حضور اکرم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا مکان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی مسجد سے ملا ھوا تھا اور گھر کا پرنالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا.. بعض دفعہ پرنالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ھوتی.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا.. اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے..

حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا.. انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا.. سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ھے اس لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ھوں اور مقدمے کی پیروی کریں.. حضر ت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ھوگئے..

حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باھر کھڑے ھو کر انتظار کرنا پڑا.. مقدمہ پیش ھوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہنا چاھا لیکن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ھے کہ وہ پہلے دعوی' پیش کرے..

مقدمے کی کاروائی شروع ھوئی.. حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ " جناب عالی! میرے مکان کا پرنالہ شروع سے ھی مسجد نبوی کی طرف تھا.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگی میں پرنالہ اکھڑوا دیا.. مجھے انصاف فراھم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ھوا ھے.. "

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " بے شک تمہارے ساتھ انصاف ھوگا.. امیر المومنین! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟ "

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں.. نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ھے یہ ناجائز نہیں ھے.. "

ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ھوئے کہ وہ کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اصل بات یہ ھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کر دئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں.. میں نے ایسے ھی کیا.. پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے کندھوں پر کھڑا ھو کر یہاں پرنالہ لگاؤں..

میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے احترام کی وجہ سے انکار کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے بہت اصرار کیا.. میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ھوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے اکھڑوا دیا.. "

قاضی نے پوچھا.. " آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ھیں..؟ "

حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باھر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواھی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑے ھو کر نصب کیا تھا..

مقدمے کی گواھی کے ختم ھونے بعد خلیفہ وقت نگاھیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھے.. یہ وہ حکمران تھے جن کے رعب اور خوف سے قیصر و کسری" بھی ڈرتے تھے..

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا.. " اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو.. مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پرنالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں لگوایا ھے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا.. جو غلطی مجھ سے ھوئی وہ لاعلمی میں ھوئی.. آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کر یہ پرنالہ وھاں لگادیں.. "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " ھاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ھے.. " اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والا حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پرنالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے..

پرنالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا.. " امیر المومنین ! میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے کیا.. جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا.. اب میں آپ سے بےادبی کی معافی مانگتا ھوں.. "

اس کے ساتھ ھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ مکان گِرا کر مسجد میں شامل کرلیں تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ھوئی وہ بھی کم ھوجائے..
بحوالہ " سیرت الانصار "
اللہ سے دعا ھے کہ ھماری عدالتوں کو بھی حق کا فیصلہ دینے کی توفیق دے اور ایسے حکمران بھی دے جو خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں.. آمین..

Share To:

Post A Comment:

0 comments so far,add yours