Articles by "prohpet stories"
Showing posts with label prohpet stories. Show all posts

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد، حضرت سارہؑ سے ہوئی، لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ایک دن حضرت سارہؑ نے اُن سے فرمایا’’ آپؑ، ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ تعالیٰ اُن کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘ دراصل، یہ سب کچھ مِن جانب اللہ ہی تھا۔ چناں چہ، آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ 86سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور’’ اسماعیل‘‘ نام رکھنے کو کہا۔ حضرت اسماعیلؑ اٹھارہ سو قبلِ مسیح میں پیدا ہوئے۔

ایک نئی آزمائش

حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ اُنھیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ بہ حکمِ الہٰی نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دُور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا، نہ چرند پرند۔اور آدم تھا، نہ آدم زاد۔

بے آب و گیاہ ویرانے میں

وادیٔ فاران کے سنگلاخ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا کے ایک بوڑھے درخت کے نیچے، اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ چند روز سے قیام پزیر ہیں۔ جو زادِ راہ ساتھ تھا، ختم ہو چُکا۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں کو اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری اَمر ہے، لیکن اس لق و دق صحرا میں پانی کہاں…؟جوں جوں لختِ جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں قریب واقع پہاڑی،’’صفا‘‘پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔ تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی’’مروہ‘‘پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔

آبِ زَم زَم کا جاری ہونا

ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت جبرائیل امینؑ کے ذریعے شیر خوار اسماعیلؑ کے قدموں تلے دنیا کے سب سے متبرّک اور پاکیزہ پانی کا چشمہ جاری کر کے رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام دے دیا کہ اللہ پر توکّل کرنے والے صابر و شاکر بندوں کو ایسے ہی بیش قیمت انعامات سے نوازا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ’’ اللہ پاک، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی والدہ پر رحمت فرمائے، اگر وہ پانی سے چُلّو نہ بھرتیں اور اُسے رُکنے کا نہ کہتیں، تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔‘‘ آبِ زَم زَم غذا بھی ہے اور شفا بھی۔ دوا ہے اور دُعا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ماں، بیٹے کے لیے بہترین غذا کا بندوبست کیا، بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے فیض یاب ہونے کا وسیلہ بنا دیا۔

مقدّس ترین شہر

حضرت ہاجرہؑ اپنے صاحب زادے کے ساتھ وہیں رہ رہی تھیں کہ ایک روز عرب کے قبیلے، بنو جرہم کے کچھ لوگ پانی کی تلاش میں وہاں پہنچے اور حضرت ہاجرہؑ کی اجازت سے وہاں رہائش اختیار کر لی۔ پھر دوسرے قبائل بھی وہاں آ آ کر آباد ہوئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ سُنسان صحرا دنیا کے سب سے مقدّس و متبرّک اور عظیم شہر، مکّہ مکرّمہ میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ہاجرہؑ نے بیٹے کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر خصوصی توجّہ دی۔

سِکھائے کس نے آدابِ فرزندی

تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پَلک جھپکتے گزر گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام مکّے کی مقدّس فضائوں میں آبِ زَم زَم پی کر اور صبر و شُکر کی پیکر، عظیم ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے مالک، خُوب صورت نوجوان کا رُوپ دھار چُکے تھے کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السّلام تشریف لائے اور فرمایا’’اے بیٹا!مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمھیں ذبح کر رہا ہوں، تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟(فرماں بردار بیٹے نے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہوئے فرمایا)،ابّا جان! آپؑ کو جو حکم ہوا ہے، وہی کیجیے۔اللہ نے چاہا، تو آپؑ مجھے صابرین میں پائیں گے۔‘‘(سورۃ الصٰفٰت102:37) حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا؎ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔

