Articles by "urdu islamic story"
Showing posts with label urdu islamic story. Show all posts
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ولادت بعثت نبوی کے چار(4) سال بعد ہوئی، اس وقت تک آپ کے والدین(حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ام ّرومانؓ) اسلام قبول کرچکے تھے۔ اسم گرامی عائشہ،لقب صدیقہ،خطاب”ام المؤمنین“اور کنیت اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر کی نسبت سے ”ا م عبداللہ“تھی۔ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ کا نکاح حضورﷺ سے ہوا،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وہ خوش نصیب عورت ہیں جن کو نبی ﷺ کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا، نکاح سے پہلے خواب میں نبی ﷺ کو دکھلایا اور پھر آپ نبی ﷺ کے نکاح میں آئیں،چارسو(400) درہم مہر مقرر ہوا۔ نکاح کے بعد حضورﷺ تین سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے۔ اس کے بعد آپ نے ہجرت فرمائی جس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے،لیکن ان کے اہل و عیال مکہ ہی میں قیام پذیر رہے اور مدینہ ہجرت مکمل ہونے کے بعد جب وہاں تسلی بخش صورتحال سامنے آئی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل و عیال کو مدینے بلوالیا، یوں شوال کے مہینے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی۔رخصتی کے لیے شوال کے مہینے کے انتخاب میں بھی ایک حکمت تھی وہ یہ کہ قدیم زمانے میں چوں کہ شوال کے مہینے میں طاعون آیا تھا اور بڑا جانی نقصان ہوا تھا،اس لیے اہل عرب اس مہینے کو منحوس سمجھتے اور اس میں شادی بیاہ وغیرہ نہیں کرتے تھے،نبی اکرم ﷺ نے اس مہینے کا انتخاب فرماکر اس غلط خیال اور جاہلانہ توہم کی عملی طور پر بیخ کنی فرمادی۔
رخصتی چوں کہ کم سنی میں ہوئی تھی،اس لیے کم سن بچیوں کی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کھیل کود کی بڑی شوقین تھیں،محلے کی لڑکیاں ان کے پاس جمع رہتی تھیں،ان کوسب سے زیادہ دوکھیل مرغوب تھے،ایک گڑیوں کے ساتھ کھیلنا اور دوسرا جھولا جھولنا۔حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ یک مرتبہ آپ ؓ گڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں، کہ رسول اللہ ﷺ پہنچ گئے،ان گڑیوں میں ایک گھوڑابھی تھا،جس کے دو پر بھی تھے، آپﷺ نے پوچھا:یہ کیسا گھوڑا ہے،کیا گھوڑے کے بھی پرہوتے،آپؓ نے برجستہ جواب دیا:حضرت سلیمان ؑ کے گھوڑں کے بھی تو پر تھے۔اس جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بچپن میں بھی کس قدر دینی معلومات رکھنے والی اور حاضر جواب تھیں۔
حضور اقدسﷺکوآپ ؓ سے بے انتہا محبت تھی، بعض اوقات دوسری ازواج مطہرات بشری تقاضے سے اس بات کو محسوس بھی کرتیں اور کبھی کبھی احتجاج تک کی نوبت آجاتی تھی،اسی نوع کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ:حضرت ام سلمہ نے ایک بارآپ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ اپنے اصحاب کو کہیں کہ وہ جوہدایا اور تحائف وغیرہ بھیجتے ہیں وہ تمام ازواج کے یہاں قیام کے دنوں میں بھی بھیجا کریں،صرف (حضرت) عائشہؓ کی باری کے دن ہی کیوں بھیجتے ہیں؟نبی کریم ﷺ نے ان کی بات پورے تحمل سے سنی اور پیار بھرے لہجے میں فرمایا: اللہ کی قسم!مجھے تو وحی بھی عائشہ کے حجرے میں آتی ہے، تم میں سے کسی کے حجرے میں نہیں آتی۔
ایک اور واقعہ ہے کہ:حضرت زینبؓ ایک دن حجرہ ئعائشہؓ میں تشریف لائیں، جب کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے،وہ کافی غصے میں تھیں،کہنے لگیں: آپ(ﷺ) کو ابوبکر کی بیٹی کے علاوہ بھی کسی کی خبر ہے؟ وہ بڑی عمر کی خاتون تھیں اور حضرت عائشہؓ ان کی بیٹیوں کی عمر کی تھیں،پھرحضرت عائشہؓ کی طرف رخ کیا اور دل کی بھڑاس نکالنے لگیں، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:میں کن اکھیوں سے اللہ کے رسول ﷺ کی طرف دیکھ رہی تھی،ان کا مقصود یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف سے جواب دیں یا پھرانھیں جواب دینے کی اجازت دیں،نبی کریم ﷺ نے رخ انور حضرت عائشہؓ کی طرف کیا اور فرمایا: تم خود جواب دو،حضرت عائشہ ؓ نے جو ترکی نہ ترکی جواب دیا تو حضرت زینب ؓ دیکھتی ہی رہ گئیں،یہ دو سوکنوں کا معاملہ تھا،اس لیے حضور اکرم ﷺ درمیان میں نہیں آئے،تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
مذکورہ واقعات میں یہ بات ہر وقت ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ اور حضرت زینب ؓنے جو شکوہ یا اعتراض کیا،وہ ایک بیوی ہونے کی حیثیت سے اپنے شوہر سے تھا،نہ کہ امتی کا اپنے نبی سے۔بعض لوگوں کا اس قسم کے واقعات کی آڑ میں ازواج مطہرات کو چرب زبان اور بے ادب کہنا بدترین گستاخی ہے،تمام ازواج مطہرات ایمان والوں کی مائیں ہیں اور کوئی فرماں بردار بیٹا اپنی ماں پر ایسی تنقید کی جراء ت کبھی نہیں کرسکتا۔اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔آمین!
