Articles by "sabaq amoz"
Showing posts with label sabaq amoz. Show all posts
ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻗﺤﻂ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻗﺤﻂ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﻤﺮﻗﻨﺪ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺗﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻓﮧ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﺍﮐﺶ ﺗﮏ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺤﻂ ﺳﮯ ﻧﻤﭩﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺪﺑﯿﺮﯾﮟ ﺁﺯﻣﺎ ﻟﯿﮟ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻏﻠﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﺋﯿﮯ ‘ ﭨﯿﮑﺲ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ‘ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻟﻨﮕﺮ ﺧﺎﻧﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﺮﺍﺀﺍﻭﺭ ﺗﺎﺟﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻮﺑﻼﺋﺰ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﺷﺪﯾﺪ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﮐﻮ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ‘ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﮐﺎﺍﺳﺘﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﻧﮯ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺧﺎﻟﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ” ﺍﺳﺘﺎﺩﻣﺤﺘﺮﻡ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺟﺴﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ “ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻃﯿﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﻣﻘﺪﺭ ‘ ﻗﺴﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺗﺸﺮﯾﺢ ﮨﮯ۔
ﺁﭖ ﺍﮔﺮﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩﮨﺮﺍ ﺩﻭﮞ “ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ” ﯾﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻓﻮﺭﺍً ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮏ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ “ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺧﺎﻟﺪ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﺭﯾﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ‘ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﮞ ‘ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﻣﮯ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ “ ﺷﯿﺮ ﻧﮯ ﺣﺎﻣﯽ ﺑﮭﺮ ﻟﯽ ‘ ﺑﻨﺪﺭﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﭽﮧ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺷﯿﺮ ﻧﮯ ﺑﭽﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ ‘ ﺑﻨﺪﺭﯾﺎ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﮔﺌﯽ ‘ ﺍﺏ ﺷﯿﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺑﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻞ ﻧﮯ ﮈﺍﺋﯽ ﻟﮕﺎﺋﯽ ‘ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭽﯽ ‘ ﺑﻨﺪﺭﯾﺎ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ‘ ﺷﯿﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺩﻭﮌﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﭼﯿﻞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭘﮑﮍ ﺳﮑﺎ “ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺧﺎﻟﺪ ﺭﮐﺎ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺑﻨﺪﺭﯾﺎ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺷﯿﺮ ﻧﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﭽﮧ ﺗﻮ ﭼﯿﻞ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ‘ ﺑﻨﺪﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﻼ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ” ﺗﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﻮ ‘ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ‘ ﺗﻢ ﺍﺱ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻼﺅ ﮔﮯ “ ﺷﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺳﮯ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ
” ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﮔﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻓﺖ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺁﻓﺖ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﻓﺘﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭﺍﻻ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﺤﯿﯽٰ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﻧﮯ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻗﺤﻂ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺁﻓﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ ‘ ﺍﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﺭﮐﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮧ ﺑﻨﯿﮟ ‘ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﻨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺁﻓﺖ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﻓﺘﯿﮟ ﺩﻭ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘
ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﻣﺼﯿﺒﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﺁﻓﺘﯿﮟ۔
ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺁﻓﺖ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﺁﻓﺖ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻣﺘﺤﺪ ﮨﻮﻧﺎ ‘ ﻭﺳﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺧﻼﺹ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﺤﯿﯽٰ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﻧﮯ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
<<<< ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺁﻓﺘﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﻮ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺁﻓﺖ ﮐﺎﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ
ﺁﭖ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮯ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﮔﺮ ﺟﺎﺋﯿﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ ‘
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻣﺎﻧﮕﯿﮯ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺋﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺋﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭼﻨﺪ ﺍﻧﭻ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﻃﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ۔ 

حضور اکرم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا مکان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی مسجد سے ملا ھوا تھا اور گھر کا پرنالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا.. بعض دفعہ پرنالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ھوتی.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا.. اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے..

حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا.. انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا.. سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ھے اس لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ھوں اور مقدمے کی پیروی کریں.. حضر ت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ھوگئے..

حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باھر کھڑے ھو کر انتظار کرنا پڑا.. مقدمہ پیش ھوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہنا چاھا لیکن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ھے کہ وہ پہلے دعوی' پیش کرے..

مقدمے کی کاروائی شروع ھوئی.. حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ " جناب عالی! میرے مکان کا پرنالہ شروع سے ھی مسجد نبوی کی طرف تھا.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگی میں پرنالہ اکھڑوا دیا.. مجھے انصاف فراھم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ھوا ھے.. "

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " بے شک تمہارے ساتھ انصاف ھوگا.. امیر المومنین! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟ "

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں.. نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ھے یہ ناجائز نہیں ھے.. "

ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ھوئے کہ وہ کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اصل بات یہ ھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کر دئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں.. میں نے ایسے ھی کیا.. پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے کندھوں پر کھڑا ھو کر یہاں پرنالہ لگاؤں..

میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے احترام کی وجہ سے انکار کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے بہت اصرار کیا.. میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ھوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے اکھڑوا دیا.. "

قاضی نے پوچھا.. " آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ھیں..؟ "

حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باھر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواھی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑے ھو کر نصب کیا تھا..

مقدمے کی گواھی کے ختم ھونے بعد خلیفہ وقت نگاھیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھے.. یہ وہ حکمران تھے جن کے رعب اور خوف سے قیصر و کسری" بھی ڈرتے تھے..

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا.. " اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو.. مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پرنالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں لگوایا ھے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا.. جو غلطی مجھ سے ھوئی وہ لاعلمی میں ھوئی.. آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کر یہ پرنالہ وھاں لگادیں.. "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " ھاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ھے.. " اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والا حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پرنالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے..

پرنالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا.. " امیر المومنین ! میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے کیا.. جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا.. اب میں آپ سے بےادبی کی معافی مانگتا ھوں.. "

اس کے ساتھ ھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ مکان گِرا کر مسجد میں شامل کرلیں تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ھوئی وہ بھی کم ھوجائے..
بحوالہ " سیرت الانصار "
اللہ سے دعا ھے کہ ھماری عدالتوں کو بھی حق کا فیصلہ دینے کی توفیق دے اور ایسے حکمران بھی دے جو خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں.. آمین..