادیا اور بیٹی کی تصویر میں ماں باپ کا پیار اور لاڈ اس پر لٹا دیا. ہمارے پیارے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اور اچھی تربیت کی وہ اورمیں جنت میں اس طرح سے اکٹھے ہوں گے جس طرح سے ہاتھ کی یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں. اسلام نے عورت کی اچھی تعلیم و تربیت کا حکم دیا. اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا. آج یورپ اور دیگر کی مثالیں دینے والے ذرا بتائیں تو سہی کہ وہاں کا معاشرہ عورت کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟؟ اس معاشرے نے عورت کو ایک مشینی پرزہ بنا کر رکھ دیا ہے اور عورت کے نام پر ہی عورت کا استحصال کیا جاتا ہے. لیکن اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو عورت کو گھر میں رکھ کر باہر کی ذمہ داریاں مرد پر ڈال کر عورت کو عزت سے جینے کا حق دیتا ہے افسوس کہ یہ عورت اپنے مقام و مرتبہ کو پہچان نہ سکی یورپ کی نقالی میں گھر کی چادر چار دیواری سے باہر نکل کر کر شمع محفل بن گئی اور اس کو مختلف طریقوں سے ذلیل کیا جاتا ہے حتی کہ یہ ٹرینڈ بنادیا کہ عورت کی نیم عریاں تصویر کے بغیر کوئی پراڈکٹ نہیں بک سکتی جو عزت و احترام کے لائق تھی اس کو بازار کی جنس بنا کر رکھ دیا. اب جمہوریت کے نام پر گھر سے نکال کر جلسہ جلوسوں کی رونق بنادیا گیا. حالانکہ اللہ تعالی نے حکم دیا تھا کہ وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی و اقمن الصلوۃ ( سورۃ الاحزاب) ترجمہ :- اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو اور نماز قائم کرو. اللہ تعالی نے عورت کو گھر کے اندر رہ کر عبادت کرنے اور اپنے گھر کی ذمہ داریاں نبھانے کا حکم دیا ہے. اس معاشرے نے عورت کو گھر سے باہر نکال کر لوگوں کی ہوس نظر کا نشانہ بنادیا ہے اور اب تو جلسوں کے لیے بھی عورتوں کا ناچنا, گانا اور مخلوط مجمع میں شریک ہونا لازمی قرار دے دیا ہے اگر یہ عورت شریک نہ ہوگی تو گویا وہ جلسہ ہی ناکام تصور ہوگا. انا للہ وانا الیہ راجعون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : عورت پردہ ہے جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے. ( ترمذی) آپ نے فرمایا کہ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی کمرے میں ہو. ( ابوداود) عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے. اب آپ ہمین کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجایدین کی فضیلت کو پاسکیں. آپ نے فرمایا کہ تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضلیت پالے گی. ( مسند ابو یعلی و صحیح ابن حبان )جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے. ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے. دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانون کے زیور دوسروں کو نظر آئیں یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے آیت میں روکا گیا ہے. ( تفسیر ابن کثیر )جو عورتیں بن سنور کر گھر سے باہر نکلتی ہیں انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذہن میں رکھیں اور اپنی عاقبت کے بارے سوچیں. آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس سے گذرے وہ زانیہ ہے. ( ترمذی)آیت کریمہ میں لفظ تبرج استعمال ہوا ہے. عورت کےلیے جب جب لفظ تبرج استعمال کیا جائے تو اس کے تین مطلب ہوں گے 1 وہ اپنے چہرے اور جسم کا حسن لوگوں کو دکھائے. 2 وہ اپنے لباس اور زیور کی شان دوسروں کے سامنے نمایاں کرے. 3 وہ اپنی چال ڈھال اور چٹک مٹک سے اپنے آپ کو نمایاں کرے. یہی اس لفظ کی اکابر اہل لغت اور اکابر مفسرین نے کی ہے. اس آیت میں اللہ تعالی جس طرز عمل سے لوگوں کو روکنا چاہتا ہے وہ ان کا اپنے حسن کی نمائش کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلنا ہے وہ ان کو ھدایت فرماتا ہے کہ اپنے گھرون میں ٹک کر رہو. کیونکہ تمہارا اصل کام گھر میں ہے نہ کہ اس سے باہر. لیکن اگر باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو اس شان کے ساتھ نہ نکلو جس کے ساتھ سابق دور جاہلیت میں عورتیں نکلا کرتی تھیں. بن ٹھن کر نکلنا, چہرے اور جسم کے حسن کو زیب و زینت اور چست لباسوں یا عریاں لباسوں سے نمایاں کرنا, اور ناز و ادا سے چلنا ایک مسلم معاشرے کی عورت کا کام نہیں ہے. یہ جاہلیت کے طور طریقے ہیں جو اسلام میں نہیں چل سکتے. اب ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ جو ثقافت ہمارے ہاں رائج کی جارہی ہے وہ اسلام کی ثقافت ہے یا جاہلیت کی ثقافت ؟؟ ( تفہیم القرآن)اے مسلمان عورت!!! میری ماں میری بہن میری بیٹی ذرا اپنی قدر و منزلت کو پہچان, تیری شان کیا تھی اور تو کیا بننے جارہی ہے؟ تیرا کام اور مقام گھر کی چار دیواری میں رہ کر ایک نسل کی تربیت کرنا تھا نہ کہ بازار اور اشتہار کی زینت بن کر لوگوں کی ہوس کا نشانہ بننا تھا. تو تو چراغ خانہ تھی نہ کہ زینت محفل, بازار اور منڈی کی جنس نہیں ہے اور نہ ہی اپنی اداؤں اور آواز سے غیر مردوں کا دل بہلانا تھا. اپنی تاریخ کو دیکھ تیرا تعلق کن عالی مرتبت خواتین سے تھا