ایک موقع پراللہ کے رسول ﷺ اپناجوتا گانٹھ رہے تھے اور پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح جلدمبارک سے نکلتے توان میں نور کی چمک پیدا ہوتی،جو بڑھتی ہی چلی جاتی تھی۔ چہرہ انورنورانی تجلیوں کا محور بنا ہوا تھا،جیسے چاند پر تاروں کی جھڑی لگی ہو،حضرت عائشہ ؓ مسلسل یہ منظر دیکھ رہی تھیں،پھر روئے انور کے قریب آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم!آج اگر شاعرابو کبیرہذلی موجود ھوتا اور آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا تو اسے اپنے اشعار کا درست مصداق مل جاتا جو اس نے اپنے خیالی محبوب کی شان میں کہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، سناؤ،ذراہم بھی سنیں۔۔حضرت عائشہؓ نے یہ شعر پڑھا:
ترجمہ: میں نے اس کے روئے تاباں پہ نگاہ ڈالی تو اس کی شانِ درخشندگی ایسی تھی،جیسے بادل کے کسی ٹکڑے میں بجلیاں کوند رہی ہوں۔
یہ سن کرللہ کے رسول ﷺ نے دستِ مبارک میں جو کچھ تھا اسے رکھ دیا اور حضرت عائشہؓ کا ماتھا چوم کر فرمایا:عائشہؓ! جو سرور مجھے اس کلام سے حاصل ہوا ہے، وہ تجھے اس نظارے سے بھی حاصل نہ ہو ا ہوگا۔یہ بھی محبت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔اس میں مسلم شوہروں کے لیے اسوہ بھی ہے کہ خاتون خانہ کی تعریف وحوصلہ افزائی کرنا کوئی غیر اخلاقی یا غیر شرعی بات نہیں،بلکہ محبوب دو جہاں ﷺ کی سنت ہے۔
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آؤ عائشہ! و دوڑ میں مقابلہ کرتے ہیں،چناں چہ مقابلہ شروع ہوا،چوں کہ حضرت عائشہ ؓدبلی پتلی تھیں،اس لیے نبی اکرم ﷺ سے آگے نکل گئیں۔ پھر ایک عرصہ گزرنے کے بعد،جب حضرت عائشہ ؓ کا وزن بڑھنے لگا تھا،حضور ﷺ نے فرمایا:پھر مقابلہ کرتے ہیں،اور آپ ﷺآگے نکل گئے،اس موقع پر دل لگی کرتے ہوئے فرمایا: یہ اس دن کا جواب ہے-
شان محبوبیت کی ایک اور ادا ملاحظہ فرمائیے!جان دو عالم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا:عائشہؓ! جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتا چل جاتا ہے،حضرت عائشہؓ نے پوچھا:وہ کیسے؟آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہوتو کہتی ہو:ربِ محمد(ﷺ)کی قسم،اور جب کوئی ناراضی ہو تو کہتی ہو:ربِ ابراہیم ؑکی قسم!حضور ﷺ اپنی رفیقہ ئ حیات کو راضی کس طرح فرمایا کرتے تھے،اس کا دل فریب و قابل تقلید نمونہ بھی ملاحظہ فرمائیں:اگر حضرت عائشہ ؓ ناراض ہوتیں تو جب وہ پانی پینے لگتیں تو رسول اکرم ﷺ ان کے ہاتھ سے پیالہ لے لیتے اور جہاں حضرت صدیقہ ؓنے منہ رکھ کے پانی پیا تھا، ان کو دکھا کر اسی جگہ منہ رکھ کر پانی نوش فرماتے……اور ساری ناراضی ختم ہوجاتی۔
حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے مرض الوفات میں دوسری ازواج مطہرات کی اجازت سے حضرت عائشہ ؓ کے حجرے میں منتقل ہوئے،یوں آخری ایا م میں سب سے زیادہ محبوب ﷺ کی خدمت کا شرف حضرت عائشہ ؓ کو ملا،ان کی چبائی ہوئی مسواک حضور ﷺ نے استعمال فرمائی،ان کی گود میں سر رکھ کر اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے اور ان کے حجرے میں مدفون ہوئے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاپر جب منافقین نے تہمت لگائی تھی تو ان کی صفائی کسی انسان نے نہیں دی،بلکہ خود رب کائنات نے آسمان نے دی اور سورہ نور کی تقریباًبیس آیات میں ان کی شانِ معصومیت ایسے بھرپور اور پُراثر و پرکشش انداز میں بیان فرمایاکہ جس سے بہتر انداز میں آپ کی معصومیت کو بیان ہی نہیں کیا جاسکتاتھا، تاقیامت یہ آیات مبارکہ ان کی طہارت، عفت، پاکدامنی اور پاکیزگی کی گواہی دیتی رہیں گی۔ ایک موقع پرحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل آتے ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ آپ نے جواب میں کہا کہ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔اس خصوصیت میں سوائے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے کوئی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شریک نہیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مدح بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:(حضرت)عائشہ(رضی اللہ عنہا)کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پرفضیلت حاصل ہوتی ہے۔(بخاری شریف)
حضرت عمروبن عاص ؓسے روایت ہے کہ ان کے دریافت کرنے پر نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا:”عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب میرے نزدیک عائشہ ؓ اور مردوں میں ان کے والد (ابوبکر)ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااللہ تعالیٰ کی اپنے اوپر ہونے والی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نو(9) خوبیاں ایسی عطا فرمائیں جوکسی عورت کو نہ ملیں:
۱……میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے سب سے محبوب دوست ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی ہوں۔
۲…… مجھے پاکیزہ گھرانے میں پیدا فرمایا گیا،میں نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں اسلام کی ہی بات سنی۔
۳……نکاح سے پہلے میری تصویر حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔
۴……نبی ﷺ نے میرے سوا کسی اور کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا،میرا نکاح فقط سات برس کی عمر میں اور رخصتی نو برس کی عمر میں ہوئی۔
۵……نبی ﷺ پر وحی اس حالت میں بھی نازل ہوجاتی تھی کہ آپ میرے لحاف میں ہوتے تھے،امت کو میری وجہ سے تیمم کی اجازت ملی۔
۶……میں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو کھلی آنکھوں سے دیکھا،اورمجھ سے مغفرت اور رزق کا وعدہ اللہ نے فرمایا ہے۔
۷……میری برأت میں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے وحی نازل فرمائی۔
۸……بوقت وصال نبی اکرم ﷺ کا سرمبارک میری گود میں تھا،آپ کاآخری عمل یہ تھا کہ آپ نے میری چبائی ہوئی مسواک استعمال فرمائی۔
۹……نبی ﷺ کی تدفین میرے حجرے میں ہوئی۔
خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں بھی ان کا فتویٰ قبول کیا جاتا تھا۔حضرت عائشہ صدیقہؓنے شریعت اسلامیہ کے متعلق احکام و قوانین اور اخلاق و آداب کی تعلیم کے حوالے سے نبی ﷺ سے اتنا کچھ حاصل کرلیا تھا کہ علمی اعتبار سے کوئی مرد و عورت ان کی معلومات کے ہم پلہ نہیں تھا۔ آپ اپنی ذات میں فقیہہ،مفسرہ اور مجتہدہ تھیں،تفسیر، حدیث، اسرار شریعت، خطابت اور ادب و انساب میں ان کو کمال حاصل تھا،شعرا کے بڑے بڑے قصیدے ان کو زبانی یاد تھے،آپ کا شمار مدینہ منورہ کے ان علماء میں ہوتا تھا کہ جن کے فتاویٰ پر عام مسلمانوں کو مکمل اور بھرپور اعتماد تھا،یہاں تک کہ بڑے بڑے صحابہ کرام کو بھی کسی مسئلے میں الجھن اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ آپ سے معلوم کرایا کرتے تھے،کیوں کہ سب کو اس بات کا اعتراف تھا کہ حضوراکرم ﷺ کے احکام کی تبلیغ و اشاعت میں ام المؤمنین کا کوئی ثانی نہیں،جیسا کہ ابومسلم عبدالرحمنؒ کا قول ہے کہ حضور ﷺکی احادیث و سنن، فقہی آراء، آیات کے شان نزول اور فرائض (میراث) میں حضرت عائشہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں تھا۔ آپ نے عورتوں، مردوں میں اسلام اور اس کے احکام و قوانین، اخلاق و آداب کی تعلیم دینے میں پوری زندگی گزار کر اسلام کی بہت بڑی خدمات انجام دیں۔ان کا شمار ان صحابہ ؓ میں ہوتا ہے جن سے کثرت سے احادیث مروی ہیں،ان کی مرویات کی تعدا د دو ہزار سے زائدہے۔اہل علم کا کہنا ہے کہ امت کو آدھا دین صرف حضر ت عائشہ ؓ کے وسیلے سے ملا،اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے دو حصے ہیں،گھر کی زندگی اور گھر سے باہر کی زندگی،سرور دو عالم ﷺ کی گھریلو زندگی کا علم امت کو حضرت عائشہ ؓ کے زریعے ہوا۔ حضرت عائشہ ؓ کم سن تھیں اور فطری طور پر انتہائی ذہین اور مجتہدانہ دماغ رکھتیں تھیں،یہی وجہ ہے کہ قربت رسول ﷺ کا جس قدرانھوں نے فائدہ اٹھایا،محبوب کے شب وروز کو محفوظ کیا،یہ انہی کا خاصہ ہے،یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہرسال حج کے لیے مکہ جاتیں،تو آپ کے خیمے میں سائلین کا ہجوم ہوجاتا تھا،جو ان سے مختلف مسائل میں راہ نمائی طلب کرنے کے لیے آتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو عبادت سے بھی بے انتہا شغف تھا، نہایت متقی اور حددرجہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والی تھیں،صرف ایک جوڑا پاس رکھتیں اور اسی کو دھو دھو کر استعمال کیا کرتی تھیں،دن بھر روزہ رکھتیں اور راتوں کو دیر دیرتک جاگ کر عبادت کیاکرتی تھیں،یہ آپؓ کاروز کا معمول تھا،تہجد،قیام اللیل اورچاشت کی نمازخاص اہتمام سے پڑھتی تھیں۔اس درجہ تقویٰ وعبادت کے باوجود رقت قلب کا یہ عالم تھا کہ فکر آخرت میں ہر وقت روتی رہتیں۔
ان کی ایک خوبی ان کی بے بہا سخاوت بھی تھی، اپنے پاس کبھی مال کو جمع نہیں ہونے دیا جیسے ہی کہیں سے کچھ آتا تھا فوراً ہی تقسیم کردیا جاتا۔تقریباًسڑسٹھ(67)غلام آزاد کیے،ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں ستر ہزار کی رقم صدقہ کردی،ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک لاکھ درہم بھیجے،سب کے سب اسی وقت خیرات کردیے،ایک بار ان کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر ؒ نے ایک لاکھ درہم بھیجے،خود بھی روزے سے تھیں،لیکن سب کے سب خیرات کردیے اور افطار کے لیے بھی کچھ بچا کر نہ رکھا۔ایک بار بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے کہا کہ خالہ جان!اتنا زیادہ صدقہ نہ کیا کریں،کچھ اپنے لیے بھی بچا کر رکھ لیا کریں،تو ان سے تین دن تک بات نہ کی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ازدواجی زندگی اس خوبصورتی کے ساتھ گزاری کہ ایک مسلمان عورت کے لیے ان کی زندگی کے تمام پہلو، شادی، رخصتی، شوہر کی خدمت و اطاعت، سوکن سے تعلقات، بیوگی، خانہ داری کے تمام پہلواس قدر روشن ہیں کہ ان کی تقلید کرکے ایک مسلمان عورت دونوں جہاں میں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرخرو ہوسکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد تقریباً اڑتالیس(48) سال تک یہ امت کی محسنہ، عالم اسلام کے شب وروز کو انوارالہٰی اور اسوہئ حسنہ سے مسلسل اور متواتر منور کرتے رہنے کے بعد چند روز علیل رہ کرسترہ(17) رمضان المبارک 58ھ؁ میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی، یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایام خلافت تھے، نماز جنازہ حاکم مدینہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ آپ کے بھتیجوں اور بھانجوں (، عبداللہ بن زبیرؓ،قاسم بن محمدؒ، عبداللہ بن عبدالرحمانؒ، عبداللہ بن ابی عتیق ؒ اور عروہ بن زبیرؒ)نے لحد میں اُتارا اور اس وقت جنت البقیع (مدینہ منورہ) میں محواستراحت ہیں۔ رضی اللہ عنہا وارضاہ!