مِنیٰ کی جانب سفر اور شیطان کی چالیں

حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کا جواب سُنا، تو اُنہیں سینے سے لگایا اور حضرت ہاجرہؑ کے پاس لے آئے۔ فرمایا’’ اے ہاجرہؑ!آج ہمارے نورِ نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجیے۔‘‘ممتا کے مقدّس، شیریں اور اَن مول جذبوں میں ڈوبی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک پہنائی۔ آنکھوں میں سُرمہ، سَر میں تیل لگایا اور خُوش بُو میں رچا بسا کر باپ کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار کر دیا۔اسی اثنا میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی ایک تیز دھار چُھری کا بندوبست کر چُکے تھے۔ پھر بیٹے کو ساتھ لے کر مکّے سے باہر مِنیٰ کی جانب چل دیئے۔شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی۔ جب اُس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہو گیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ چناں چہ’’ جمرہ عقبیٰ‘‘ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ’’ جمرہ وسطیٰ‘‘ کے مقام پر پھر وَرغلانے کے لیے آ موجود ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے دوبارہ کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ’’ جمرہ اولیٰ‘‘ کے مقام پر پھر موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو ابراہیم خلیل اللہؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔“
ﮐﻢ ﺳِﻦ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﻓﺘﺢ
ﻗﻮﻡِ ﻋﻤﺎﻟﻘﮧ ﮐﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﻭ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﻒ ﺍٓﺭﺍ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺣﻀﺮﺕ ﻃﺎﻟﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻢ ﻋُﻤﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﻠﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻧﻮ ﻋُﻤﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺳﺎﻣﺎﻥِ ﺣﺮﺏ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺋﮯ، ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺭﻋﻮﻧﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒّﺮ ﺳﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﮨﻞِ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕِ ﻣﺒﺎﺭﺯﺕ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺻﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﮐﻢ ﻋُﻤﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻋﻘﺎﺏ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﺮﻕ ﺭﻓﺘﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﻟﻠﮑﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ، ﻟﺤﯿﻢ ﺷﺤﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﻟﻘﺎﻣﺖ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺗﻮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ’’ ﺟﺎ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺩُﻭﺭ ﮨﻮ ﺟﺎ، ﻣَﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ‘‘ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﮔﺮﺝ ﺩﺍﺭ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ۔ ‘‘ ﭘﮭﺮ ﻓﻠﮏ ﭘﺮ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺗﯿﺰ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺽ ﻭ ﺳﻤﺎ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻏﻠﯿﻞ ﺳﮯ ﮔﻮﻟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮑﻠﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺳﮯ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺘﮑﺒّﺮ ﺳَﺮ ﭘﺎﺵ ﭘﺎﺵ ﮨﻮ ﭼُﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺖ ﻭَﺭ ﺟﺴﻢ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﻭﻧﺪﮬﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍِﺗﻨﺎ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﯽ ﺍﺳﻠﺤﮯ ﺳﮯ ﻟﯿﺲ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﯽ ﻧﮧ ﻣﻼ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﯾﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼَﺮﺍﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﯿﻞ ﺳﮯ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍٓﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﺭﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﺑﮭﮕﺎﺗﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮍﮮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍُﺳﮯ ﻧﺒﻮّﺕ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻨﺼﺐ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﻧﮯ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﺨﺸﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﺟﻦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﺎﮨﺎ، ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺩﯾﺎ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ، 251 ‏)
ﺣﺴﺐ ﻧﺴﺐ، ﻧﺒﻮّﺕ ﻭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﯽ
ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ 965 ﻗﺒﻞِ ﻣﺴﯿﺢ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍٓﭖؑ ،ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺤﻤّﺪ ﺑﻦ ﺍﺳﺤﺎﻕؓ، ﺣﻀﺮﺕ ﻭﮨﺐ ﺑﻦ ﻣﻨﺒﮧؒ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﭘَﺴﺘﮧ ﻗﺪ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﯿﻠﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺑﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺗﮭﮯ، ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﺟﮭﻠﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﻢ ﺩﺭﺩ، ﻗﻮﯼ، ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﮉﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﺣﮑﻢ ﺭﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﻮّﺕ ﺗﺤﻔﮧٔ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﺒﻮّﺕ ’’ ﺍٓﻝِ ﻻﻭﯼ ﺑﻦ ﯾﻌﻘﻮﺏؑ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺍٓﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﺖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ’’ ﯾﮩﻮﺩﺍ ﺑﻦ ﯾﻌﻘﻮﺏؑ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏّ ﺍﻟﻌﺰّﺕ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻋﺰﺍﺯﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﺋﯿﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ، ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﻧﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮭﯽ۔ ﺍﻧﺒﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡؑ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍٓﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮨﯽ ﻭﮦ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﯿﮟ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ’’ ﺧﻠﯿﻔﮧ ‘‘ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﺍﮮ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ، ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺣﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮﻭ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭﮦٔ ﺹ 26 : ‏)
ﺯﺑﻮﺭ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ
ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻌﺾ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﻌﺾ ﭘﺮ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺑﺨﺸﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﻮ ﺯﺑﻮﺭ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﯽ۔ ‘‘ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩِ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﻮ ﺯﺑﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ‘‘ ‏( ﺍٓﯾﺖ 163 ‏) ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻐﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺯﺑﻮﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﻮﺭﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﺩﻋﺎﺋﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﻤﺪ ﻭ ﺛﻨﺎﺀ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﺎﮨﻢ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﻭ ﺣﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﻭ ﺣﺪﻭﺩ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺯﺑﻮﺭ ﮐﮯ ﻟﻐﻮﯼ ﻣﻌﻨﯽ ’’ ﭘﺎﺭﮮ ‘‘ ﯾﺎ ’’ ﭨﮑﮍﮮ ‘‘ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺭﺍﺻﻞ، ﺯﺑﻮﺭ ﮐﮯ ﻧﺰﻭﻝ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﯾﮧ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼّﮧ ﯾﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﮨﮯ۔ ﺯﺑﻮﺭ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺣﻤﺪ ﻭ ﺛﻨﺎﺀ ﺳﮯ ﻣﺰﯾّﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺩِﻝ ﻧﺸﯿﻦ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺍﻭﺭ ﺳﺤﺮ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻟﺤﻦ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖؑ ﺟﺐ ﺯﺑﻮﺭ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ، ﺗﻮ ﻭﺟﺪ ﺍٓﻓﺮﯾﻦ ﺗﻼﻭﺕ ﺳﮯ ﻣﺴﺤﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭼﺮﻧﺪ، ﭘﺮﻧﺪ، ﺩﺭﺧﺖ، ﭘﮩﺎﮌ، ﺟﻦ ﻭ ﺍﻧﺲ، ﺩﺭﯾﺎ ﻭ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺣﻤﺪ ﻭ ﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ’’ ﻟﺤﻦِ ﺩﺍﺋﻮﺩﯼ ‘‘ ﺿﺮﺏ ﺍﻟﻤﺜﻞ ﮨﮯ۔ ﻣﺴﻨﺪِ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦؓ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝِ ﺍﮐﺮﻡﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ’’ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﭘﺮ ﻗﺮﺍٔﺕ ﮐﻮ ﺍٓﺳﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﺯﯾﻦ ﮐﺴﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺯﯾﻦ ﮐَﺴﯽ ﺟﺎﺗﯽ، ﺍٓﭖؑ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﺑﻮﺭ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮ ﭼُﮑﮯ ﮨﻮﺗﮯ۔ ‘‘ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢﷺ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺍﺷﻌﺮﯼؓ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕِ ﻗﺮﺍٓﻥ ﺳُﻨﺘﮯ، ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ’’ ﺍﺑﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ’’ ﻟﺤﻦِ ﺩﺍﺋﻮﺩﯼ ‘‘ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‘‘
ﻗﺮﺍٓﻥِ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺫﮐﺮ
ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ 9 ﺳﻮﺭﮦٔ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ، ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ، ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﻟﻤﺎﺋﺪﮦ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﻻﻧﻌﺎﻡ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﻻﺳﺮﺍﺀ، ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ، ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﻨﻤﻞ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺹ ﻣﯿﮟ 16 ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ۔ ﺑﻌﺾ ﺳﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮﺩﮦ ﮐﺘﺎﺏ، ﺯﺑﻮﺭ ﮐﺎ ﺗﯿﻦ ﺳﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ۔
ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ، ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ’’ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺴﺨّﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺨّﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ‘‘ ‏( ﺍٓﯾﺖ :79 ‏) ﻧﯿﺰ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺹ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﻮ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺯﯾﺮِ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﻤﻊ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﮞ ﺑﺮﺩﺍﺭ ﺗﮭﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺍٓﯾﺖ :19 ‏) ﻣﻔﺴّﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ، ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﯾﮟ، ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﮐﻮ ﺩُﮨﺮﺍﺋﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺯﺑﻮﺭ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﺗﮯ، ﺗﻮ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﺮ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺫﮐﺮِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﺎﮌ، ﺷﺠﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏّ ﺍﻟﻌﺰّﺕ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺍﻟﮓ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺷﻌﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ’’ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍُﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﻮ ﺍُﺳﮯ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﺎﺩ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ۔ ﮨﺎﮞ ! ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺍٓﯾﺖ :44 ‏)
ﻟﻮﮨﺎ، ﻣﻮﻡ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﯾﮧ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﻮ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺮﻡ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ۔ ﺍﺭﺷﺎﺩِ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﺯِﺭﮨﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﮍﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻭ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻭ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭﮦٔ ﺳﺒﺎ 10,11 : ‏) ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼؒ، ﻗﺘﺎﺩﮦؒ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻤﺶؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﺍٓﮒ ﻭ ﺑﮭﭩّﯽ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍُﺳﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﻟﻮﮨﺎ ﻣﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺘﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻭﺯﺍﺭ ﮐﯽ، ﻭﮦ ﻣﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮐﮍﯾﺎﮞ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻗﺘﺎﺩﮦؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ، ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺯِﺭﮦ ﺑﻨﺎﺋﯽ، ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺻﺎﻑ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﯽ ﺯِﺭﮨﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺑﻦِ ﺷﻮﺯﺏؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍٓﭖؑ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺯِﺭﮦ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ، ﺟﻮ ﭼﮭﮯ ﺳﻮ ﺩﺭﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮨﻮﺗﯽ۔
ﺯِﺭﮦ ﺳﺎﺯﯼ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ’’ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ‏( ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﻮ ‏) ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮨﻨﺮ ﺳِﮑﮭﺎﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺿﺮﺭ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﭽﺎﺋﻮ ﮨﻮ۔ )‘‘ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ :80 ‏) ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦِ ﻋﺴﺎﮐﺮؒ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ’’ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﮐﯿﺴﮯ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﭼﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝ ﻭ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻋﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺍٓﺭﺍﻡ ﻭ ﻋﯿﺶ ﺳﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍٓﭖؑ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ، ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ، ﺗﻮ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﻋﺎﺩﺕ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ۔ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻋﯿّﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ، ﺗﻮ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ۔ ‘‘ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ؟ ‘‘ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﮐﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﺩُﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ’’ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺳِﮑﮭﺎ ﺩﮮ، ﺟﻮ ﻣَﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍُﺟﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﺳﮑﻮﮞ۔ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﺑﻼ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮐﺮﻭﮞ۔ ‘‘ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺩُﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺯِﺭﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮨﻨﺮ ﺳِﮑﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ، ﺝ 7 ، ﺹ 262 ‏)
ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭ، ﺟﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﻗﻮّﺕ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻭﮦ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭﮦٔ ﺹ :17 ‏) ﻣﻔﺴّﺮﯾﻦ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺍٓﯾﺖِ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺪﯾﺚِ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧؐ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻧﻤﺎﺯ، ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺭﻭﺯﮮ، ﺩﺍﺋﻮﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻧﺼﻒ ﺭﺍﺕ ﺗﮏ ﺳﻮﺗﮯ، ﭘﮭﺮ ﺍُﭨﮫ ﮐﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﺗﮩﺎﺋﯽ ﺣﺼّﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺣﺼّﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻧﺎﻏﮧ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺍﺭ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭﻣﺴﻠﻢ ‏) ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺘﺪﺍ ﻭ ﭘﯿﺸﻮﺍ ﺗﮭﮯ، ﺍٓﭖؑ ﻋﺪﻝ ﻭ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺍﻭﺭ ﺯﮨﺪ ﻭ ﺗﻘﻮﯼٰ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﮯ۔ﺍٓﭖؑ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺧﻄﯿﺐ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﻤﺪ ﻭﺛﻨﺎ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ’’ ﺍَﻣّﺎﺑﻌﺪ ‘‘ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ ‏)
ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﺖ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﻮ ﻧﺒﻮّﺕ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺍٓﭖؑ ﻓﻦِ ﺧﻄﺎﺑﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺑﮭﯽ ﺧُﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﻟﮩٰﺬﺍ، ﺩﺭﺱ ﻭ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺍﻭﺭ ﻭﻋﻆ ﻭ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮧٔ ﺟﮩﺎﺩ ﺍُﺑﮭﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﮐﻔﺎﺭ ﻭ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﮓ ﭘﺮ ﺍٓﻣﺎﺩﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩِ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍُﺱ ‏( ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ‏) ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺣﮑﻤﺖ، ﻧﺒﻮّﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﻗﻮّﺕ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭﮦٔ ﺹ :20 ‏) ﺑﮩﺖ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ، ﻋﺮﺍﻕ، ﺷﺎﻡ، ﺩﻣﺸﻖ، ﺷﺮﻕِ ﺍﺭﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﯿﺞِ ﻋﻘﺒﮧ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﺕ ﺗﮏ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﯿﺶ ﺗﺮ ﻋﻼﻗﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺯﯾﺮِ ﻧﮕﯿﮟ ﺍٓ ﭼُﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﻨﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ’’ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍُﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺧُﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ، ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﮯ ﺩﻥ ‏( ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ‏) ﻣﯿﮟ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺫﻟﯿﻞ ﻭ ﺧﻮﺍﺭ ﺑﻨﺪﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ :65 ‏) ﻣﻔﺴّﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ، ﺻُﻮﺭﺗﯿﮟ ﻣﺴﺦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﺍٓﯾﺎ۔ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺻﺮﻑ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﺮ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﮐﺎﻡ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺷﻮﻗﯿﻦ ﺍُﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﯽ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺷﮑﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﻣﺮ ﮔﺌﮯ۔ ﺗﻔﺴﯿﺮِ ﻗﺮﻃﺒﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩ ﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﯿﻠﮯ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﭘﮑﮍﯾﮟ، ﭘﮭﺮ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺗﻮ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻭ ﺻﻠﺤﺎ ﺗﮭﮯ،ﺟﻮ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ ﺣﺼّﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺣﺼّﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺳﻨّﺎﭨﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ، ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺻُﻮﺭﺗﯿﮟ ﻣﺴﺦ ﮨﻮ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻗﺘﺎﺩﮦؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﻥ، ﺑﻨﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﮌﮬﮯ، ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍٓ ﮐﺮ ﺭﻭﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﻤﺴﻮﺥ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩؓ ﺳﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻨﺰﯾﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕؐ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ’’ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﻣﺴﺦ ﺷﺪﮦ ﺷﮑﻠﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﺍٓﭖﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ’’ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺦ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ‏( ﺑﻠﮑﮧ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﮨﻼﮎ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‏) ۔ ﺑﻨﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ ‘‘ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ، ﺝ ﺍﻭّﻝ، ﺹ 243 ‏)
ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ
ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋُﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ ﻋﺮﯾﺾ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦِ ﻋﺒﺎﺱؓ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﭨﮑﮍﯾﺎﮞ ﺍَﺑﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﻓﮕﻦ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍٓﭖؑ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﺻﺮﻑ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮭﯽ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻟﻨّﺎﺱ ﮐﯽ ﮐﺜﯿﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ؑﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﺎﺭﻭﻥؑ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻏﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ‏( ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮ ‏

