Articles by "ubqari videos"
Showing posts with label ubqari videos. Show all posts
حضرت رابعہ بصری تشریف فرما تھیں کہ خادمہ نے آ کر بتایا کہ باہر
کچھ پانچ مہمان ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کو بٹھائیں اور کھانا کھلائیں۔ خادمہ نے عرض کی کہ باورچی خانے میں تو صرف ایک روٹی ہے اور مہمان چار پانچ ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک روٹی لے جاؤ اور باہر جا کر خیرات کر آؤ۔ اب میری اور آپ کی سوچ تو یہی کہتی ہے کہ ایک ہے تو باقیوں کا انتظام کیا جائے نہ کے جو ہے اسے بھی باہر دے دیا جائےخیر حکم تھا رابعہ بصری کا تو تعمیل کیسے نہ ہوتی۔ خادمہ گئیں اور وہ روٹی باہر جا کر خیرات کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں ہمارے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا آپ نے کہا دیکھو کپڑا اٹھا کر دیکھا تو پانچ روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ جاؤ جلدی سے واپس کر آؤ۔ خادمہ گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں اور میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا دیکھا تو سات روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ واپس کر آؤ۔ خادمہ جلدی سے گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا من علی البابُ۔ دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے اور کہا ہے کہ آپ کو دے کر آنا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا آپ نے دیکھا تو دس روٹیاں تھیں۔ ہاں ہاں یہ ہمارا ہی کھانا ہے جاؤ مہمانوں کو کھلا دو۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔خادمہ نے عرض کی کہ پہلے جو لوگ آ رہے تھے وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ کھانا آپ کا ہے لیکن آپ نے واپس کر دیا۔ حضرت رابعہ بصری نے فرمایا میرا اللہ فرماتا ہے ایک نیکی کرو میں دس کا ثواب دوں گامیں نے اپنے اللہ سے کہا جب تک ایک کے بدلے دس نہیں دے گا تب تک تیری بندی یہ کھانا نہیں لے گی۔فرمایا گیا ہے کہایک ایسی امت ہو گی جو نیکی کا سوچے گی فرشتے اس کی نیکی لکھ دیں گے اور جب وہ نیکی کا کام کرے گی وہ ایک نیکی کرے گی میں دس کا ثواب عطا کروں گا.

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے۔ ایک آدمی نے بُلند آواز سے پُکار کر کہا "اے خُدا کے رسول علیہ السلام.! آپ اِس وقت کہاں تشریف لے جا رہے ہیں, آپ کے پیچھے کوئی دشمن بھی نظر نہیں آ رہا پھر آخر آپ کی وجہِ خوف کیا ہے۔؟ ۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا "میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں, تُو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال۔"
اُس آدمی نے کہا "یاحضرت آپ کیا وہ مسیح علیہ السلام نہیں ہیں جن کی برکت سے اندھا اور بہرا شفایاب ہو جاتا ہے۔؟" آپ نے فرمایا "ہاں"
اُس آدمی نے کہا "کیا آپ وہ بادشاہ نہیں ہیں جو مُردے پر کلامِ الہٰی پڑھتے ہیں اور وہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔؟" آپ نے فرمایا "ہاں"
اُس آدمی نے کہا "کیا آپ وہ ہی نہیں ہیں کہ مٹی کے پرندے بنا کر اُن پے دَم کر دیں تو وہ اُسی وقت ہَوا میں اُڑنے لگتے ہیں۔؟" آپ علیہ السلام نے فرمایا "بیشک میں وہی ہوں۔" تو اُس شخص نے حیرانگی سے پوچھا کہ "اللّٰہ نے آپ کو اِس قدر قوت عطا کر رکھی ہے تو پھر آپ کو کس کا خوف ہے۔؟"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا "اُس رب العزت کی قسم کہ جس کے اسمِ اعظم کو میں نے اندھوں اور بہروں پر پڑھا تو وہ شفایاب ہو گئے, پہاڑوں پر پڑھا تو وہ ہٹ گئے, مُردوں پر پڑھا تو وہ جی اُٹھے لیکن وہی اسمِ اعظم میں نے احمق پر لاکھوں بار پڑھا لیکن اُس پر کچھ اثر نہ ہُوا۔"
اُس شخص نے پوچھا "یاحضرت, یہ کیا ہے کہ اسمِ اعظم اندھوں, بہروں اور مُردوں پر تو اثر کرے لیکن احمق پر کوئی اثر نہیں کرتا حالانکہ حماقت بھی ایک مرض ہے۔؟" تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا "حماقت کی بیماری خُدائی قہر ہے۔"