٭٭٭٭٭
جو ایک ملین مربع میٹر پر مشتل ہے۔ج
ہاں دو ملین لوگ سما سکتے ہیں۔
سالانہ 20 ملین لوگ وہاں جاتے ہیں۔
یہ جگھ کبھی بند نہیں ہوتی، 24 گھنٹے تک کھلی رہتی ہے چار ہزار سال سے۔
وہاں صفائی کس طرح؟ کس انداز سے کی جاتی ہے؟
کس طرح اس جگھ کو صاف کیا جاتا ہے؟ جہاں لاکھوں لوگ جاتے ہیں؟ جہاں ہر وقت لوگ ہوتے ہیں؟
دنیا میں تقریبا ہر جگھ کو تب ہی صاف کیا جاتا ہے جب وہ جگھائیں خالی ہوتی ہیں، جب وہاں کوئی نہیں ہوتا۔
مگر اس جگھ کو کس طرح صاف کریں
جو 24 گھنٹے لوگوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے؟
اگر آپ کو کبھی یہ شرف حاصل ہو کہ آپ بھی مکہ پاک جاکر وہاں حرم شریف میں مطاف کی جگھ صاف کریں تو آپ کو وہاں ایک ایک بات تفصیل سے بتائی جائے گی کہ کس طرح آپ جھاڑو وغیرہ کو پکڑیں گے؟ کس طرح اسے دائیں ہاتھ سے پکڑنا ہے اور کس طرح اسے بائیں ہاتھ سے پکڑنا ہے؟ اور کس طرح لائن میں سب کے ساتھ بھاگتے ہوئے جلدی میں صاف کرنا ہے۔
یہ ٹی وی پر یا وڈیو میں دیکھنا آسان ہوتا ہے مگر وہاں ان صفائی کرنے والوں کے ساتھ بھاگتے ہوئے صفائی کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہوتی۔
وہاں اگر صرف مطاف کو مطلب عمرہ کرنے والی جگھ کو صاف کرنے کے لئے، ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آپ کے پاس صرف اور صرف تیس منٹ ہوتے ہیں۔
اور دن میں اس جگھ کو چار بار صاف کیا جاتا ہے۔
اس جگھ کسی کیمیکل کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ گلاب کے پانی کے ساتھ اور ایسا پانی ہوتا ہے جس سے کسی بھی شخص کو نہ کوئی خارش ہو اور نہ ہی کوئی تکلیف۔ جو بھی وہاں عمرہ کرتا ہے انہیں گلاب کی خوشبو آتی رہتی ہے۔
حرم پاک میں ایسی کوئی جگھ ہی نہیں جس کو صاف نہ کیا جاتا ہو۔
وہاں 1800 صفائی کرنے والے لوگ ہیں، چالیس صفائی کرنے والی گاڑیاں اور 60 صفائی کرنے والی مشینیوں کے ساتھ ساتھ دو ہزار کچرے ڈالنے والے ڈبے ہیں۔
حرم پاک کی زمین صاف کرتے ہیں
دروازے صاف کئے جاتے ہیں
حرم پاک کے اندر لگے مختلف کھمبے، منارے اور چھت بلکہ ہر چیز کی صفائی کی جاتی ہے۔
حرم پاک میں چالیس ہزار قالین ہیں۔
اگر انہیں ایک ساتھ لگائیں جائیں تو وہ مکہ پاک سے سعودیہ کے شہر جدہ تک کے پہنچیں گے مطلب کہ 79 کلو میٹر تک۔
مگر ان کو صاف کس طرح کیا جاتا ہے؟
سب سے پہلے قالین کو مٹی سے صاف کیا جاتا ہے
پھر اسے پانی سے صاف کیا جاتا ہے پھر صابن سے پھر دوبارہ پانی سے صاف کیا جاتا ہے۔
پھر اس قالین کو ایک خاص قسم کی مشین میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ جلد سوکھ جائے جس کے بعد ان کو دوبارہ سے لٹکایا جاتا ہے تاکہ اور اچھی طرح سوکھ جائیں۔
جس کہ بعد ان پر ایک اور بار مشین سے صاف کیا جاتا ہے پھر انہیں پلاسٹک میں لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور وقت آنے پر حرم پاک میں لایا جاتا ہے۔
جب انہیں حرم پاک میں بچھایا جاتا ہے تو اس پر گلاب کا پانی لگایا جاتا ہے تاکہ سجدہ کرتے وقت لوگوں کو گلاب کی خوشبو آئے۔
اس کی وجہ ہے کہ جب آپ سجدہ کریں تو آپ کو گلاب کی خوشبو آئے گی تو آپ کو اچھا لگے گا اور اگر سجدہ کرتے وقت کوئی بدبو آئے تو آپ سجدے سے جلدی سے اٹھ جائیں گے۔
اس لئے وہاں روزانہ قالینوں پر گلاب کا پانی لگایا جاتا ہے تاکہ لوگ سجدہ میں ہمیشہ خشوع میں ہوں۔
حرم پاک کی ہوا پر
خانہ کعبہ کے غلاف پر
حجر اسود پر
ہر جگھ پر خوشبو لگائی جاتی ہے۔
جس نے اس پوسٹ کا پہلا حصہ نہیں پڑھا تو پہلے وہ پڑھ لیں۔
مکہ پاک میں حرم پاک کے باہر 13 ہزار باتھ روم ہیں جن کو روزانہ چار بار صاف کیا جاتا ہے۔