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﺎﺭﻭﻥؑ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖؑ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻧﻮ ﺳﻮ ﻗﺒﻞِ ﻣﺴﯿﺢ ﺍُﺭﺩﻥ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ’’ ﺟِﻠﻌﺎﺩ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻨﺪ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺫﮐﺮِ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﻭ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﺍٓﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺍﺳﻢِ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ، ﺳﻮﺭﮦٔ ﺻﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ، ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﺧﺘﺼﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻭ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺍﻭﺭ ﻭﻋﻆ ﻭ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ۔ ﺳﻮﺭﮦٔ ﺻﺎﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﺍٓﯾﺖ 123 ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ‘‘ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻟﯿﺎﺱ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﯾﻮﺣﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ’’ ﺍﯾﻠﯿﺎ ﻧﺒﯽ ‘‘ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﻧﺴﺐ ﻧﺎﻣﮧ ﯾﻮﮞ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ’’ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﻦ ﯾﺎﺳﯿﻦ ﺑﻦ ﻓﺨﺎﺹ ﺑﻦ ﯾﻌﺰﺍﺯ ﺑﻦ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﯾﺎ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺯ ﺑﻦ ﺍﻟﯿﻌﺰﺍﺯ ﺑﻦ ﮨﺎﺭﻭﻥ ۔ؑ ‘‘

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﯽ ﺑﻌﺜﺖ

ﻗﺮﺍٓﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﺐ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﮨﻮﺋﮯ؟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻣﺘﻔّﻖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍٓﭖؑ، ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺰﻗﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺴﻊ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺩﻭ ﺣﺼّﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭧ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺣﺼّﮧ ﯾﮩﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﯾﮩﻮﺩﯾﮧ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ، ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪِﺱ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺣﺼّﮧ، ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﭘﺎﯾﮧٔ ﺗﺨﺖ ﺳﺎﻣﺮﮦ ‏( ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻧﺎﺑﻠﺲ ‏) ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﮑﻢ ﺭﺍﮞ ﺗﮭﺎ، ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﻣﯿﮟ ’’ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﺗﻮﺍﺭﯾﺦ ﻭ ﺗﻔﺎﺳﯿﺮ ﻣﯿﮟ ’’ ﺍﺟﺐ ﯾﺎ ﺍﺧﺐ ‘‘ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ، ﺍﯾﺰﺑﻞ، ’’ ﺑﻌﻞ ‘‘ ﻧﺎﻣﯽ ﺑُﺖ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺎﺭ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮔﺎﮦ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺧﻄّﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﯿﮟ۔ ‏( ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦِ ﺟﺮﯾﺮ، ﺝ 23 ، ﺹ 53 ‏) ﻣﻮٔﺭﺧﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮّﯾﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺘﻔّﻖ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﻣُﻠﮏِ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻔﺮ ﻭ ﺷﺮﮎ ﺍﻭﺭ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺭﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺍٓﺋﯿﮟ۔
ﻗﻮﻡِ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺩﯾﻮﺗﺎ

ﺑﻌﻞ ﺑُﺖ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑُﺖ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﺪ 20 ﮔﺰ ﺗﮭﺎ، ﭼﺎﺭ ﻣﻨﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺗﮭﮯ۔ ‏( ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻤﻌﺎﻓﯽ ﺟﻠﺪ 23 ، ﺹ 627 ‏) ﯾﻤﻦ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﯾﮩﯽ ﺗﮭﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﯿﮑﮍﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ،ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺷﻊ ؑ ﺑﻦ ﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺩَﻭﺭﺍﻥ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻣﯿﻠﮯ ﻟﮕﺘﮯ، ﻣﻨّﺘﯿﮟ ﻣﺎﻧﯽ ﺟﺎﺗﯿﮟ، ﺳﻮﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻧﺬﺭﺍﻧﮯ ﭼﮍﮬﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ، ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﺑُﻮﺋﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻧﯽ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﺧﺎﺹ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﻨﭧ ﺑﮭﯽ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻋﺒﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺍٓﻗﺎ، ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ، ﻣﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﻌﻞ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﻣﻮٔﺭﺧﯿﻦ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺠﺎﺯ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺑُﺖ، ﮨﺒﻞ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﻞ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﮑﻞ ﺗﮭﺎ۔ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩِ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﮯ ’’ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ’’ ﺗﻢ ﮈﺭﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺑﻌﻞ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ‏( ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﭘﻮﺟﺘﮯ ﮨﻮ ‏) ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﮔﻠﮯ ﺑﺎﭖ، ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮨﮯ ‘‘ ، ﺗﻮ ﺍُﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ ﺩﯾﺎ۔ ﺳﻮ، ﻭﮦ ﺩﻭﺯﺥ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﮨﺎﮞ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺧﺎﺹ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﺒﺘﻼﺋﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ‏( ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ‏) ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮐﮭﺎ۔ ﺍِﻝ ﯾﺎﺳﯿﻦ ‏( ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ‏) ﭘﺮ ﺳﻼﻡ ﮨﻮ۔ ﺑﻼﺷﺒﮧ ﮨﻢ ﻧﯿﮑﻮ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﻟﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺳﻮﺭﮦٔ ﺻﺎﻓﺎﺕ 132 ۔ 123 ‏)