درسِ حیات: "بیوقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔"
.. حکایت نمبر 6, کتاب: "حکایاتِ رومی" از حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺹ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻮﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﻤﯽ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ، ﺍﭘﻨﮯ
ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺩﻡ ﭘﺮ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﺌﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺍﭼﮭﺎ، ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ
ﺳﻼﻣﺖ، ﺍﯾﮏ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﺩﺭﮨﻢ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ، ﺻﺮﺍﺣﯽ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﯿﺌﮯ ﺍﺱ
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﺳﻮ ﺩﺭﮨﻢ ﮨﺪﯾﮧ ﮨﮯ، ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭼﮭﭗ ﺟﺎﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ
ﺗﻤﺎﺷﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺠﯿﺌﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ، ﺟﯿﺴﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﯾﺴﮯ ﮐﯿﺎ،
ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺧﺎﺩﻡ ﻧﮑﻼ، ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﺭﺍﮨﻢ
ﮔﻨﮯ ﺗﻮ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﻧﮑﻠﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺳﻮ ﺩﺭﮨﻢ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﻮﭼﺎ : ﯾﻘﯿﻨﺎ
ﺍﯾﮏ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺎﮨﺮ
ﻧﮑﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﺳﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ
ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯽ۔ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﺩﯾﺪﻧﯽ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺑﮏ
ﺑﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﮏ ﺟﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﯼ۔ ﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺴﺖ ﺑﮭﯽ
ﮐﮩﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﮨﻢ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮ ﮮﺩﻥ ﯾﮧ ﻣﻼﺯﻡ
ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺰﺍﺝ ﻣﮑﺪﺭ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮕﺮﺍﺗﮯ،
ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼﮨﭧ، ﺷﮑﻞ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﺮﺩﮔﯽ ﻋﯿﺎﮞ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ
ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮔﺮﺩﺍﮞ ﺭﮦ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ
ﺣﮑﻤﺖ ﺳﮯ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺭُﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮍﺍ
ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺳﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻘﻮﺩ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﮞ ﺭﮦ ﮐﺮ
ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻣﺰﺍﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﮑﺪﺭ
ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﻣﻞ ﭼﮑﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﺎ
ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻣﺎﻧﯿﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﻔﯿﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺷﮑﺮﮔﺰﺍﺭ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﯿﺌﮯ۔ ﺍﻟﻠﻪ
ﭘﺎﮎ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔

ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﮯﯾﮩﺎﮞ ﭘﺎﻧﭻ
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ______________۔ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ
ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺑﻼ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ”ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﺿﻊ
ﮐﯿﻠﺌﮯﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ﮨﯽ?“
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ
ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺳﮯﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ? ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺣﺼﮯﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﮨﯽ ﺁﺋﮯﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﮯﭘﺎﺱ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯﺁﺋﯿﮟ۔
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﮔﺰﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﻧﮯﺩﺭ ﭘﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯼ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ
ﺩﮮﺩﻭ ﺟﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮﮐﮯﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﯽ۔ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﮯﺣﮑﻢ ﮐﯽ
ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻣﺼﺮﻭﻑ
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ۔ ” ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ
ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ “
”ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ?“ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺧﺎﺩﻣﮧ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ
ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯﮨﻤﺎﺭﮮﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﯽ۔ “ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺍﻃﻼﻉ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ
ﺁﯾﺎ ﮨﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺟﻮﺍﺑﺎً ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔
” ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻﻧﮯﻭﺍﻟﮯﺳﮯﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯﮐﮩﮧ ﺩﻭ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯽ۔“
ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻣﺴﺮﺕ
ﮐﮯﻟﮩﺠﮯﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ”ﮨﺎﮞ ! ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﯽ۔ ﺍﺳﮯﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ “
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﻣﻨﮯﺳﺠﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﭼﮑﮯﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﺋﯽ۔ ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ
ﺗﯿﺴﺮﮮﺷﺨﺺ ﮐﮯﻻﺋﮯﮨﻮﺋﮯﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎﺭﺍﺯ
ﮨﯽ؟
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯﮨﻮﺋﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔”ﺣﻖ
ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﺩﺱ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﺮ
ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺩﻭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﻮ
ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ
ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮﮐﺮ ﺭﺯﺍﻕ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮔﯿﺎﺭﮦ
ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮐﺴﯽ ﺗﺮﺩﺩ ﮐﮯﺑﻐﯿﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﯿﻦ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯﻭﺍﻟﮯﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺭﺯﺍﻗﯽ ﮐﻮ
ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺩﺱ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯﻭﮦ ﺑﮭﯽ
ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ “
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﯽ ﺻﺒﺮﻭﻗﻨﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔۔
"ﮔﻠﺪﺳﺘﮧﺀﺍﻭﻟﯿﺎﺀ"