اور یہ باتھ روم زمین کے اندر ہی بنائے گئے ہیں جہاں پنکھے بھی لگائے گئے ہیں اور مچھر، مکھی کو مارنے کا اچھا خاصا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ وہاں پر حال ہی میں ہر جگھ ایک ڈیوائس لگائی گئی ہے جس سے فائدے مند بیکٹیریا نکلتی ہے جو بدبو دار بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے جس سے ایک اچھی خوشبو پیدا ہوتی ہے۔
حرم پاک میں ایسی کوئی جگھ ہی نہیں جہاں آپ کو زمزم کے پانی کا کولر نہ مل سکے، وہاں 25 ہزار زمزم کے پانی کے کولر رکھے گئے ہیں جن کو روزانہ دھویا جاتا ہے اور روزانہ زمزم کے پانی سے بھرا جاتا ہے۔
وہاں روزانہ 100 تک مختلف جگھاوںسے زمزم کے پانی کے نمونے لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں تاکہ پانی کی سلامتی یا پانی کی صفائی کا خاص خیال
رکھا جائے۔
صرف اتنا نہیں بلکہ وہاں ایسے خاص لوگ بھی ہیں جو اپنی کمر پر ایک بیگ کی طرح زمزم کے پانی کا کولر رکھ کر طواف کرنے والوں کو زمزم کا پانی پینے کے لئے دیتے رہتے ہیں۔
اگر آپ کو نہیں پتا تو آج یہ جان لیں کہ زمزم کا کنواں مقام ابراہیم علیہ السلام اور حجر اسود کے درمیاں ہے جو خانہ کعبہ سے 21 میٹر کی دوری پر ہے۔
وہاں سے چار کیلومیٹر کی دوری پر سقیا زمزم نامی ایک سینٹر ہے جہاں زمزم کے پانی کو بوٹلوں میں بھر کر لوگوں کو دیا جاتا ہے، اس کارخانے میں ہر وقت تقریبا 17 لاکھ زمزم کی دس لیٹر والی بوٹلیں رکھنے کی جگھ موجود ہوتی ہے۔
وہاں پر
Maqraa
بھی ہے جس سے پوری دنیا کے لوگ اپنے گھر بیٹے حرم پاک کے قریب مختلف قاری کو قرآن پاک پڑھ کر سنائیں گے اور ان سے سیکھیں گے۔
یہ سروس 24 گھنٹے کی بلکل مفت میں دی جاتی ہے جس کو تین سال ہونے والے ہیں اور اس سروس سے تقریبا 180 ممالک کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔
وہاں پر سعودیہ کے بانی عبدالعزیز کے نام سے غلاف کعبہ کو بنانے کی ایک فیکٹری بھی ہے جہاں ہر سال ایک غلاف کعبہ تیار کیا جاتا ہے۔ اور اگر کسی کو وہاں غلاف کعبہ کی سلائی کرنے کا کام کرنا ہوتا ہے تو اسے پہلے 9 مہینے تک سیکھنا ہوگا پھر اسے وہاں غلاف کعبہ کی سلائی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔
مکہ پاک میں اکثر گرمی ہوتی ہے وہاں کبھی کبھی چالیس یا پچاس ڈگری تک بھی گرمی پہنچ جاتی ہے۔ اس لئے وہاں حرم پاک کی زمین کے اندر ٹھنڈا پانی بھی ہوتا ہے اس لئے وہاں گرمی میں بھی آپ کو حرم پاک کی زمیں پر لگے
Marble
ٹھنڈے لگیں گے۔
مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ
Marble
کہاں سے لائے جاتے ہیں؟
وہ
Marble
یونان نامی ملک کے ایک
Thasos
نامی جگھ سے خاص منگوائے جاتے ہیں۔
صرف اتنا نہیں بلکہ ان
Marble
کو حرم پاک میں اس طرح لگایا جاتا ہے کہ سب کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے تاکہ جب بھی آذان یا نماز ہو تو لوگوں کو یہ پتا چل جائے کہ کس طرف اپنا رخ کر کے نماز پڑھیں
مکہ پاک میں حرم پاک کے لئے ایک
Al Maqsad
نامی اپلیکیشن بھی ہے۔ یہ اپلیکیشن آپ کو حرم پاک کی کسی بھی جگھ پر لے جا سکتی ہے۔
یہ اپلیکیشن عربی، اردو اور انگلش میں بھی ہے۔ اسے کھول کر آپ وہاں کسی بھی جگھ کا راستہ پوچھ سکتے ہیں اور یہ اپلیکیشن آپ کو وہاں تک پہنچا دے گی۔
وہاں پر آواز کا جو سسٹم ہے وہ دنیا کا ایک بڑا سسٹم مانا جاتا ہے جس کی غلطی کی گنجائش زیرو فیصد ہے۔
ما شاء اللہ
یہ بات شاید آپ کو پہلی بار پتا چلے گی کہ وہاں ایک نہیں دو نہیں بلکہ آواز کے چار سسٹم موجود ہے، اگر ایک خراب یا بند ہوجاتا ہے تو دوسرا خود بہ خود چل جائے گا جس سے آذان یا نماز کی آواز کبھی کٹ ہی نہیں سکتی۔
وہاں پر چھ ہزار سپیکر لگائے گئے ہیں اور چار سسٹم ہیں جن کے لئے خاص 50 لوگ رکھے گئے ہیں جو ان کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔
تقریبا 80 فیصد مسلمان عربی نہیں ہیں۔
سب سے زیادہ مسلمانوں والے پانج ممالک جن میں ایک بھی عربی ملک نہیں۔