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﻣُﻠﮏِ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﮩﺮ ’’ ﺑﻌﻠﺒﮏ ‘‘ ‏( Baalbek ‏) ﮐﻮ ﺭُﺷﺪ ﻭ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﻌﻞ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﮐﺎ ﺑُﺖ ﺍﺳﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑُﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ، ﺳﺘﺎﺭﮦ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻔﺮ ﻭ ﺷﺮﮎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﯾﻢ ﻣﺮﮐﺰ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﻌﻠﺒﮏ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺑُﺖ، ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﺗﮭﺎ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻔﺮﺳﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﻭﻋﻆ ﻭ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺎ ﺍٓﻏﺎﺯ ﮐﯿﺎ۔ﺍٓﺝ ﺑﻌﻠﺒﮏ ﻟﺒﻨﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﺪﯾﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﮩﺮ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮭﻨﮉﺭﺍﺕ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻮﮐﺖ ﮐﮯ ﻣﻈﮩﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻄﺢِ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ 1150 ﻣﯿﭩﺮ ﺑﻠﻨﺪ ﯾﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﻠﮑﮧٔ ﺑﻠﻘﯿﺲ ﮐﻮ ﺑﮧ ﻃﻮﺭ ﺣﻖ ﻣَﮩﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻗﺼﺮِ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﻮﻧﺎﻧﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ’’ ﺷﮩﺮِ ﺍٓﻓﺘﺎﺏ ‘‘ ﯾﺎ ’’ ﻣﺪﯾﻨۃ ﺍﻟﺸﻤﺲ ‘‘ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ۔ﻧﯿﺰ، ﺭﻭﻣﯽ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻣﯽ ﺣﮑﻢ ﺭﺍﮞ، ﺍٓﮔﺴﭩﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻮﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ 1154 ﻋﯿﺴﻮﯼ ‏( 549 ﮨﺠﺮﯼ ‏) ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺭ ﺍﻟﺪّﯾﻦ ﺯﻧﮕﯽؒ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ۔ 1170 ﻋﯿﺴﻮﯼ ‏( 565 ﮨﺠﺮﯼ ‏) ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺯﻟﺰﻟﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺷﮩﺮ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﻧﺌﮯ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮨﻮﺍ۔ ﯾﮩﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﺎ ﻣﺰﺍﺭ ﮨﮯ۔
ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺭﻭﯾّﮧ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﮐﺶ ﻣﮑﺶ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ’’ ﺗﻔﺴﯿﺮِ ﻣﻈﮩﺮﯼ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺑﻐﻮﯼؒ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺗﻔﺎﺳﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻭﮨﺐ ﺑﻦ ﻣﻨﺒﮧؒ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﻌﺐ ﺍﻻﺣﺒﺎﺭؒ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﺎﺧﻮﺫ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺧﻼﺻﮯ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻗﺪﺭِ ﻣﺸﺘﺮﮎ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ، ﺍُﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻔﺘﯽ ﻣﺤﻤّﺪ ﺷﻔﯿﻊ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ’’ ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ’’ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﻮ ﺑﻌﻞ ﻧﺎﻣﯽ ﺑُﺖ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ، ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ، ﺍﯾﺰﺑﻞ ﻧﮯ ﺍٓﭖؑ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩُﻭﺭ ﺍﻓﺘﺎﺩﮦ ﻏﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺻﮧٔ ﺩﺭﺍﺯ ﺗﮏ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﺭﮨﮯ۔ ﺑﻌﺪﺍﺯﺍﮞ، ﺍٓﭖؑ ﻧﮯ ﺩُﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻗﺤﻂ ﮐﻮ ﺩُﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍٓﭖؑ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﺩِﮐﮭﺎﺋﯿﮟ، ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺍٓﺋﯿﮟ۔ ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﻗﺤﻂ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺍﺧﯽ ﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ’’ ﯾﮧ ﻋﺬﺍﺏ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺯ ﺍٓ ﺟﺎﺋﻮ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﻋﺬﺍﺏ ﺩُﻭﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﭽّﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﮯ۔ ﺗﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﻌﺒﻮﺩ، ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﻧﺒﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍُﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ ﻭﮦ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻣَﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍٓﺳﻤﺎﻧﯽ ﺍٓﮒ ﺍٓ ﮐﺮ ﺑﮭﺴﻢ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺩﯾﻦ ﺳﭽّﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ‘‘ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺎ۔ ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﮐﻮﮦِ ﮐﺮﻣﻞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﺗﮏ ﺑﻌﻞ ﺳﮯ ﺍﻟﺘﺠﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺍٓﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺍٓﮒ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺟﻼ ﮐﺮ ﺑﮭﺴﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﺌﮯ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺣﻖ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﻞ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻧﺒﯽ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ، ﺍﯾﺰﺑﻞ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ، ﺍﻟﭩﯽ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺰﺍﺋﻢ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ، ﺗﻮ ﺍٓﭖؑ ﺭﻭﭘﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣُﻠﮏ، ﯾﮩﻮﺩﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﺑﻌﻞ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﮐﯽ ﻭﺑﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﯿﻞ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﺳُﻨﯽ ،ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﺒﺎﮦ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍٓﭖؑ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺭﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪﺍﻋﻤﺎﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺭﮨﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ۔ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍﻥ، ﺟﻠﺪ 7 ، ﺹ 470 ‏)
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﮐﯽ ﺭُﻭﭘﻮﺷﯽ
ﺣﻀﺮﺕ ﮐﻌﺐ ﺍﺣﺒﺎﺭؒ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻇﻠﻢ ﻭﺳﺘﻢ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺍٓﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻏﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻋﺮﺻﮧ ﺭُﻭﭘﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﺨﺖ ﻧﺸﯿﻦ ﮨﻮﺍ، ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺩﻋﻮﺕِ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺩﯼ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﻖِ ﻋﻈﯿﻢ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺍٓﺋﯽ، ﺻﺮﻑ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺟﻨﮭﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ‏( ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ‏)
ﮐﯿﺎ ’’ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ‘‘ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲؑ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ؟
ﻣﻔﺴﺮّﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﻟﯿﺎﺱ ‘‘ ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻀﺮؑ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ‏( ﺩﺭ ﻣﻨﺸﻮﺭ، ﺝ 5 ، ﺹ 285 ‏) ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﻘﻘّﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﯽ ﺗﺮﺩﯾﺪ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺍٓﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ؑﮐﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﺪﺍ ﺟﺪﺍ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ، ﺍﻟﮓ ﻧﺒﯽ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ، ﺝ 1 ، ﺹ 339 ‏) ۔ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ، ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺒﻮّﺕ ﭘﺮ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﮨﻮﺋﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﮨﻮﺋﮯ، ﯾﻮﮞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮍﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮨﮯ۔ ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﻃﺒﺮﯼؒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺴﻊ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺑﻌﺜﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺰﻗﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﯿﺮﯼ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍُﻥ ﺍﻧﺒﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡؑ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﮦ ﻭ ﺣﺸﻤﺖ، ﺩﻭﻟﺖ ﺛﺮﻭﺕ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺴﺮ ﮐﯽ۔ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺭﮨﯽ۔ ﻣﻼ ﺗﻮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺎ، ﻧﮧ ﻣﻼ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﯽ ﭘﺮ ﮔﺰﺍﺭﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺩﺭﺱ ﻭ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺐ ﯾﺎﺩِ ﺍﻟﮩٰﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ۔ ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺘﺎﺗﯽ، ﺗﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮕﮧ ﻣﯿّﺴﺮ ﺍٓ ﺟﺎﺗﯽ، ﺳﻮ ﺭﮨﺘﮯ۔ ﺳﻔﺮﻧﺎﻣﮧ ﺍﺭﺽِ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﺩﯼٔ ﺳﯿﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ، ﺟﺒﻞِ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ’’ ﻣﻘﺎﻡِ ﺍﻟﯿﺎﺱ ‘‘ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﮨﮯ، ﺟﮩﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺳﺎﻣﺮﮦ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺭﻭﭘﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﭼُﮑﮯ؟
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﭼُﮑﮯ؟ ﻣﻮٔﺭﺧﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮّﯾﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺮِ ﺑﺤﺚ ﺍٓﯾﺎ۔ ﺗﻔﺴﯿﺮِ ﻣﻈﮩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺑﻐﻮﯼؒ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻃﻮﯾﻞ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍٓﺗﺸﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﺗﻔﺴﯿﺮِ ﻣﻈﮩﺮﯼ، ﺝ 8 ، ﺹ 141 ‏) ﻋﻠّﺎﻣﮧ ﺳﯿﻮﻃﯽؒ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﻦِ ﻋﺴﺎﮐﺮؒ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﮐﻢؒ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ، ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﻌﺐ ﺍﻻﺣﺒﺎﺭؒ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻀﺮؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲؑ۔ ‏( ﺩﺭ ﻣﻨﺸﻮﺭ، ﺝ 5 ، ﺹ 285 ‏) ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻀﺮؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪِﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻗﺮﻃﺒﯽ، ﺝ 15 ، ﺹ 116 ‏) ﻟﯿﮑﻦ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮؒ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺤﻘّﻖ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺍِﻥ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻗﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺍِﻥ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ’’ ﯾﮧ ﺍُﻥ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻦ ﮐﯽ ﻧﮧ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﮑﺬﯾﺐ، ﺑﻠﮑﮧ ﻇﺎﮨﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺑﻌﯿﺪ ﮨﮯ۔ ‘‘ ‏( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ، ﺝ 1 ﺹ 338 ‏) ﺑﺎﺋﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍٓﮔﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺍﯾﮏ ﺍٓﺗﺸﯽ ﺭﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺗﺸﯽ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺪﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻠﯿﺎﮦ ﺑﮕﻮﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ‘‘ ‏( 2 ۔ ﺳﻼﻃﯿﻦ 11:2 ‏) ۔ﻗﺮﺍٓﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﯾﺎ ﺍٓﭖؑ ﮐﺎ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮ۔ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﺴﺘﺪﺭﮎ ﺣﺎﮐﻢؒ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﺒﻮﮎ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕﷺ ﮐﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱؑ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﺪّﺛﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺣﺪﯾﺚ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻟﯿﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﮑﻮﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﺤﻀﺮﺕﷺ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ’’ ﻧﮧ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﻭ، ﻧﮧ ﺗﮑﺬﯾﺐ۔ ‘‘ ‏( ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ، ﺝ 7 ، ﺹ 472 ‏