جن کی خاطر حرم پاک میں 65 مختلف زبانوں کے ترجمے کے قرآن پاک رکھے گئے ہیں۔
صرف اتنا نہیں بلکہ جو لوگ عربی نہیں سمجھتے ان کے لئے پانچ مختلف زبانوں میں جمعے کے دن کا خطبہ چلایا جاتا ہے جس سے وہ اپنے موبایل پر ہی
Headphone
لگا کر پانچ مختلف زبانوں کا خطبہ براہ راست سن سکتے ہیں۔
اور تو اور جن لوگوں کو سنائی نہیں دیتا ان کے لئے وہاں خاص جگھ پر ایک شخص ان کو ہاتھ کے اشاروں سے جمعے کے خطبہ بتاتا رہتا ہے۔
جو لوگ نابینا ہوتے ہیں ان کے لئے ایک خاص قسم کے قرآن پاک وہاں رکھے گئے ہیں جو اپنی انگلیوں سے محسوس کر کے قرآن پاک پڑھتے ہیں۔
وہاں پر دس ہزار وہیل چیئر اور چار سو الکٹرک
وہیل چیئر ہیں جو معذوروں کو بلکل مفت میں دی جاتی ہیں۔
ایک اور خاص قسم کی وہیل چیئر بھی ہے جو ابھی تک نہیں لائی گئی مگر بہت جلد وہ بھی حرم پاک میں لائی جائے گی۔
وہاں پر ایسی الکٹرک وہیل چیئر بھی لائی جا رہی ہی جس پر تین لوگ بھی بیٹھ کر طواف کر سکتے ہیں۔
وہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو باہر سے آئے بزرگ لوگوں کو وہیل چیئر پر بیٹھا کر بلکل مفت میں انہیں عمرہ کرواتے ہیں۔
آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ رمضان مبارک کے مہینے میں حرم پاک میں تقریبا چالیس لاکھ لوگوں کے لئے افطاری کا سامان ہوتا ہے۔ پانچ لاکھ کھجوریں حرم پاک کے اندر اور پانچ لاکھ کھجوریں حرم پاک کے باہر روزے داروں کو دی جاتی ہیں۔ اور روزہ کھولنے کے بعد سب کچھ صرف اور صرف دو منٹ میں صاف کیا جاتا ہے کہ جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
حضرت رابعہ بصری تشریف فرما تھیں کہ خادمہ نے آ کر بتایا کہ باہر
کچھ پانچ مہمان ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کو بٹھائیں اور کھانا کھلائیں۔ خادمہ نے عرض کی کہ باورچی خانے میں تو صرف ایک روٹی ہے اور مہمان چار پانچ ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک روٹی لے جاؤ اور باہر جا کر خیرات کر آؤ۔ اب میری اور آپ کی سوچ تو یہی کہتی ہے کہ ایک ہے تو باقیوں کا انتظام کیا جائے نہ کے جو ہے اسے بھی باہر دے دیا جائےخیر حکم تھا رابعہ بصری کا تو تعمیل کیسے نہ ہوتی۔ خادمہ گئیں اور وہ روٹی باہر جا کر خیرات کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں ہمارے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا آپ نے کہا دیکھو کپڑا اٹھا کر دیکھا تو پانچ روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ جاؤ جلدی سے واپس کر آؤ۔ خادمہ گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں اور میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا دیکھا تو سات روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ واپس کر آؤ۔ خادمہ جلدی سے گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا من علی البابُ۔ دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے اور کہا ہے کہ آپ کو دے کر آنا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا آپ نے دیکھا تو دس روٹیاں تھیں۔ ہاں ہاں یہ ہمارا ہی کھانا ہے جاؤ مہمانوں کو کھلا دو۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔خادمہ نے عرض کی کہ پہلے جو لوگ آ رہے تھے وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ کھانا آپ کا ہے لیکن آپ نے واپس کر دیا۔ حضرت رابعہ بصری نے فرمایا میرا اللہ فرماتا ہے ایک نیکی کرو میں دس کا ثواب دوں گامیں نے اپنے اللہ سے کہا جب تک ایک کے بدلے دس نہیں دے گا تب تک تیری بندی یہ کھانا نہیں لے گی۔فرمایا گیا ہے کہایک ایسی امت ہو گی جو نیکی کا سوچے گی فرشتے اس کی نیکی لکھ دیں گے اور جب وہ نیکی کا کام کرے گی وہ ایک نیکی کرے گی میں دس کا ثواب عطا کروں گا.