حضور اکرم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا مکان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی مسجد سے ملا ھوا تھا اور گھر کا پرنالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا.. بعض دفعہ پرنالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ھوتی.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا.. اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے..

حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا.. انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا.. سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ھے اس لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ھوں اور مقدمے کی پیروی کریں.. حضر ت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ھوگئے..

حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باھر کھڑے ھو کر انتظار کرنا پڑا.. مقدمہ پیش ھوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہنا چاھا لیکن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ھے کہ وہ پہلے دعوی' پیش کرے..

مقدمے کی کاروائی شروع ھوئی.. حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ " جناب عالی! میرے مکان کا پرنالہ شروع سے ھی مسجد نبوی کی طرف تھا.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگی میں پرنالہ اکھڑوا دیا.. مجھے انصاف فراھم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ھوا ھے.. "

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " بے شک تمہارے ساتھ انصاف ھوگا.. امیر المومنین! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟ "

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں.. نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ھے یہ ناجائز نہیں ھے.. "

ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ھوئے کہ وہ کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اصل بات یہ ھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کر دئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں.. میں نے ایسے ھی کیا.. پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے کندھوں پر کھڑا ھو کر یہاں پرنالہ لگاؤں..

میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے احترام کی وجہ سے انکار کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے بہت اصرار کیا.. میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ھوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے اکھڑوا دیا.. "

قاضی نے پوچھا.. " آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ھیں..؟ "

حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باھر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواھی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑے ھو کر نصب کیا تھا..

مقدمے کی گواھی کے ختم ھونے بعد خلیفہ وقت نگاھیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھے.. یہ وہ حکمران تھے جن کے رعب اور خوف سے قیصر و کسری" بھی ڈرتے تھے..

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا.. " اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو.. مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پرنالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں لگوایا ھے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا.. جو غلطی مجھ سے ھوئی وہ لاعلمی میں ھوئی.. آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کر یہ پرنالہ وھاں لگادیں.. "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " ھاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ھے.. " اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والا حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پرنالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے..

پرنالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا.. " امیر المومنین ! میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے کیا.. جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا.. اب میں آپ سے بےادبی کی معافی مانگتا ھوں.. "

اس کے ساتھ ھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ مکان گِرا کر مسجد میں شامل کرلیں تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ھوئی وہ بھی کم ھوجائے..
بحوالہ " سیرت الانصار "
اللہ سے دعا ھے کہ ھماری عدالتوں کو بھی حق کا فیصلہ دینے کی توفیق دے اور ایسے حکمران بھی دے جو خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں.. آمین..

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شہر ''نینویٰ''کے باشندوں کی ہدایت کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا۔
نینویٰ شہر:۔یہ موصل کے علاقہ کا ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان لوگوں کو ایمان لانے اور بت پرستی چھوڑنے کا حکم دیا۔ مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ عزوجل کے رسول علیہ السلام کو جھٹلادیا اور ایمان لانے سے انکار کردیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں خبر دی کہ تم لوگوں پر عنقریب عذاب آنے والا ہے۔
یہ سن کر شہر کے لوگوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں کہی ہے۔ اس لئے یہ دیکھو کہ اگر وہ رات کو اس شہر میں رہیں جب تو سمجھ لو کہ کوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر انہوں نے اس شہر میں رات نہ گزاری تو یقین کرلینا چاہے کہ ضرور عذاب آئے گا۔ رات کو لوگوں نے یہ دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام شہر سے باہر تشریف لے گئے۔ اور واقعی صبح ہوتے ہی عذاب کے آثار نظر آنے لگے کہ چاروں طرف سے کالی بدلیاں نمودار ہوئیں اور ہر طرف سے دھواں اٹھ کر شہر پر چھا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندوں کو یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہی ہے تو لوگوں کو حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش و جستجو ہوئی مگر وہ دور دور تک کہیں نظر نہیں آئے۔ اب شہر والوں کو اور زیادہ خطرہ اور اندیشہ ہو گیا۔ چنانچہ شہر کے تمام لوگ خوف ِ خداوندی عزوجل سے ڈر کر کانپ اٹھے اور سب کے سب عورتوں، بچوں بلکہ اپنے مویشیوں کو ساتھ لے کر اور پھٹے پرانے کپڑے پہن کر روتے ہوئے جنگل میں نکل گئے اور رو رو کر صدقِ دل سے حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لانے کا اقرار و اعلان کرنے لگے۔ شوہر بیوی سے اور مائیں بچوں سے الگ ہو کر سب کے سب استغفار میں مشغول ہو گئے اور دربارِ باری میں گڑگڑا کر گریہ و زاری شروع کردی۔ جو مظالم آپس میں ہوئے تھے ایک دوسرے سے معاف کرانے لگے اور جتنی حق تلفیاں ہوئی تھیں سب کی آپس میں معافی تلافی کرنے لگے۔ غرض سچی توبہ کر کے خدا عزوجل سے یہ عہد کرلیا کہ حضرت یونس علیہ السلام جو کچھ خدا کا پیغام لائے ہیں ہم اس پر صدقِ دل سے ایمان لائے، اللہ تعالیٰ کو شہر والوں کی بے قراری اور مخلصانہ گریہ و زاری پر رحم آیا اور عذاب اٹھا لیا گیا۔ ناگہاں دھواں اور عذاب کی بدلیاں رفع ہو گئیں اور تمام لوگ پھر شہر میں آکر امن و چین کے ساتھ رہنے لگے۔
اس واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے خداوند قدوس نے قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ:۔
ترجمہ:۔تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ۱۱،یونس:۹۸)
مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو عذاب آجانے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں ہوتا مگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی بدلیاں آجانے کے بعد بھی جب وہ لوگ ایمان لائے تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔
عذاب ٹلنے کی دعا:۔طبرانی شریف کی روایت ہے کہ شہر نینویٰ پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور حضرت یونس علیہ السلام باجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے گھبرا کر اپنے ایک عالم کے پاس گئے جو صاحب ِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر دعا مانگو یَاحَیُّ حِیْنَ لاَ حَیَّ و َیَاحَیُّ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَاحَیُّ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور صاحب ِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینویٰ کا عذاب جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی کہ اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ وَاَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ وَلاَ تَفْعَلْ بِنَا مَانَحْنُ اَھْلُہٗ بہرحال عذاب ٹل جانے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام شہر کے قریب آئے تو آپ نے شہر میں عذاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی قوم میں تشریف لے جایئے۔ تو آپ نے فرمایا کہ کس طرح اپنی قوم میں جا سکتا ہوں؟ میں تو ان لوگوں کو عذاب کی خبر دے کر شہر سے نکل گیا تھا، مگر عذاب نہیں آیا۔ تو اب وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھ کر قتل کردیں گے۔
آپ یہ فرما کر حیرت سے شہر سے پلٹ آئے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے یہ کشتی جب بیچ سمندر میں پہنچی تو کھڑی ہو گئی۔ وہاں کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ وہی کشتی سمندر میں کھڑی ہو جایا کرتی تھی جس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کشتی والوں نے قرعہ نکالا تو حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا۔ تو کشتی والوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور کشتی لے کر روانہ ہو گئے اور فوراً ہی ایک مچھلی نے اللہ کے حکم سے آپ کو نگل لیا اور آپ مچھلی کے پیٹ میں جہاں بالکل اندھیرا تھا قید ہو گئے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یونس علیہ السلام اس مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز رہے یہ ان کو زمین کی تہ تک لے جاتی اور دور دراز کی مسافتوں میں پھراتی رہی ، بعض حضرات نے سات، بعض نے پانچ دن اور بعض نے ایک دن کے چند گھنٹے مچھلی کےپیٹ میں رہنے کی مدت بتلائی ہے (مظہری)
مگر ا سی حالت میں آپ نے آیت کریمہ لَآ اِلٰہَ اِلآَّ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَo(پ۱۷،الانبیاء:۸۷) کا وظیفہ پڑھنا شروع کردیا تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اندھیری کوٹھڑی سے نجات دی اور مچھلی نے کنارے پر آکر آپ کو اُگل دیا۔ اس وقت آپ بہت ہی نحیف و کمزور ہوچکے تھے۔ خدا عزوجل کی شان کہ اُس جگہ کدو کی ایک بیل اُگ گئی اور آپ اُس کے سایہ میں آرام کرتے رہے پھر جب آپ میں کچھ توانائی آگئی تو آپ اپنی قوم میں تشریف لائے اور سب لوگ انتہائی محبت و احترام کے ساتھ پیش آ کر آپ پر ایمان لائے۔
(تفسیر الصاوی،ج۳،ص۸۹۳،پ۱۱، یونس:۹۸)
حضرت یونس علیہ السلام کی اس دردناک سرگزشت کو قرآن کریم نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:۔
ترجمہ:۔اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اُگایا اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا ۔ اور ا ن میں زیادہ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔(پ23،الصافات:139تا148)
نوٹ :۔حضرت یونس علیہ السلام کی دل ہلا دینے والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو کس کس طرح امتحان میں ڈالتا ہے۔ لیکن جب بندے امتحان میں پڑ کر صبر وا ستقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الرٰحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرما دیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ غور کیجئے کہ حضرت یونس علیہ السلام کو جب کشتی والوں نے سمندر میں پھینک دیا تو ان کی زندگی اور سلامتی کا کون سا ذریعہ باقی رہ گیا تھا؟ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا تو اب بھلا ان کی حیات کا کون سا سہارا رہ گیا تھا؟ مگر اسی حالت میں آپ نے جب آیت کریمہ کا وظیفہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ و سلامت رکھا اور مچھلی کے پیٹ سے انہیں ایک میدان میں پہنچا دیا اور پھر انہیں تندرستی و سلامتی کے ساتھ اُن کی قوم اور وطن میں پہنچا دیا۔ اور ان کی تبلیغ کی بدولت ایک لاکھ سے زائد آدمیوں کو ہدایت مل گئی۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ توبہ استغفار سے عذابات اور بلائیں بھی ٹل جاتی ہیں۔ جیسے شہر نینویٰ کے لوگوں کے توبہ وا استغفار سے عذاب الہی ٹل گیا۔