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺟﺮ ﮨﻮﺍ
ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺑﺬﺭﯾﻌﮧ ﺑﺤﺮﯼ ﺑﯿﮍﻭﮞ ﮐﮯ
ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺑﯿﮍﮮ, ﺍﻭﻧﭧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺗﯽ
ﻣﻠﮑﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺧﻮﺵ ﮔﭙﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ
ﺗﮭﺎ, ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﺎ
ﮨﺎﺗﮫ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻣﭩﯽ ﺍﭨﮭﺎ
ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﺎ.
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﭼﻼ ﺍﭨﮭﺎ
" ﯾﮧ ﺗﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ"
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺗﺎﺟﺮ ﮐﯽ
ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ.
ﻭﮦ ﻣﭩﯽ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺭﮨﯽ
ﺗﮭﯽ.
ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﺎﺟﺮ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﭘﯿﻼ ﭘﮍ
ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺯﺍﺭﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮓ.
ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
" ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﭘﺮ ﻧﺎﺯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ
ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺭﻭ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ "
" ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻋﺮﻭﺝ ﮐﯽ
ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ
ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ "
ﺗﺎﺟﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﭻ ﻧﮑﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﻨﺪ ﻣﺎﮦ
ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﻔﻠﺲ ﻭ ﻗﻼﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ, ﺍﺱ ﮐﮯ
ﮐﭽﮫ ﺑﯿﮍﮮ ﻗﺰﺍﻗﻮﮞ ﻧﮯ ﻟﻮﭦ ﻟﺌﮯ, ﺟﻮ ﺑﭽﮯ
ﻭﮦ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﮯ
ﮔﮭﺮ ﺑﺎﺭ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﭘﮍﺍ, ﻓﺎﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻮﺑﺖ ﺁﮔﺌﯽ,
ﺳﺐ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ, ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﻘﺮﻭﺽ
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ, ﺍﺏ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺮﺽ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﺎ
ﺗﮭﺎ, ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﻣﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﭙﮑﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺭﺍﮦ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺘﮯ
ﻋﺮﻭﺝ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺍﻝ ﻭ ﺫﻟﺖ
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮔﺎﻣﺰﻥ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ
ﺩﻭ ﺩﻥ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻗﮧ ﺗﮭﺎ, ﻧﮧ
ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻘﺪﯼ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮧ
ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ, ﻣﺎﻟﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﺮﺍﯾﮧ
ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻗﺮﺽ ﺧﻮﺍﮦ ﺭﻗﻢ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ, ﮐﺴﯽ ﻧﮯ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻓﻼﮞ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﭘﺮ ﻟﻨﮕﺮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ
ﮨﮯ, ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺑﮭﺎﮔﻢ
ﺑﮭﺎﮒ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﯽ ﻗﻄﺎﺭ ﻣﯿﮟ
ﻟﮓ ﮔﯿﺎ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎ ﭼﮑﺎ
ﺗﮭﺎ, ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﻨﮕﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﭼﻞ ﭘﮍﺍ, ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﻭﺭ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭨﮭﻮﮐﺮ
ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ, ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﻭﺭ
ﺳﺎﻟﻦ ﺑﮭﯽ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ, ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﭩﻮﻝ
ﮐﺮ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻟﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﻨﺰﻝ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ
ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﻴﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺗﮭﺎ,
ﻭﮨﺎﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﺗﮭﮯ,
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺁﻟﻮﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮭﺎ
" ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ؟ "
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻟﻦ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ
ﮔﻮﺑﺮ ﺭﻭﭨﯽ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻻﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺗﺎﺟﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻨﺴﻨﮯ
ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﺎ ﺧﺰﺍﻧﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ
ﮨﻮ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺗﮏ
ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ
" ﺩﻭ ﺩﻥ ﮐﮯﻓﺎﻗﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ
ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ,
ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺗﻢ
ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ " ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
" ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺫﻟﺖ ﻭ
ﺯﻭﺍﻝ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ, ﺍﻭﺭ ﮨﺮ
ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ
ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ" ﺗﺎﺟﺮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﺮ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﮨﯽ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﮨﯽ ﺍﻣﯿﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ.
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻋﺮﻭﺝ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺖ ﺍﺗﺮﺍﺋﯿﮟ, ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ
ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮ
ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺯﻭﺍﻝ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺗﻮ
ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻣﺖ
ﮨﻮﮞ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﺯﻭﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ
ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